تازہ ترین
Home >> مضامین >> کشمیرکیسے آزاد ہوگا؟۔۔۔۔۔مولانا محمد جہان یعقوب

کشمیرکیسے آزاد ہوگا؟۔۔۔۔۔مولانا محمد جہان یعقوب

کشمیر کے باسیوں کی غلامی ومحکومی کی داستان کافی پرانی ہے،تقریباًمارچ 1846ء کی بات ہے ،انگریزوں نے ایک معاہدے کے تحت،جسے معاہد�ۂ امرتسر کہا جاتا ہے،ریاست جموں وکشمیر ڈوگرہ گلاب سنگھ کے ہاتھ معمولی سی قیمت پر،فروخت کردی،تب سے اس ریاست پر ڈوگرہ راج کی صورت میں سکھوں کی حکم رانی تھی۔غلامی ومحکومی کا داغ تو تب سے اہل کشمیر سہہ ہی رہے تھے ،لیکن 1925ء میں،جب کہ ڈوگرہ ہری سنگھ کا دور اقتدار تھا،کشمیر کے مسلمانوں کو بطور خاص مشق ستم بنایا گیا۔اسی کے رد عمل میں تحریک آزادئ کشمیر کی بنیاد پڑی اور اسی سال شیخ محمد عبداللہ نے ریڈنگ روم پارٹی کے نام سے پہلی مسلم تنظیم بنائی،ان کے بعدچوہدری غلام عباس مرحوم نے کرینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کو منظم کیا۔1931 ء میں دیاسی کے مقام پر ایک مسجد شہید کر دی گئی۔اسی سال مسلمانوں کو کوٹلی میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روک دیا گیا۔ایک ہندو کانسٹیبل نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی،ان مظالم پر صدائے احتجاج بلند کرنے کی پاداش میں مسلم رہنما عبدالقدیر کو گرفتار کرلیا گیاجس جیل میں عبدالقدیر کو رکھا گیا، اس کا محاصرہ کرنے پر 27 مسلمان شہید کر دیے گئے۔اسی سال 25 جولائی کو علامہ محمد اقبالؒ کی موجودگی میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی گئی، اس اجلاس میں خواجہ حسن نظامی، اے آر ساغر، اسماعیل غزنوی جیسی قدر آور شخصیات موجود تھیں۔بدقسمتی سے اس کمیٹی کا صد قادیانی رہنما مرزا بشیر الدین محمود کو بنایا گیا،اور مرزا بشیر الدین نے اس انتخاب کو اپنی حقانیت کی دلیل کے طور پر خوب استعمال کیا جس کے نتیجے میں کافی مسلمان قادیانی ہوگئے۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے امیر شریعت علامہ سید عطااللہ شاہ بخاریؒ نے ملک کے طول و عرض کے ہنگامی دورے کیے، قادیانی عزائم کا پردہ چاک کیا، جس کے نتیجے میں قادیانیت قبول کرنے والے تمام لوگ دوبارہ مسلمان ہو گئے۔علامہ محمد اقبالؒ نے جب دیکھا کہ کشمیر کمیٹی قادیانی عزائم کے لیے کام کر رہی ہے، تو مستعفی ہو گئے۔اسی سال پہلی مرتبہ ڈوگرہ راج کی سخت نگرانی کے باوجود 14 اگست 1931کو یوم کشمیر (کشمیر ڈے) منایا گیا۔یاد رہے کہ اب جو پانچ فروری کو یوم یکجہت�ئ کشمیر یا کشمیر ڈے منایا جاتا ہے،یہ بہت بعد کی بات ہے۔اس کاآغاز 1990 کو ہوا۔ بھارتی مظالم کو دیکھ کر امیرجماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے قوم سے اپیل کی کہ یوم یکجہتی کشمیر کے نام سے یہ دن منایا جائے۔ میاں محمد نواز شریف جو اس وقت وزیراعلی پنجاب تھے ،نے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور قاضی حسین کی آواز پر لبیک کہی۔قاضی حسین احمد اور نوازشریف کی کال پر 5 فروری 1990 کو کشمیریوں کے ساتھ زبردست یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا،ملک گیر ہڑتال ہوئی اور ہندوستان سے کشمیریوں کو آزادی دینے کا مطالبہ کیاگیا۔ اس روزگھروں ، مسجدوں میں اور عبادت گاہوں میں اور دینی مدارس وجامعات اور عصری تعلیم گاہوں میں کشمیر کی آزادی کے لیے لڑنے والوں اور جہاد کشمیر کی کامیابی کے لیے دعائیں بھی مانگی گئیں۔
آمدم برسر مطلب!مجلس احرار کے قائدین نے 1931 ء میں ہری سنگھ حکومت سے افہام و تفہیم کے ساتھ معاملات حل کرنے کیلئے مذاکرات کیے، مگر حکومت نے انکار کر دیا۔قائدین احرار کی کال پر پنجاب سے دس ہزار سے زائد نوجوان گرفتاریاں دینے جموں پہنچ گئے۔میرپور میں ایک مسلمان کارکن کو سرعام ایک ڈوگرہ افسر نے قتل کر دیا۔ 30 مجاہدین نے تین دن کی انتھک محنت کے نتیجے میں دریائے جہلم پر کوہالہ پل پر قبضہ کرکے اسے بند کر دیا جو کشمیر کے ساتھ تجارت کی واحد شاہراہ تھی۔گجرات اور گورداس پور کے مکینوں نے بھی تحریک کا آغاز کر دیا، تاہم ہندوں کی اکثریت کی بنا پر کامیابی نہ ہو سکی۔مہاراجہ کی درخواست پر برطانوی حکومت بھی مجاہدین کے خلاف اس کی پشتی بانی کرنے لگی۔مسلمانوں نے اس قدر گرفتاریاں پیش کیں کہ جیلیں کم پڑ گئیں اور احرار کے دفاتر کو سب جیل قرار دیا گیا۔ان قربانیوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ سربی جے گلینسی کی قیادت میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا جس میں مسلمانوں کی نمایندگی چوہدری غلام عباس کر رہے تھے، کمیشن کے مقاصد میں ریاست میں بسنے والے مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لینا، ان کے حقوق کی نشان دہی اور شہداکے کوائف وغیرہ جمع کرنا شامل تھا۔کمیشن کی تجویز اور انگریزوں کے پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے دبا کے تحت مہاراجہ نے 75 رکنی ایک اسمبلی قائم کی، جس میں 21 مسلمان رہنما بھی شامل تھے۔
1933ء میں پتھر مسجد سری نگر میں جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آیا، جس کا صدر شیخ محمد عبداللہ اور جنرل سیکریٹری چوہدری غلام عباس کو منتخب کیا گیا۔ 1934ء میں راشٹریہ سیوک سنکھ نے حکومتی چھتری تلے مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ 1935ء میں شیخ عبداللہ مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔عوام اپنے قائدین شیخ عبداللہ، چوہدری غلام عباس اور اے آر ساغر کی قیادت میں منظم ہونے لگے۔1939ء میں گاندھی اور جواہر لال نہرو کی کوششیں، نیز نگاہوں کو خیرہ کرنے والی حکومتی مراعات کی پیشکش رنگ لائی اور مسلمانوں کے چوٹی کے رہنما شیخ محمدعبداللہ نے وفاداریاں تبدیل کر لیں اور مسلم کانفرنس کے خلاف کشمیر نیشنل پارٹی، جو درحقیقت کانگریس کی بی ٹیم تھی، کی داغ بیل ڈال دی۔مسلم کانفرنس چوہدری غلام عباس کی قیادت میں جانب منزل گامزن رہی اور تمام تر سازشوں کے باوجود 1945کے انتخابات میں 80 فیصد نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ڈوگرہ راج نے اس صورت حال سے بدحواس ہو کر مسلم کانفرنس پر پابندی لگا دی۔
1946ء کو منظور ہونے والے تقسیم ہند کے فارمولے میں جن 562 ریاستوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ پاکستان یا ہندوستان میں سے جس ملک سے چاہیں الحاق کر لیں، ان میں خطہ کشمیر بھی شامل تھا۔ جموں میں 80 فیصد مسلمان بستے تھے اور سب کی اولین خواہش یہی تھی کہ وہ پاکستان کا حصہ بنیں۔ پونچھ میں 95 فیصد مسلمان بستے تھے اور ان سب کی اولین خواہش تھی کہ یہی وہ پاکستان کا حصہ بنیں۔اس کی پاداش میں جموں کے مسلمانوں کا قتل عام کرکے انہیں شہید کر دیا گیا۔پونچھ کے مسلمانوں نے سردار محمد عبدالقیوم کی قیادت میں مزاحمت کی اور افواج کو عبرت ناک شکست دی۔ کیپٹن فیروز خان اور میجر نصراللہ جیسے شیر دل کمانڈروں کی سرکردگی میں لڑے جانے والے ان معرکوں کے نتیجے میں بھمبر، میرپور، مینڈھیر، راجوری اور نوشہرہ کو بھی آزادی حاصل ہو گئی۔ادھر پاکستانی قبائل میں ڈوگرہ راج کے خلاف بھڑکنے والی آتش انتقام نے اپنا کام دکھا دیا اور 4 اکتوبر 1947میں ہزاروں وزیر، محسود اور آفریدی قبائل بٹراسی کے جنگلات میں جمع ہو گئے اور 20 اکتوبر کی شب مجاہدین نے میجر خورشید انور اور خوش دل خان کی کمان میں پیش قدمی کا آغاز کیا اور کوہالہ، دومیل اور مظفرآباد کو فتح کرتے ہوئے بارہ مولا اور سری نگر تک پہنچ گئے۔ 24 اکتوبر کو مجاہدین نے سری نگر سے 35 میل پہلے مہورہ کا پاور ہاس اڑا دیا، جس سے پورا شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔خطہ کشمیر آزادی سے محض چند گھنٹوں کے فاصلے پر تھا اور سری نگر ائیرپورٹ پر قبضے کی گھڑی قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی کہ اچانک کایا پلٹ گئی۔تاریکی کا فائدہ اٹھا کر مہاراجہ جموں کی طرف فرار ہوگیا اور یہاں پہنچ کربھارت سے مدد کا خواستگار ہوا۔بھارت نے امداد کواس شرط کے ساتھ مقید کر دیا، کہ راجہ جموں و کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دے اور بزدل راجہ نے الحاق کی دستاویز پر دستخط کردیے۔بھارت نے یکایک حملے شروع کر دیے اور مجاہدین کو ان کے باہمی افتراق کی بدولت پسپا کر دیا۔یوں ریاست جموں و کشمیر پاکستان کی گود میں آتے آتے بھارت کے غاصبانہ قبضے میں چلی گئی، وہ دن ہے اور آج کا دن، مسلمان لاکھوں کی تعداد میں قربانی دینے کے باوجود آزادی حاصل نہیں کر سکے۔ہر چند کہ اس مسئلے پر ہر سطح پر مذاکرات اور معاہدے ہوئے مگر بھارت ٹس سے مس نہیں اور اس نے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ، جورو جبر اور تشدد و فرعونیت کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔یہ ایک یقینی امر ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق کبھی بھی مذاکرات کی تھالی میں رکھ کر پیش نہیں کیا جائے گا، اگر ایسا ہوتا تو اب تک یہ حق دیا جا چکا ہوتا۔
مارچ 1949میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے افواج کے انخلا کا پروگرام پیش کیا، مگر بھارت نے صاف انکار کر دیا۔اگست 1949میں ایڈمرل نمسٹر کی ثالثی اور فوجوں کے انخلا کا فیصلہ پاکستان نے تسلیم کیا، مگر بھارت نے اسے مسترد کر دیا۔دسمبر 1949میں سلامتی کونسل کی تجاویز کو پاکستان نے منظور اور بھارت نے مسترد کر دیا۔1951سے 1958تک ڈاکٹر گراہم کے پیش کردہ فارمولوں کوپاکستان منظور اور بھارت مسترد کرتا رہا۔خلاصہ یہ کہ 1947 ء سے لے کر 1965 ء تک یہ مسئلہ 132 مرتبہ زیر بحث لایاگیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔اب بھی صورت حال جوں کی توں ہے، لہٰذا ان حقائق کے پیش نظر یہ دعوی ٰبے محل نہیں کہ کشمیر مذاکرات اور معاہدوں سے نہیں، بلکہ جہاد فی سبیل اللہ سے آزاد ہوگا۔ابھی یوم کشمیر کے موقع پر ایک سابق بھارتی وزیر اور کانگریس کے رہ نما مانی شنکر آئر کا وہ بیان جو انھوں نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بیٹھ کر دیا ہے ،ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت مسائل مذاکرات سے حل کرنا پاکستان کی پالیسی ہے، مگر بھارت کی پالیسی نہیں۔اس کے بعد بھی مذاکرات ،مذاکرات کی رٹ لگانا اور دوسری طرف کشمیر میں تن من دھن لٹاکر اپنے مظلوم ومقہور بھائی بہنوں کی آزادی کے لیے شب وروز کوششیں کرنے والی جماعتوں کو دہشت گرد قرار دینا یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ہمارے حکم ران اور بیوروکریسی میں بیٹھے پالیسی ساز کشمیر کی آزادی سے کس حد تک مخلص ہیں!


error: Content is protected !!