37

کپتان کی کمزور انٹری ۔۔۔۔کریم اللہ

لفظ کپتان سنتے ہی بہت سارے لوگوں کے ذہن میں چیرمین پاکستان تحریک انصاف جناب عمران خان کا نام آتا ہے۔ اور شائد بہت سے قارعین اس تحریر کو کریکٹ کے سابق کپتان عمران خان کے حالیہ دورہ چترال کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن تحریر ہذا میں ہم جس کپتان کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ وہ چترال پولو کے نامور کھلاڑی اور پولو ٹیم کے کپتان اور رقاص شہزادہ سکندر الملک ہے۔ جس نے پانچ جولائی دو ہزار سترہ عیسوی کو اپنے گھر مستوج میں چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان، وزیر اعلی کے پی پرویز خٹک ، پی ٹی آئی کے سنئیر قیادت اور صوبائی وزراء کی موجودگی میں تبدیلی خان کے ہاتھ میں بیعت کرلی۔ پاکستان تحریک انصاف کئی عرصے سے سب ڈویژن مستوج کی سطح پر کسی ہیوی ویٹ کی تلاش میں تھی۔ اور سال دو ہزار پندرہ کے بلدیاتی انتخابات میں ہی سابق تحصیل ناظم مستوج شہزادہ سکندر الملک کو ٹکٹ دینے کی کوشش ہوئی، لیکن سب ڈویژن مستوج کے پرانے ورکرز نے بھر پور مذاحمت کی۔ یوں پی ٹی آئی چترال شہزادہ سکندر الملک کو اپنے ساتھ ملانے میں ناکام رہی۔ بالآخر خان صاحب کے دورۂ چترال کے موقع پر سکندر الملک کی انٹری یقینی ہوگئی۔ گو کہ پارٹی کے اندر اب بھی ان کی مخالفت ہورہی تھی لیکن چونکہ خان صاحب خود الیکٹیبلز کی تلاش میں ہے۔ ساتھ ہی سب ڈویژن کی سطح پر کسی مضبوط شخصیت کو پی ٹی آئی میں شامل کرنے کو ضلعی قیادت ناگزیر خیال کرتے تھے انہی وجوہات کی بنا پر ہی سکندر الملک کی انٹری ہوگئی۔
شہزادہ سکندرہ الملک کی اس انٹری کے خلاف بھی پی ٹی آئی کے اندر دو دھڑے بنے ہوئے ہیں ایک دھڑا اس کی شمولیت کو رحمت خیال کررہے ہیں۔ جبکہ دوسرا اس طرز عمل کو موروثی سیاست سے تعبیر کرکے اس کی بھر پور مخالف ہیں۔ مخالفت دھڑے نے ان کے خاندان اور والد محترم سابق گورنر مستوج کرنل خوشوخت الملک کا نام لے کر اسے موروثی سیاست دان کا طعنہ دے رہے ہیں۔ شہزادہ سکندر الملک سمیت کٹور خاندان کی سیاست سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ البتہ شہزادہ سکندر الملک بالخصوص آپ کے والد محترم کوئی روایتی کٹورے نہیں تھے اور نہ ہی وہ اپنی گورنری میں اپنے آباد اجداد کے طرز حکمرانی پر عمل پیرا رہے، بلکہ سابق گورنر مستوج خوشوخت الملک مرحوم تو سرتا پا اسٹیٹس کو کے خلاف رہے۔ مستوج کے یوفت گھرانے کی صاحبزادی سے شادی ہو یا چترال میں ریاست کے خاتمے اور جمہوری نظام کی بحالی تک ہر تحریک میں خوشوخت الملک مرحوم پیش پیش رہے۔ سرغوز سے تعلق رکھنے والے تحریک آزادی کے نامور مجاہد دوردانہ خان آپ ہی کے ایماء پر ریاست کے خلاف دستاویزات پشاور پہنچاتے تھے۔ جبکہ مسلم لیگ کے سرگرم رکن اور ریاست مخالف تحریک کے رہنما چاولیو آف مستوج کے ساتھ بھی خوشوخت الملک مرحوم کے انتہائی قریبی تعلقات رہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ خوشوقت الملک مرحوم ریاست کے خاتمے اور جمہوری سیاسی نظام کے لئے جدوجہد میں پیش پیش تھے۔ ان سارے معروضات کو پیش کرنے کا مقصد حسن ماضی کو یاد کرنا نہیں بلکہ تمام تر سیاسی و نظریاتی اختلاف کے باؤجود سکندرالملک کے شخصیت کے ان پہلووں کو اجاگر کرنا ہے جو بوجوہ ہم سب کی نظروں سے اوجھل ہے۔
اس کے علاوہ شہزادہ سکندرہ الملک کو چترال کا اسپورٹس آئیکون کہا جائے تو بے جا نہ گا آپ کہوار دھنوں کے ماہر رقاص بھی ہیں۔ کٹور خاندان کا لاڈلہ شہزادہ سکندر الملک ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے ماں اور بے انتہا روایت شکن اور سیکولر روشن خیال والد کا بیٹا بھی ہے،گو کہ سکندر الملک خود والد کے برعکس قدامت پسند واقع ہوئے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی کامیابیوں اور ناکامیوں پر کامجموعہ ہے۔ اب وہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لیا ہے تو موجودہ صورتحال میں انہیں پارٹی کے نظریاتی ورکروں کے سامنے خود کو منوانے کے لئے بہت زیادہ محنت درکار ہے۔ پرانے محلاتی سیاست کا دور تقریبا ختم ہوچکا ہے۔ اگر کسی بھی سیاسی رہنما کو کامیابی چاہئے تو انہیں سخت محنت ، نظریاتی ورکرز سے تعلق اور عوامی سیاست کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ بصورت دیگر سیاسی میدان میں صرف مشکلات نہیں بلکہ ناکامیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی چل نکلے گا۔
جب پولو کپتان عمران خان کو اپنے گھر بلا کر پی ٹی آئی میں شمولیت کے لئے تقریب منعقد کیا تو اس شمولیتی اجلاس میں علاقے کے لوگوں کی بہت قلیل تعداد موجود تھی جو کہ کپتان کی کمزور انٹری کا عکاس ہے۔ جس کا تذکرہ اشارۃ خان صاحب نے سب ڈویژن مستوج کو ضلع کا درجہ دینے کے مطالبے پر یہ کہتے ہوئے کیا کہ اتنے اہم اعلان کے لئے یہ جلسہ کافی نہیں۔ اس بیان کے بعد شہزادہ سکندرہ الملک کو بھی پیغام گیا کہ جس پوزیشن میں آپ نے ہمارے سفر میں شریک ہوئے دوہزار آٹھارہ کے معرکہ کے حوالے سے یہ ایک کمزور پوزیشن ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سکندر الملک صاحب پی ٹی آئی کو سب ڈویژن مستوج میں مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں یا ماضی میں اپنی تحصیل نظامت کی مانند صرف پولو کھیلنے اور ناچ گانوں ہی پر گزارہ کرتے ہیں۔البتہ اس مرحلے میں چیلنجز بے شمار ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email