89

چترال میں الگ یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں وزیراعظم سے بات ہوئی ہے۔سید احمد خان

چترال(نمائندہ ڈیلی چترال)چترال میں الگ یونیورسٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف چترال کی ترقی میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔اور چترالی بچوں اور بچیوں کی اعلیٰ تعلیم میں اُن کی مدد اور مواقع فراہم کرنا وزیراعظم پاکستان اور مسلم لیگ(ن) کی اولین ترجیح ہے۔یہ باتیں مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر سید احمد خان نے شہید بے نظیر یونیورسٹی کیمپس چترال میں وزیراعظم طلباء فیس واپسی اسکیم کے تحت طلباء اور طلبات میں چیک اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔
تقریب سے ڈاریکٹر ایڈمین (ایس بی بی یو) عدنان،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ضلعی ترجمان نیاز اے نیازی ،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدالولی خان ایڈوکیٹ،مسلم لیگ خواتین ونگ چترال کے صدر مس بی بی جان،پروفیسر ظہور الحق دانش اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری جنرل صفت زرین وغیرہ نے خطاب کیا۔سید احمد خان نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعہ چترال کو وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ملارہے ہیں۔چکدرہ چترال روڈ اور چترال گرم چشمہ روڈ کی تعمیراور لواری ٹنل دسمبر 2016تک تعمیر کا وزیراعظم کا اعلان اُسی کی کڑی ہے۔اُنہوں نے کہا وزیراعظم کے فیس معافی اسکیم اُن کے غریب طلباء کے ساتھ علم دوستی کا ثبوت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس اسکیم سے لاکھوں طلباء مستفید ہورہے ہیں۔اُنہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لئے چترال یونیورسٹی کے قیام پر زور دیا اور کہا چترال میں 80سے زیادہ کالجز اور ہزاروں طلباء کی موجودگی میں ایک یونیورسٹی کا قیام کوئی بڑی بات نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخواہ مہتاب خان عباسی نے یونیورسٹیز کو فیسیں نہ لینے کا نوٹفیکیشن جاری کیا ہے اس سلسلے میں ایس بی بی یو یونیورسٹی شرینگل کو مذکورہ نوٹفیکیشن نہ ملنے کے بارے میں گورنر سے خو دبات کرینگے۔تقریب کے آخر میں طلبا و طالبات میں فیس واپسی چیک اور سرٹیفیکٹس تقسیم کئے گئے۔سید احمد خان نے طلباء کے لئے بیس ہزار روپے کا بھی اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں