تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> خواتین کا صفحہ >> دُخترِ کشمیر کی پکار ۔۔۔۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر 

دُخترِ کشمیر کی پکار ۔۔۔۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر 

بھارت 1948ء سے مقبوضہ کشمیر میں آبادیات کا تناسب بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 1948ء ہی میں بھارت خود کشمیر کا تنازعہ لے کر اقوامِ متحدہ میں گیا اور وہاں یہ مان کر آیا کہ کشمیریوں کو اِستصواب رائے کا حق دیا جائے گا۔ اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم پنڈت جواہرلال نہرو کا خطاب آج بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے جس میں اُنہوں نے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کیا لیکن نہرو سے نریندر مودی تک کسی بھی بھارتی حکومت کی نیت نیک نہیں تھی۔ اِسی لیے تب سے اب تک ہر بھارتی حکومت کی یہی کوشش رہی کہ اگر کبھی استصواب رائے کی نوبت آئے تو آبادی کا تناسب اُس کے حق میں ہو۔ 1948ء میں کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی 87 فیصد تھی جو 1952ء کی مردم شماری میں کم ہو کر 72 فیصد اور اب 65 فیصد رہ گئی ہے۔ مسلم آبادی کا تناسب کم کرنے کے لیے بھارت کئی حربے استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی آئین کے مطابق کوئی غیرکشمیری ،کشمیر میں جائیداد خرید سکتا ہے نہ وہاں مستقل رہائش پذیر ہو سکتا ہے لیکن اب بی جے پی کی حکومت اِس آئینی شِق کو ختم کرنے کے دَرپے ہے۔مقصد ہندتواکے پجاریوں کا یہ کہ مقبوضہ کشمیر میں زیادہ سے زیادہ ہندؤں کو آباد کرکے آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا ئے۔ اِس کے علاوہ آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے گزشتہ سات عشروں سے بھارتی فوج کشمیریوں پر ظلم وجبر کا ہر حربہ آزما رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لازمۂ انسانیت سے تہی بھارتی درندے 1989ء سے اب تک 23 ہزار خواتین کو بیوہ کر چکے، لگ بھگ 12 ہزار عفت مآب بیٹیوں کی عصمت دری ہو چکی، ایک لاکھ کشمیری شہید اور 10 لاکھ لاپتہ ہو چکے۔ اسرائیل سے درآمد شدہ پیلٹ گنوں کے بے رحمانہ استعمال سے ڈیڑھ ہزار کشمیری اپنی دونوں آنکھوں کی بینائی کھو چکے۔ پیلٹ گنوں کے شکار اِن معصوموں کے چھلنی چہرے دیکھ کر خود بھارتی ڈاکٹر کہتے ہیں ’’اِس سے بہتر ہے کہ اِنہیں موت آجائے‘‘۔ ایک طرف بھارتی درندگی سب پر عیاں جبکہ دوسری طرف عالمی ضمیر میں جنبش ہوئی نہ مسلم اُمّہ کی غیرت پر تازیانہ لگا۔ طاقتوروں کے گھر کی لونڈی، دَر کی باندی اقوامِ متحدہ بھی خاموش۔
تاریخ کے جھروکوں سے علم ہوا کہ ایک مسلم بیٹی کی پکار پر حجاج بِن یوسف نے ہندوستان پر یلغار کا ارادہ کیا۔ اُس وقت مسلم افواج مختلف محاذوں پر بَرسرِپیکار تھی اِس لیے کوئی اور محاذ نہیں کھولا جا سکتا تھا لیکن ھجاج بِن یوسف نے خلیفۂ وقت کی اجازت سے نئی فوج بھرتی کی اورنوجوان محمدبِن قاسم کو ہندوستان پر حمہ آور ہونے کا حکم دیا۔ محمد بِن قاسم دیبل (سندھ) کے ساحل پر اُترا اور فتح کے جھنڈے گاڑتا ہوا ملتان تک آن پہنچا۔ اسلامی غیرت کا یہی تقاضہ تھا لیکن آج کشمیر کی بیٹی کی پکار پر کوئی کان دھرنے والا ہے نہ فلسطین کی بیٹی کی آہ وبقا سننے والا۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں بسنے والے مظلوم مسلمان کی مدد دینِ مبیں کے عین مطابق اور مسلم اُمّہ کا فرضِ عین۔ آقاﷺ کا فرمان کہ اگر کہیں برائی دیکھو تو اُسے ہاتھ سے روکو، اگر ہاتھ سے روکنے کی سَکت نہ پاؤ تو زبان سے بُرا کہو اور اگر زبان سے بُرا کہنے کی بھی ہمت نہ ہو تو دِل میں بُرا کہو (مفہوم)۔ لیکن یہاں یہ عالم کہ مسلم اُمّہ خاموش اور جو مظلوم کے حق میں آواز بلند کرے، وہ شدت پسند اور دہشت گرد۔
مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل لگانے والے بھی یورپ اور امریکہ ۔ اگر روس کے خلاف افغان جنگ ہو تو افغان مجاہدین اور اسامہ بِن لادن امریکہ کے چہیتے اور اگر نائن الیون ہو جائے تو سبھی دہشت گرد۔ حقیقت یہی کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والی اِن تنظیموں کا دینِ حق سے کوئی تعلق نہ واسطہ۔ اقبالؒ نے فرمایا
اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
رسولِ ہاشمیﷺ تو بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کی حفاظت کا حکم دیتے تھے۔آپﷺ تو فصلیں اُجاڑنے اور درخت کاٹنے سے بھی منع فرماتے تھے۔ پھر یہ کون لوگ ہیں جن کا ٹارگٹ مساجد، سکول، ہسپتال اور چرچ ہیں۔ 70 ہزار سے زائد بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسانیت کے دشمن اُس رَبِّ لَم یَزل کے مجرم ہیں جس کی پکڑ سخت۔ تحریکِ طالبان پاکستان نامی دہشت گردوں کو ایک بار افغان طالبان کے امیر مُلّا عمر نے کہا تھا کہ اگر اُنہیں جہاد کا اتنا ہی شوق ہے تو پاکستان میں بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کی بجائے افغانستان آکر جہاد میں حصّہ لیں جہاں طاغوت سے جنگ جاری ہے۔ ویسے بھی سانحہ نیوزی لینڈ سے ثابت ہو چکا کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم جیسنڈا آرڈن تو واشگاف الفاظ میں 50 مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے درندے کو دہشت گرد قرار دے چکیں لیکن یورپ اور امریکہ اب بھی اِس واقعے کو نفسیاتی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ مسلمانوں کے علاوہ بھی کوئی دہشت گرد ہو سکتا ہے۔ دراصل اسلاموفوبیا مغرب کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے اور نائن الیون بھی ایک کریہہ سازش تھی جسے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔
عشروں سے بھارت بین الاقوامی پلیٹ فارم پر یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان ،مجاہدین بھیج کر مقبوضہ کشمیر میں دَراندازی کر رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ کہ پاکستان کشمیریوں کی صرف سفارتی اور اخلاقی حمایت ہی کر رہا ہے۔ میڈیا کی حد تک تو پھر بھی بھارتی درندگی کی گاہے بگاہے جھلکیاں دکھائی دے جاتی ہیں لیکن حکمران مصلحتوں کی بُکل مارے بَس ڈھیلے ڈھالے بیانات پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ اُن کی تان ہمیشہ مذاکرات پر ٹوٹتی ہے جبکہ بھارت مذاکرات سے انکاری۔ آج بھی حکمران امن، امن اور مذاکرات، مذاکرات کی رَٹ لگا رہے ہیں لیکن بھارت کی طرف سے کورا جواب۔ قومی غیرت کا تقاضہ تو یہی ہے کہ اب امن کی رَٹ چھوڑ دی جائے۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے لیکن جب ایک ہاتھ آگے بڑھنے سے انکار کر دے تو پھر دوسرا ہاتھ بھی واپس کھینچ لینا چاہیے۔ وزیرِاعظم عمران خاں خوب جانتے ہیں کہ بھارت ایٹمی پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کی حماقت کر سکتا ہے نہ اقوامِ عالم ایسا کرنے دیں گی پھر امن کی رَٹ ’’چہ معنی دارد‘‘۔ وزیرِاعظم یوں تو ٹیپو سلطان کا حوالہ دیتے رہتے ہیں لیکن شاید وہ یہ بھول گئے کہ ٹیپو سلطان نے کہا تھا ’’شیر کی ایک دِن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘۔ کشمیر کی بیٹی وزیرِاعظم صاحب سے براہِ راست سوال کرتی ہے کہ وہ ٹیپو سلطان کب پیدا ہوگا، وہ محمدبِن قاسم کب آئے گا؟۔ کیا کشمیر کی بیٹی کا اتنا حق بھی نہیں کہ اُس کے سَر سے ’’ردا‘‘ چھیننے والوں کو اگر نشانِ عبرت بنانے کی سَکت نہیں تو کم اَز کم بلندآہنگ سے بھارت کی درندگی کو ہی دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔ تحقیق کہ اگر دنیا کے ایک ارب تیس کروڑ مسلمان ایک صفحے پر ہوجائیں تو کشمیر بھی آزاد ہو سکتا ہے اور فلسطین بھی اسرائیلی درندگی سے بچ سکتا ہے۔
بھارت نے پلوانا حملے میں پاکستان کو ملوث قرار دے کر ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کا ڈرامہ رچایا اور مُنہ کی کھا کر اقوامِ عالم میں بدنام ہوا۔ حقیقت یہ کہ پلوانا حملہ 22 سالہ کشمیری نوجوان عادل ڈار نے کیا۔ وہ ایک شرمیلا نوجوان تھا جسے انڈین فوج کی سپیشل ٹاسک فورس نے پکڑا اور اُس پر وحشیانہ تشدد کے بعد اُسے گھنٹوں تک زمین پر ناک رگڑنے پر مجبور کیا۔ قید سے رہائی کے بعد اُس نے اپنی توہین کا بدلہ لینے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ وہ 2018ء میں گھر سے غائب ہوا اور 14 فروری 2019ء کو 300 کلو وزنی بارودی مواد سے بھرا ٹرک فوجی قافلے سے ٹکرا دیا جس سے 40 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ مودی حکومت کا سوچاسمجھا منصوبہ تھا جس کا مقصد بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرکے آمدہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا تھا۔ شنید ہے کہ عادل ڈار پہلے سے بھارت میں قید تھا۔ اُسے زبردستی بارود سے بھرا ٹرک چلانے پر مجبور کیا گیا اور جب ٹرک فوجی قافلے کے قریب پہنچا تو ریموٹ کنٹرول دھماکے سے ٹرک اُڑا دیا گیا۔ اِس سلسلے میں بی جے پی کے رَہنماؤں کی ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آچکی ہے جس میں کسی خاتون کو پلوانا حملے کی منصوبہ بندی کے لیے
بھاری رقم کی آفر کی جارہی ہے۔ بھارتی اپوزیشن کی متفقہ رائے یہ کہ پلوانا حملہ خود نریندر مودی نے کروایا تاکہ آمدہ الیکشن میں کامیابی سمیٹی جا سکے۔

Print Friendly, PDF & Email