تازہ ترین
Home >> مضامین >> کوئی بتائے کہ ہم کھائیں کیا۔۔۔۔؟۔پروفیسررفعت مظہر
Qashqar Lab

کوئی بتائے کہ ہم کھائیں کیا۔۔۔۔؟۔پروفیسررفعت مظہر

بچپن کے وہ دِن ہماری یادوں کا انمول سرمایہ ہیں جب اخوت و محبت سمیت ہر شے خالص ہوا کرتی تھی ۔شہروں کے مختلف محلے ایک ہی خاندان کا سا منظر پیش کرتے تھے اور اُن کے باسی دُکھ سُکھ کے ساجھی ۔ ایک گھر کی شادمانی پورے محلے کی خوشیوں کی علامت اور دُکھوں کی کربناک گھڑیاں بھی مشترک۔ ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ صبح سویرے جب کچن سے دیسی گھی کے پراٹھوں کی مہکار ہماری سانسوں کے ذریعے دماغ تک پہنچتی تو ہماری آنکھیں خود بخود کھُل جاتیں اور ہم جلدی جلدی مُنہ ہاتھ دھو کر کچن میں گھُس جاتے جہاں پراٹھے ،مکھن اور دہی کا ناشتہ ہمارا منتظر ہوتا ۔ ہمارے نہ ،نہ کرنے کے باوجود بھی پراٹھوں کے لقمے ہمارے مُنہ میں مامتا کی انگلیوں کی پوروں کے ذریعے داخل ہو جاتے ۔ تب کئی بار ہمیں غصّہ بھی آتا کہ پیٹ میں گنجائش نہیں ، پھر بھی امّی زبردستی کھلائے جا رہی ہیں ۔آج جب وہ لمحے یاد آتے ہیں تو ہمیں مامتا کا ادراک ہوتا ہے اورماں کی یاد بھی بُری طرح ستانے لگتی ہے۔
وقت گزرتا گیا ،ہم بڑے ہوتے گئے ،رسوم بدلیں ،رواج بدلے اور بالآخر جدیدیت کی آڑ میں سب کچھ بدلتا چلا گیا ۔نہ وہ خلوص باقی بچا اور نہ ہی وہ اخوت و محبت کے رشتے ، اِن سب کو حبِ دنیا نے نِگل لیا ۔اب اگر پڑوس میں مرگ ہو جاتی ہے تو باپ گھر والوں کو صرف اتنی ہدایت کرتا ہے کہ پڑوس میں مرگ ہو گئی ہے ، ٹی وی کی آواز تھوڑی کم کر دو۔ اِس دَورِ جدید نے جہاں اخوت و محبت کو نگلا ،وہیں دولت کمانے کی دَوڑ نے انسان کو لازمۂ انسانیت سے تہی کر دیا۔ آہستہ آہستہ نہ صرف خلوص بلکہ اشیائے خورونوش میں بھی ملاوٹ ہوتی چلی گئی ۔ اللہ کے نام پر حاصل کیے گئے اِس ملک کا اب یہ حال ہے کہ یہاں سیاست سے ثقافت تک ملاوٹ ہی ملاوٹ ہے ۔ کوئی ہمیں اگر یہ بتا دے کی سوائے بے ایمانی کے پاکستان میں کون سی چیز خالص ہے تو ہم اُس کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کر دیں گے ۔
یوں تو ہمیں الیکٹرانک میڈیا بہت پسند ہے اور ہم نیوز چینلز بڑے شوق سے دیکھتے ہیں لیکن پچھلے کچھ عرصے سے الیکٹرانک میڈیانے جو وتیرہ اختیار کر رکھا ہے ، وہ تو ہمیں بھوکا مارنے کے مترادف ہے ۔ روز انہ تقریباََ ہر نیوز چینل اشیائے خورونوش کی کسی نہ کسی شے کو فوکس کرکے ایسے ایسے ’’دل پذیر‘‘مناظر دکھاتا ہے کہ اُبکائیاں آنا اظہر مِن الشمس ۔ مسلمان بنیادی طور پر گوشت خور ہوتا ہے اور ہمیں تو گوشت پسند ہی بہت ہے لیکن جب سے الیکٹرانک میڈیا کی بدولت ہمیں پتہ چلا ہے کہ ہمیں دَھڑادَھڑ کُتّوں اور گدھوں کا گوشت کھلایا جا رہا ہے ، تب سے ہم نے گوشت کھانے سے توبہ کر لی ہے ۔ ویسے تو پاکستان میں گدھوں کی کمی نہیں ،ایک ڈھونڈو ،ہزار ملتے ہیں لیکن آجکل اِن کی شامت آئی ہوئی ہے ۔گدھا لاکھ ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا رہے ،فنکار اُس کی کھال اتار کر رفوچکر ہو جاتے ہیں ۔ گوشت اُس کا قصاب کی دُکان پر بکرے کے گوشت کے بھاؤ بکتا ہے اور یوں گدھوں کی قیمت کو بھی پَر لگ گئے ہیں ۔قصاب کی دُکان پر جا کر ہم افلاطونی غوروفکر کرنے لگتے ہیں کہ بکرے ، گدھے کی پہچان کیسے ہو ؟۔ ننگ دھڑنگ بڑا بکرا ہمیں گدھا لگتا ہے اور چھوٹا بکرا کتا کہ اب مسلمانوں کو کتے کا گوشت بھی ملتا ہے ۔گدھا تو خیر ہوتا ہی ’’گدھا‘‘ ہے لیکن کتا تو وفادار جانور ہے ،اِس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ؟۔ویسے کئی کتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے مالک پر ہی بھونکنے لگتے ہیں ۔ایسے کتوں کو ’’لوٹا کتا ‘‘ بھی کہا جاتا ہے جِن کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی ۔ اِن کو تو فقط ہڈی چاہیے ،خواہ وہ کسی گھر سے ملے ،کسی دَر سے ملے ۔قصّہ مختصر یہ کہ اب ہمیں گوشت سے نفرت سی ہو چلی ہے ۔برائلر ہمیں ویسے ہی پسند نہیں اور دیسی مرغ نایاب ۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں مُردہ مرغیاں یوں پکائی جاتی ہیں جیسے یہ آسماں سے ہی حلال کرکے زمیں پر بھیجی گئی ہوں ۔۔۔۔۔ کوئی بتائے کہ اب ہم کھائیں کیا ۔
پچھلے دنوں معدے کی تکلیف کی وجہ سے ہم نے ایک ڈاکٹر صاحب سے رجوع کیا ۔اُنہوں نے ہمیں نمک ،مرچ سے پرہیز کرتے ہوئے دودھ اور بسکٹ کھانے کا مشورہ دیا ۔ ہم نے بصد ادب کہا کہ پاکستان میں تو خالص دودھ بقدرِ اشکِ بلبل بھی دستیاب نہیں البتہ یوریا کھاد سے بنایا گیا دودھ ’’سَرِعام‘‘ ہے۔ یہ دودھ جب معدے میں پہنچتا ہے تو یوریا کے زیرِ اثر معدے کی ساری جڑی بوٹیاں لہلہانے لگتی ہیں۔اب آپ ہی بتائیں کہ ہم خالص دودھ لائیں کہاں سے؟۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ’’یہ میرا مألہ نہیں‘‘۔ ہم پریشانی کے عالم میں دودھ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ۔ ہم نے بند ڈبے کا دودھ استعمال کرنے کے بارے میں بھی سوچا لیکن الیکٹرانک میڈیا پر اِس کی بھی بہت سی کہانیاں آ چکی تھیں اِس لیے اِس سے توبہ کر لی ۔بسکٹوں کا تو کوئی مئلہ نہیں تھا ۔ یہ تو ہر چھوٹے بڑے سٹور پر دستیاب ہیں لیکن دودھ کا مألہ فیثاغورث لگا ۔بعد از خرابئ بسیار ہم منتوں ،ترلوں اور سفارشوں سے دو لِٹر خالص دودھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے ۔بڑے اہتمام کے ساتھ ہم نے گرماگرم دودھ سامنے رکھ کے بسکٹ کا ڈبہ کھولا تو ایک نیوز چینل پر بریکنگ نیوزآنے لگی ۔ خبر یہ تھی کہ انڈوں سے پاؤڈر بنانے والی فیکٹری جو ساری بسکٹ اور خورونوش کی دیگر فیکٹریوں کو انڈوں کا پاؤڈر سپلائی کرتی ہے ،اُس کے سارے ہی انڈے نہ صرف گندے تھے بلکہ کئی انڈوں سے تو چوزے بھی نکلے ہوئے تھے ۔اقبالؒ نے کہا تھا
اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
لیکن یہاں تو نئی ،پرانی تہذیب کا جھگڑا ہی ختم ،گندے انڈوں کو باہر گلی میں پھینکنے کی بجائے پوری قوم گندے انڈوں پر لگا دی گئی۔ ویسے پاکستان میں ’’گندے انڈوں ‘‘کی کوئی کمی نہیں۔ اِس معاملے میں ہم مکمل طور پر خودکفیل ہیں اور گلیوں ،بازاروں ،چوراہوں اور شاہراہوں پر یہ تھوک کے حساب سے پائے جاتے ہیں اِس لیے اِن کا قلع قمع ناممکن ہے۔
بات اگر صرف گندے انڈوں تک ہی محدود رہتی تو ہم کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتے لیکن اِن انڈوں کے پاؤڈر سے تو بیکری کی ہر شے تیار ہوتی ہے ،گویا اب بیکری سے تیار کردہ اشیاء کا بھی بائیکاٹ ۔ہم نے تین دنوں تک فروٹ کا بائیکاٹ کر کے بھی دیکھ لیا جس کا ’’کَکھ‘‘ اثر نہ ہوا ۔اگر بازاری فروٹ چاٹ کی طرف رجوع کریں توآمدہ اطلاعات کے مطابق تمام گلا سڑا فروٹ بازاری چاٹ ہی میں تو استعمال ہوتا ہے ۔ہوٹلوں کا کھانا ہم کھا نہیں سکتے کہ ہمارا پیارا الیکٹرانک میڈیا ہوٹلوں کے مطبخ خانوں (کچن) میں اٹھکیلیاں کرتے حشرات الارض دکھا چکا ہے ۔مشروبات میں خطرناک کیمیکلز کا دھڑا دھڑ استعمال ہو رہا ہے ۔اُنہیں پی کر اگر بیمار پڑ جائیے تو ادویات جعلی اور ایکسپائرڈ ۔اب ایسی خوراک کھا کرصورتِ حال کچھ یوں بنتی ہے کہ
پڑیے گَر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار
اور اگر مَر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
معزز قارئین ! اگر ایسی خوراک کھا کر آپ خود بیمار نہ پڑے ہوں تو ہمیں بتائیں کہ’’ اب ہم کھائیں کیا‘‘۔