تازہ ترین
بنیادی صفحہ >> مضامین >> حکمران ،کرپٹ مافیا اور غریب عوام۔۔۔۔عرفان مصطفی صحرائی

حکمران ،کرپٹ مافیا اور غریب عوام۔۔۔۔عرفان مصطفی صحرائی

ہمارے معاشرے میں کرپشن جراثیم کی طرح پھیل چکی ہے ۔کرپشن کے جراثیم کو مارنے کے لئے مخصوص دوا نہیں ہوتی بلکہ اس مرض کی تشخیص اور علاج مختلف اندازمیں کرنا پڑتا ہے۔اس کا علاج کوئی تدبر،بردبار اور دانشمندی جیسی خصوصیات رکھنے والا انسان ہی کر سکتا ہے ،مگر ہمارے معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ عوام نے جسے اس مرض کے علاج کے لئے چنا،وہ تدبر،بردباری سے فیصلے کرنے کی بجائے گھوڑے پر سوار ہے ۔وہ بڑے بڑے نعرے اور دعوے کرنے کے پہلے ہی عادی تھے ۔لیکن اقتدار ملنے کے ساتھ ہی ان کی اس عادت میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے کو ملا۔71برسوں سے معاشرے میں کرپٹ مافیا کی جڑیں مضبوط ہو چکی ہیں۔کرپشن مرض سے بڑھ کر ناسور بن چکی ہے ۔جن کی فطرت میں کرپشن ہو انہیں تو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،مگر جن کی عادتیں سال ہا سال سے بگڑی ہوئی ہیں ،انہیں تبدیل کرنے میں تھوڑا وقت اور خصوصی حکمت عملی درکار ہے ۔لیکن عمران خان نے حکمت عملی کے بغیر ”مولاجٹ“کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا اور تاثر دیا کہ ہر کسی کو ”نتھ“ڈال دیں گے ۔ان سے سب کچھ چھین کر جیلوں میں چکی پسوائیں گے ۔ملکی مسائل کو حل کرنے کی بجائے بدلہ لینے کی آگ کو بڑھاوا دیا گیاہے۔جس سے نہ صرف عوام بلکہ ملک کا بھی شدید نقصان ہوا ہے ۔
اب کچھ دنوں سے حالات تبدیلی کی جانب شروع ہو چکے ہیں ۔کرپٹ مافیا کو نرمی ملنا شروع ہو چکی ہے ۔کیونکہ انہیں صرف مال بنانے کی عادت ہوتی ہے ۔ان کے لئے نیب کے کیسیز ، میڈیا ٹرائل یا بدنامی وغیرہ کوئی معنی نہیں رکھتا ۔اب کرپٹ مافیا کچھ تازہ دم ہوا ہے کیوں کہ حکومت نے ان کے مال بنانے کے راستے دوبارہ کھولنے شروع کر دیئے ہیں ۔فرق صرف اتنا ہے کہ مارکیٹ میں ریٹ کچھ زیادہ ہو گیا ہے ۔حکومت سے سب کچھ چھین لینے کے دعوے ہوا ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ لوگوں کو کبھی کبھی اوقات سے بہت بڑھ کر نواز دیتا ہے ،مگر وہ بجائے اس کے کہ اللہ کا شکر ادا کریں اور دکھی انسانیت کی خدمت کریں ،الٹا وہ خالقِ خدا کے لئے اذیت کا سبب بن جاتے ہیں ۔لیکن جن کی فطرت میں تکبر اور ہٹ دھرمی ، ذاتی مفاداورخواہشات کو اوّلین ترجیح دیناہو، ان کی فطرت کیسے تبدیل ہو سکتی ہے ۔
عمران خان کے پہلے سال کی حکومت میں ہی ان کے ہاتھ سے ہر چیز نکلتی جا رہی ہے ۔ان کے حواری کہتے ہیں کہ ان کی نیت اچھی ہے،مگر حالات بے قابو ہیں،اس وجہ سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے ۔حالانکہ اگر نیت درست ہو،تو حکمت عملی اعلیٰ بن سکتی ہے اور اس کے نتائج بھی مثبت حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔کہنے کو غریب عوام کے درد کا مداوا کرنا تھا،مگر عملاً صرف انتقام اور نفرتیں پھیلانا مقصود رہا ہے ۔نیت درست ہوتی تو اپنی اَنا کو قابو میں کیا جاتا۔ہٹ دھرمی کی بجائے معاملہ فہمی سے مسائل کو حل کی جانب لے جایا جاتا۔لیکن عمران خان نے اب تک جس انداز میں حکومت کی ہے،اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا بھاگنے کا راستہ بنانے کی کوششوں میں ہیں ۔ہوش ربا مہنگائی نے عوام کا بُرا حال کر دیا ہے ۔اوگرا کی گیس میں 45فیصد اضافہ کرنے کی سفارش بتا رہی ہے کہ حکمرانوں کا موڈ کیا ہے ۔مہنگائی میں پسی ہوئی عوام مزید مہنگائی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی ۔اس اضافے سے نہ صرف عوام پر بلکہ ملکی صنعت پر بُرا اثر پڑے گا۔آئی ایم ایف کے معاہدے میں 600ارب روپے کے اضافی ٹیکس عوام پر لگائے جائیں گے۔یہ حکومت عوام کو سڑکوں پر احتجاج کے لئے آنے پر مجبور کر رہی ہے ۔حکومت کے حالیہ اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پریشان ہے کہ عوام پر اور کتنا ظلم کیا جائے کہ وہ پاگلوں کی طرح سڑکوں پر نکل آئے اور انہیں ملک سے فرار ہونے کا موقع مل جائے ۔
ملک کی سیاسی صورت حال تبدیل ہونے کی جانب بڑھ رہی ہے ۔حزب اختلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے کے لئے گرینڈ الائنس کی تیاریوں کی ابتدا کر چکی ہے۔حکومت کو ایک سال مکمل نہیں ہوا اور اسے ہٹانے کی تحریک شروع ہو نے جا رہی ہے۔اس میں کسی کا قصور نہیں بلکہ عمران خان خود سب سے بڑے قصوروار ہیں ۔یہ ان کی نا اہلی ہی ہے کہ انہیں عوام اور مقتدر قوتوںکا بھر پور ساتھ ہونے کے باوجود ہر جانب سے صرف نا کامیاں ملی ہیں۔کوئی شک نہیں ملکی حالات مشکل ترین مراحل سے گزر رہے ہیں معاشی صورتحال بھی پریشان کن ہے۔لیکن اس میں سمجھدار حکمران عوام کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے ،مگر عمران خان نے عوام کو اپنے سے کوسوں دور کر دیا ہے ۔اب عمران خان کبھی سٹریٹ پاور کی دھمکی نہیں دے سکتے ۔کیونکہ انہوں نے عوام کو دینے کے بجائے ملنے والی سہولیات بھی چھین لی ہیں ۔ہسپتالوں کی ادویات کے بجٹ میں 30فیصد کمی اور حالیہ ادویات کے ریٹ میں اضافہ کی وجہ سے علاج کی سہولت عوام کی پہنچ سے دور کر دی گئی ہے ۔ہسپتالوں میں میڈیسن نایاب ہونے پر عوام سرکاری ہسپتالوں میں رل رہے ہیں ۔دوا ساز کمپنیوںنے ادویات کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کیا ۔یہ اضافہ 200فیصد تک کیا گیا۔پھر وفاقی حکومت کی جانب سے کریک ڈاﺅن کا ڈرامہ شروع ہوا ،مگر کیا ادویات کی قیمتوں کا اضافہ حکومتی اداروں کی ملی بھگت کے بغیر کیا جا سکتا تھا؟ایک جانب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ،ڈالر کا بے لگام ہونا اور تیزی سے بڑھتی مہنگائی نے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔غریب سے پیٹ کی بھوک نہیں سنبھل رہی تھی کہ ادویات کو بھی نا پید کر دیا گیا۔جس سے عوام زندگی موت کی کشمکش کی صورتحال سے گزر رہے ہے ۔
تحریک انصاف کا نعرہ تھا کہ وہ قومی دولت عوام پر خرچ کرے گی ،مہنگائی کی شرح کو کنٹرول کرے گی ،لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے گی ،مفت تعلیم اور مفت علاج کا نظام لائے گی،کرپشن کا خاتمہ کرے گی ،رشوت اور سفارش کلچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی ۔اُن تبدیلی کے دلکش نعروں سے متاثر ہو کر ہی عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا۔لیکن گزشتہ چھ ماہ کے اندر مہنگائی کا جو طوفان آیا ہے اس کی وجہ سے حکومت کے حامی بھی تحریک انصاف کی قیادت پر لعنت بھیج رہے ہیں ۔
بدقسمتی سے کرپٹ مافیا کا تعلق سیاسی اشرافیہ سے بھی ہے ۔سیاست اور حکومت اپنا حصہ لے کر عوامی مشکلات سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔آئی ایم ایف کے مطالبات ہوں یا کوئی غیر ملکی کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ۔حکومت انہیں تحفظ دینا اپنا فرض سمجھتی ہے ۔حالانکہ حکومت کا فرض ہے کہ غریب عوام کی جان بچانے اور زیادہ سے زیادہ سہولیات پہنچانے کی کوشش کرے نہ کہ پسِ پردہ کرپٹ مافیا کے مفادات کا تحفظ اپنا فرض سمجھے ۔یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ جہاں تیزاب گر جاتا ہے ،اس مقام کو صحتیاب ہونے میں طویل وقت درکار ہوتا ہے ۔حکومت نے جو نفرت کا تیزاب پھینکا ہے ،اگر اس کی جنگی پیمانے پر صفائی نہ ہوئی تو نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

error: Content is protected !!