تازہ ترین
Home >> مضامین >> صدا بصحرا ۔۔۔۔۔ سو شل میڈ یا کا جادُو ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

صدا بصحرا ۔۔۔۔۔ سو شل میڈ یا کا جادُو ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

جا دُو وہ جو سر چڑ ھ کر بولے آج کل سوشل میڈیا کا جادو ہر آن یہی کچھ کر رہا ہے عام آدمی کو اس بات کا بہت کم احساس اور اندا زہ ہو گا مگر اعلیٰ سرکاری حکام، حکمر ان جما عتوں کے لئے اور سیاسی پارٹیوں کے لئے اس کا زہر نا ک جادو بہت سارے مسائل پیدا کر تا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابات کے فوراً بعد سوشل میڈ یا نے یہ خبر پھیلا ئی کہ ان کی کا میابی میں روس کے صدر بیوٹن اور روسی خفیہ اداروں نے نما یا ں کردار ادا کیا کیو نکہ ایسے شخص کا انتخاب روس کے مفاد میں تھا 1950 ؁ء یا 1960 ؁ء کے عشروں میں ایسی بات کا اتنی سرعت کے ساتھ منظر عام پر آنا ممکن نہیں تھا پاکستان میں 1951 ؁ء سے 1955 ؁ء تک گور نر جنرل غلام محمد کی حکومت رہی وہ فالج زدہ شخص تھا اقتدار کا رسیا تھا اُس زمانے میں ریڈ یو پاکستان اور چند اخبارات کے سوا معلومات کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اس لئے اس کی من مانی کی کسی کو کانو ن کا ن خبر نہیں ہو ئی انگریزی میں ایسے کاموں کو ’’ انڈر کارپٹ ‘‘ کہتے ہیں اردو میں ’’ محلا تی سازش ‘‘ کی اصطلا ح اس ترکیب سے قریب تر معلوم ہو تی ہے سوشل میڈ یا نے محلا تی سازش یا انڈر کا ر پٹ کا م کر نے کے تمام امکا نات مسد ود کر کے حکمرانوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے مہمند ڈیم کا ٹھیکہ اگر 1950 ؁ء کی دہا ئی میں وفاقی وزیر کے فرم کو مل جاتا تو 10 سالوں تک کسی کو کا نوں کا ں خبر نہ ہو تی یاایک وفاقی و زیر کے سابقہ فرم کو 16 ارب کی سبسڈ ی دی جاتی تو 10 سالوں تک کسی کے فرشتے کو بھی اس کا پتہ نہ ہوتا یا حج کے لئے سعو دی عرب میں انتظا مات کا کام ما نیکا فیملی کی کمپنی کو مل جاتا تو حا جیوں کی واپسی تک کسی کو اس کا ذرہ بر ابر علم نہ ہوتا اب ایسی باتیں 24 گھنٹو ں کے اندر بچوں کی اُنگلیوں کی رسائی میں ہو تی ہیں سچ ا ور جھوٹ ، حقیقت یا فسانے کا پتہ لگتے لگتے اچھے خاصے لوگوں کی اچھی خاصی بے عز تی ہو جاتی ہے وہ آگے بڑ ھنے کی جگہ تباہی کو روکنے یا ڈیمیچ کنڑول کے لئے پیچھے جا تا ہے جد ید ٹیکنا لوجی نے اس دور کو دو طریقوں سے گھیر رکھا ہے پہلا طریقہ خبر حاصل کر نے کا ہے دوسرا طریقہ اس کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلا نے کا ہے 1950 ؁ء کے عشر ے میں جاسوس کے پاس چھوٹے ٹر انسسٹر ، ہو تے تھے کسی دفتر میں ، گھر میں ،گاڑی میں جہاز میں، بازار میں یا لا و نج کے اندر اس کے ذریعے معلو مات حاصل کر نا یا معلو مات بھیجنے کا طریقہ نکا لنا جاں جو کھوں کا کام تھا اب یہ بچوں کا کھیل بن گیا ہے فوٹو لینے اور آواز ریکارڈ کر نے والے آلات ایک چھوٹے سے چپ Chip کے اندر آگئے ہیں یہ چپ موبائل فون میں لگتا ہے پاکستان کے جھنڈ ے والے چھوٹے بیج(Badge) کے اندر آتا ہے اور سینے پر آویز اں ہو کر دوسروں کے سینوں پر مونگ دلتا ہے آئی لو یو (I Love you) کے بیج میں آجاتا ہے ڈرائنگ پن میں آجاتا ہے چشمے کے فریم میں آجاتا ہے قلم کے کور Cover میں سما جاتا ہے معلومات کے حصول کے ایک منٹ بعد اس کو سوشل میڈیا پر منتقل کر تا ہے 20 سیکنڈ کے اندر یہ معلو مات کم از کم ایک ہزار صارفین تک پہنچ جاتی ہیں ایک گھنٹے کے اندر لاکھوں لوگ ان اہم معلو مات کو ’’صد قہ جاریہ ‘‘ کے طو ر پر حسب تو فیق آگے تقسیم (شےئر )کر تے ہیں گو یا سب مل کر شعو ری یا غیر شعوری طور پر قیامت ڈھا تے ہیں غلام محمد ، سکندر مرزا اور ایوب خان کے سامنے اس طرح کی مشکلات نہیں تھیں اُس زمانے میں ’’ انڈر کارپٹ‘‘ سب کچھ چلتا تھا 2019 ؁ء میں اس کی کوئی گنجا ئش نہیں رہی 1950 ؁ء کے عشرے میں ایک ریڈیو اور چندع اخبارات کو لگا م دینا بڑا آسان تھا 2019 ؁ء میں وہ زمانہ نہیں رہا ہر بچے کے ہاتھ میں سو شل میڈ یا ہے جو ریڈ یو اور اخبارات سے کئی ہرزار گنا تیز رفتاری سے خبر یں پھیلا نے کے لئے مشہور ہے اس لئے مو جود دوور کو بعض دانشوروں نے انفار میشن سے دو قدم آگئے بڑھ کر انفو مو شن (Info- motion) کا دور قرار دیا ہے اور اُ ن کی بات میں کافی سے زیادہ وزن ہے یہ دور ایسا ہی ہے آج کے حکمران کی مشکلات پہلے سے زیادہ ہیں ذاتی زندگی یا پرا یو یسی کوئی نہیں رہی بیڈ روم تک بند ے کا پیچھا کیا جاتا ہے 22 سال پہلے 31 اگست 1997 ؁ء کوپیرس کے پو نٹ ڈی الما، روڈ ٹنل میں پر نسس ڈیا نا اور ڈوڈ الفا ئد کا پیچھا کر نے والے فوٹو گرافوں کو ’’ پا یا رازی‘‘(Paparazi) میں کہا گیا جو لوگوں کی ذاتی سے زندگی میں سکینڈل تلاش کر نے کا کام کر تے تھے آج لند ن اور پیر س کی کو ئی بات ہی نہیں اسلام اباد لا ہور ، ساہیوال اور وزیرستان میں ہر جوان پا یا رازی (Paparazi) بن چکا ہے علامہ اقبال نے آج کے دور کی پیش گو ئی کر تے ہو ئے کہا تھا
حذائی اہتما م خشک و تر ہے
خدا و ندا ، خدا ئی دردِ سر ہے
چونکہ رب اور خدا کے الفاظ اللہ تعا لیٰ کے اسما ئے حسنیٰ میں شامل نہیں اس لئے شعرا ء نے ان الفاظ کو بے با کا نہ استعمال کیا ہے اور حکمرانی کے معنوں میں لیا ہے علامہ اقبال کے دور میں فکر کر نے والے کے لئے حکمرانی مشکل تھی آج غور و فکر نہ کریں تب تھی مشکل آکے آپ کو گھیر لیتا ہے اور دم لینے نہیں دیتا نئے پاکستان میں سو شل میڈیا کے ذریعے جو تبدیلی آئی ہے سو شل میڈ ہی اس کے گلے پڑنے والا ہے جو ن ایلیا نے سچ بات کہی
جو ں ہم اپنے جوانوں کے درمیان
معجز ہ ہے اگر خیر یت سے ہیں


error: Content is protected !!