داد بیداد۔۔۔ طو طوں کی دوسری قسم۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

ابھی ہم گرفتاریوں کی خبروں، بجٹ پر تبصر وں اورکرپشن کمیشن کے چٹکلوں کا پورا لطف نہیں اُٹھا سکے تھے کہ نئی خبر آگئی خبر معمو ل کے واقعے پر مبنی ہے ایوان صدر میں طو طوں کے لئے 19 لاکھ 48 ہزار روپے کی لاگت سے نئے پنجر ے بنا ئے جا رہے ہیں اس بات کا تعلق صدر مملکت کے شوق یا تحر یک انصاف کی حکومت کے منشور سے ہر گز نہیں جوڑا جا سکتا پھر بھی صدر عارف علوی نے اس کا نو ٹس لیا ہے یہ ایوان صدر کے چڑیا گھر کا ایک حصہ ہے رفیق تارڑ اور ممنو ن حسین کے ادوار میں بھی یہ چڑ یا گھر موجو د تھا زرداری کے دور میں بھی چڑیا گھر کی ایسی ہی تز ین و ارائش ہو ئی تھی مگر اس کا ذکر خیر نہیں ہوا موجو دہ حکومت نے دوسر وں کی شہ خر چیوں کے قصے چھیڑ نے میں پھر تی دکھا کر اپنی کفایت شعاری اور بچت سکیم کا ڈھنڈ ورا بہت پیٹا ہے اس لئے معمول کا کام بھی خبر کا درجہ اختیار کر لیتا ہے اگر آپ کو یاد ہو تو وزیراعظم ہاؤ س کے بھینسوں کا عیا شی میں شمار کرکے نیلا م کر دیا گیا اور نیلا می سے 23 لاکھ روپے نقد وصول کر کے نقا رے پر چوٹ لگا ئی تھی قر یبا ً دو تین مہینوں تک نقا رہ بجتا رہا واہ واہ کے ڈو نگر ے برستے رہے وہ بھی نہا ل ہو ئے ہم بھی سر شار ہو ئے سلیم کوثر کی غز ل کا شعر ہے ؎
کبھی لوٹ آئیں تو پو چھنا نہیں، دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہو ئی کہ یہ راستا کوئی اور ہے
سچ پو چھیئے تو ہمیں ایوان صدر کے طوطو ں سے زیادہ پارلیمنٹ ہاؤ س کے طوطو ں کی فکر ہے کیو نکہ ایوان صدر میں چین، کو ریا، تھا ئی لینڈ، امریکہ، برازیل اور آسٹر یلیا کے طو طے ہو نگے پارلیمنٹ ہاؤ س میں قومی طوطے رکھے گئے ہیں ان کی 6 قسمیں ہیں پہلی دو قسموں کو حز ب اقتدار اور حز ب اختلاف کہا جاتا ہے حز ب اختلاف میں طو طوں کو مز ید دوقسمو ں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی دو قسم وہ ہے جو دکھا نے کے لئے رکھے گئے ہیں دوسری قسم ان کی ہے جنکو بولنے کے لئے اس جگہ لا یا گیا ہے مگر بولنے میں آزاد نہیں ہیں ان کے دماغ کا میموری کا رڈنکا ل کر اس میں ایسا سافٹ ویر انسٹال کیا گیا ہے جس کا کنٹر ول کسی اور کے ہا تھ میں ہے یہ طو طے جب بولنے پہ آتے ہیں تو خوب چہکتے ہیں اس طرح حز ب اقتدار کے طو طے بھی دوقسم کے ہیں پہلی قسم کو بولنے کا حکم نہیں ہے اور یہ اکثر یت میں ہے دوسری دوسری قسم وہ ہے جنکو بولنے کی اجا زت ہے مگرر ٹے رٹا ئے الفاظ ہی بو ل سکتے ہیں ان کی تعد اد دوچار سے زیادہ نہیں ہو تی پارلیما نی سال کے 105 دنوں میں بو لنے والے ہر طو طے کو 105 بار بولنے کا موقع ملا اور ہر بار وہی رٹے رٹا ئے جملے بولتے رہے ایک طوطے نے 105 دنوں میں ایک ہی جملہ 400 بار بو لا تو گونگے طوطے نے کہا یہ جملہ مجھے بھی یاد ہو گیا ہے اب میں بھی یہ جملہ بول سکتا ہو ں چین میں ایک حکا یت مشہور ہے کہتے ہیں ایک رحم دل چر وا ہے کو جنگل کے طوطوں پررحم آیا اُس نے ارادہ کیا کہ میں طوطوں کو شکا ری کے جال سے بچا ؤ نگا طوطوں کی ایسی تربیت کر ونگا کہ وہ شکاری کے جال میں نہیں آئینگے اُس نے طوطوں کے لئے سبق تیار کیا سبق یہ تھا کہ ”شکا ری آیا ہے اس نے جال بچھا یا ہے میں آزاد پر ند ہ ہو ں شکاری کے جال میں نہیں آؤ نگا“ جنگل کے سارے طوطون نے اس سبق کو خو ب رٹہ لگا یا مگر جب شکاری آیا اُس نے جا ل بچھا یا تو سارے طوطے، طو طی سبق پڑ ھتے ہو ئے آئے ہر پر ند ہ رٹا رٹا یا سبق بولتے ہو ئے شکاری کے جال میں آتا تھا اور قید ہو جاتا تھا چروا ہے نے دیکھا تو اس کو بڑادُکھ ہوا اُس نے ایک طو طے سے پو چھا یہ کیا ماجرا ہے طوطے نے کہا ”شکا ری آئے گا اپنا جا ل بچھا ئے گا میں شکاری کے جال میں نہیں آؤ نگا“ اتنے میں طوطا شکا ری کے جال میں آگیا رٹا رٹا یا سبق اُس کے کسی کا م نہ آیا پارلیمنٹ کے طوطوں کا حال بھی جنگل کے طوطوں سے مختلف نہیں ہے سارے ایسے طوطے ہیں جنکو جمہو ریت کا سبق یاد ہے خو ب رٹہ لگا یا ہوا ہے مگر ان کو پتہ نہیں ہے کہ وہ کیا بو لتے ہیں وہ جمہور یت کا راگ الا پتے الا پتے آمر یت کے جال میں پھنس جا تے ہیں پنجر ے میں بند ہو نے کے بعد پنجر ے کے رنگ و روغن پر فدا ہو تے ہیں چراوہا لاکھ چاہے ان کو شکاری کے جال سے نہیں بچا سکتا خبر بڑی خوش آئیند ہے کہ طو طو ں کے لئے نئے پنجر ے بنا نے کا اغاز ایوان صدر سے کیا جا رہاتھا صدر عارف علوی نے اس میں مدا خلت کی ہے ہماری تجویز ہے کہ کا بینہ ڈویژن کے طوطوں کے لئے ایسے ہی خو ش نما پنجر ے بنا ئے جا ئیں اس کے بعد پارلیمنٹ کے طوطوں کی باری آئیگی لیکن ایک بات کا خیال رہے کہ پارلیمنٹ میں طوطو ں کی دوسری قسم بھی پا ئی جاتی ہے جو طو طا چشمی کے لئے مشہور ہے تجارت گھوڑوں کی ہو یا لوٹو ں کی ہو طوطا چشمی سے خالی نہیں ہو تی شا عر نے کیا بات کہی ہے ؎
تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر
میری ہر بات ہی رد ہے،حد ہے

Print Friendly, PDF & Email