ہمیں کہنا ہے کچھ۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

ہم لال حویلی والے کے مُنہ سے پہلی دفعہ عقل کی باتیں سُن کر حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی۔ اُس نے کہا ”کشمیر تقریروں سے آزاد نہیں ہوگا۔ اب ہم مریں گے یا ماریں گے۔ ایسا موقع دوبارہ نہیں آئے گا۔ امریکہ نے ہمیں ہمیشہ دھوکا دیا۔ ہمیں امریکہ نہیں، چین کی دوستی پر یقین کرنا چاہیے“۔ شیخ رشید کا حرف حرف سچ۔ پہلے تو وہ صرف ”طوطا فال“ ہی نکالا کرتا تھا لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں اُس نے جو کہا وہ قوم کی آواز۔ سوال مگر یہ ہے کہ شیخ کی یہ ”کایا کلپ“ کیسے اور کیوں ہوئی؟۔ ہمارا بزرجمہری دماغ یہ کہتا ہے کہ یقیناََ اُسے کہیں سے سُن گُن مل گئی ہو گی کہ عمران نیازی کی حکومت ”ٹائیں ٹائیں فِش“ ہونے والی ہے وگرنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ وزیرِاعظم کی ہاں میں ہاں نہ ملاتے۔ وزیرِاعظم توکہتے ہیں کہ جو مقبوضہ کشمیر میں جہاد کے لیے جائے گا وہ ملک دشمن ہوگا جبکہ شیخ صاحب کا درس ”مارو یا مرجاؤ“۔ وزیرِاعظم کہا کہ 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں بھارت کی ”پھٹیاں اُکھیڑ“ دوں گا جبکہ شیخ رشیدکے خیال میں ”تقریروں سے کچھ نہیں ہوگا“۔ وزیرِاعظم کو ٹرمپ دوستی پر ناز جبکہ شیخ صاحب کے مطابق امریکہ ”دغابازسیّاں“۔ شیخ رشید کا ماضی گواہ کہ اُس کے لیے آمر پرویز مشرف کی قدم بوسی سعد اور پرویز مشرف امریکہ کا غلام ابنِ غلام۔ اِسی لیے ہم سمجھتے ہیں ”کوئی چکر ہے“۔
شیخ رشید مولانا فضل الرحمٰن کے لاک ڈاؤن اور دھرنے سے بھی کچھ کچھ خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر مولانا نے آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیاتو پھر ”حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے، بیٹھ گئے“۔ نوازلیگ اور پیپلزپارٹی، دونوں مولانا کے دھرنے میں شرکت کی متمنی لیکن اُڑچن یہ کہ مولانا ”مذہب کارڈ“ بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں جو پیپلز پارٹی کو منظور ہے نہ نوازلیگ کو۔ اِس اُڑچن کا حل نکالنا مولانا جیسی تیز وطرار شخصیت کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ صحافی نے سوال کیا ”مولانا! کیا آپ آزادی مارچ میں مذہب کارڈ استعمال کر رہے ہیں؟“۔ مولانا نے جواب دیا ”1973ء کے آئین کی حفاظت کر رہے ہیں جس کی بنیاد ہی مذہب ہے“۔ نوازلیگ تو آزادی مارچ میں شرکت کے لیے تقریباََ تیار، بلاول کو بھی مولانا بالآخر منا ہی لیں گے۔ ویسے مولانا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ اکیلے بھی 15 لاکھ کی ریلی لے کر اسلام آباد پہنچیں گے اور اُس ریلی کی حفاظت کے لیے ایک لاکھ ”وردی پوش“ موجود ہوں گے۔ ہماری مولانا سے دست بستہ عرض ہے کہ وہ 14 لاکھ سیز فائر لائن پر بھیج دیں، یہ حکومت ایک لاکھ کا مجمع دیکھ کر ہی ”دُڑکی“ لگا جائے گی۔
شیخ رشید کو تو بدلتی فضاؤں میں ہونے والی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں لیکن ”ماسی مصیبتے“ کی چال وہی بے ڈھنگی۔ وہ کہہ رہی ہے ”وزیرِاعظم 22 کروڑعوام اور فضل الرحمٰن 22 نمبر بنگلے کے لیے بے چین ہیں۔ عمران خاں کی حکومت میں ریکارڈ ٹیکس جمع ہوا جبکہ دو، دو ٹکے کے لوگ ٹاک شوز میں حکومت کو ناکام کہہ رہے ہیں۔ جن کو اپنے گھر والے نہیں پوچھتے، وہ کہتے ہیں کہ حکومت ناکام ہوگئی“۔ ”ماسی مصیبتے“ نے ریکارڈ ٹیکس جمع کرنے جیسا بڑا جھوٹ بول کر ثابت کر دیا کہ وہ تحریکِ انصاف کی سچی رکن ہے کیونکہ جھوٹ تحریکِ انصاف کی سرشت میں شامل ہوچکا۔ جس تحریک کا سربراہ اُلٹے پاؤں پھر جانے پر فخر محسوس کرتا ہو، وہاں ”کیڑوں مکوڑوں“ سے بھلا سچ کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ عمران نیازی کے ”سلیکٹڈ“ ہونے کا ابھی تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آسکا کہ ”سلیکٹرز“ نے بڑے ”پکّے“ کام کر رکھے ہیں لیکن یہ تین درجن مشیران اور معاونینِ خصوصی تو ہیں ہی ”سلیکٹڈ“ جنہیں وفاقی وزیر کے برابر درجہ دیا گیا ہے۔ آئینی طور پر یہ لوگ صرف زبانی جمع خرچ ہی کر سکتے ہیں۔ وجہ یہ کہ یہ حکومتی نمائندے ہیں، عوامی نمائندے نہیں۔ اِن میں سے اکثر ایسے جو کونسلر کا الیکشن بھی لڑیں تو چاروں شانے چِت ہوجائیں۔ یہی تو پاکستانی جمہوریت کی خوبی ہے کہ اِس میں ”کھوتا، گھوڑا“ ایک برابر۔ جنہیں ”ماسی مصیبتے“ دو، دو ٹکے کے کہہ رہی ہے، وہ اُمیدِ بہار میں شجر سے پیوستہ ہیں ”ڈال ڈال پھدکنے“ والے نہیں البتہ ماسی مصیبتے کی ”آنیاں جانیاں“ لگی رہتی ہیں۔جب اُس نے قاف لیگ سے پیپلزپارٹی میں ”لینڈ“ کیا تو فرمایا ”جو پیپلزپارٹی چھوڑ کر جاتا ہے وہ دنیا وآخرت میں ذلیل ورسوا ہو جاتا ہے“۔ اب وہ خیر سے تحریکِ انصاف میں ”رَج کے“ رُسوا ہو رہی ہے، آخرت کے بارے میں رَب جانے۔
”بونگیاں“ مارنے میں یدِطولیٰ رکھنے والی کے ایک بیان نے ثابت کر دیا کہ وہ تحریکِ انصاف کے لیے بھی ”ماسی مصیبتے“ ہی ہے۔میرپور آزادکشمیر میں آنے والے حالیہ زلزلے پر اُس نے ہنستے ہوئے کہا ”یہ تبدیلی کی نشانی ہے کہ زمین نے بھی کروٹ لی۔ یہ اِس بات کی علامت ہے کہ زمین کو بھی اتنی جلدی تبدیلی قبول نہیں“۔ زلزلے پر تو لوگ توبہ استغفار کرتے ہیں لیکن ماسی مصیبتے کو یہاں بھی مذاق سوجھا جسے سخت ناپسند کیاگیا۔ یہاں تک کہ تحریکِ انصاف کی شیریں مزاری کو بھی کوئی جواب وجواز نہ پا کر معذرت کرنا پڑی۔ کبھی آصف زرداری کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے والی آجکل عمران نیازی کے لیے رطب اللساں ہے۔ اُس نے کہا ”وزیرِاعظم بائیس کروڑ عوام کے لیے بے چین ہیں“۔ بالکل بجا! کمرتوڑ مہنگائی، ڈالر کی اونچی پرواز، سونے کی ناقابلِ یقین قیمت، بجلی،گیس،پٹرولیم مصنوعات کی روزافزوں قیمتیں،سٹاک مارکیٹ کی بربادی، مفت ادویات کی عدم فراہمی، ادویات کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ، رفعتوں کو چھوتی بے روزگاری، دگرگوں معیشت، پولیس گردی اور ٹھپ ہوتے ترقیاتی منصوبے، یہ سب تحریکِ انصاف کے گزشتہ ایک سال کی محنتوں کا ثمر ہی تو ہیں۔ وزیرِ اعظم بھی سوچتے ہوں گے کہ ”غریب مکاؤ مہم“ پر اتنی محنت کی، پھر بھی یہ اتنے ڈھیٹ کہ مرتے ہی نہیں۔
وزیرِاعظم جیسے22 کروڑ عوام کے لیے بے چین ہیں، ویسے ہی80 لاکھ کشمیریوں کے لیے بھی۔ اُنہی کے حکم پر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، کشمیر کے جھنڈے لہرائے جا رہے ہیں، کشمیری ترانے گائے جا رہے ہیں اور جذباتی تقریریں کی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف بَدبخت ”موذی“ اور اُس کے حواری چپکے چپکے دنیا کو اپنا ہمنوا بنانے میں مصروف۔ اتنے شوروغل کے باوجود ہمارا عالم یہ ”صاحب نے کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا، بارہ آنے“۔ ایسے میں حکمران جھوٹ کا سہارا نہ لیں تو کریں بھی کیا۔ وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پچاس سے زائد ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرے۔ وزیرِاعظم پاکستان نے بھی کہا کہ انسانی حقوق کونسل کے اٹھاون ممالک کی پاکستان کو حمایت حاصل ہے۔ بھارت نے اِن دونوں بیانات کو سفید جھوٹ قراردیا۔ پردہ تب فاش ہوا جب اِسی انسانی حقوق کونسل میں 19 ستمبر تک بھارت کے خلاف قرارداد پیش کرنی تھی جس کی روشنی میں کونسل کا اجلاس بلایا جانا تھالیکن ہم یہ قرارداد پیش کرنے سے قاصر رہے۔ وجہ یہ کہ اِس قرارداد کو پیش کرنے کے لیے انسانی حقوق کونسل کے صرف 16 ممالک کی حمایت درکار تھی جو ہم حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انسانی حقوق کونسل میں اتنے تو اسلامی ممالک ہی ہوں گے پھر بھی ہمیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔27ستمبر کو جنرل اسمبلی میں وزیرِاعظم کا خطا ب بلاشبہ متاثرکن تھا۔ اُنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی پر لگی لپٹی رکھے بغیر وہ سب کچھ کہہ دیا جس کی اُن سے توقع کی جا رہی تھی۔ سوال مگر یہ کہ کیا وہ عالمی برادری کی غیرتوں کو جھنجھوڑ سکے؟۔ گزشتہ سات عشروں سے اِسی عالمی فورم پر ہر پاکستانی سربراہ نے ایسا ہی خطاب کیا لیکن اقوامِ عالم مصلحتوں کی ”بُکل“ مارے سوتی رہی۔ جیسے ہم عالمی انسانی حقوق کونسل میں قرارداد کے لیے صرف سولہ ارکان کی حمایت بھی حاصل نہ کر سکے، ویسا ہی اب بھی ہونے والا ہے۔یہ تقریروں کا نہیں، کچھ کر گزرنے کا وقت ہے جس کی قوم منتظر۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں نریندر مودی نے رنگ جمایا۔ امریکہ میں مقیم بھارتیوں نے دل کھول کر چندہ بھی دیا اور جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے تگ ودَو بھی کی۔ عالمی میڈیا نے اِس جلسے کی بھرپور کوریج کی۔ میری بیٹی، سحر مظہر،ہیوسٹن ہی میں مقیم ہے۔ میں نے فون پر اپنے دُکھ کا اظہارکرتے ہوئے اُسے کہا کہ بھارتیوں نے اتنا بڑا جلسہ کر ڈالا، پاکستانیوں کو کیا ہو گیا تھا۔ اُس نے کہا ”ماما! جلسہ گاہ کے باہر ہزاروں کا مجمع احتجاج کر رہا تھا جس میں مسلمان، سکھ اور عیسائی بھی موجود تھے۔ بہت سے امریکی بھی احتجاج کرتے نظر آئے لیکن ہمارے حکمرانوں کو شاید علم ہی نہیں کہ یہ میڈیا کا دَور ہے اور میڈیا کوریج کے لیے حکومتیں کروڑوں ڈالر خرچ کر دیتی ہیں لیکن ہمارے تو پاکستانی نیوزچینل کا یہ حال تھا کہ ہلکی پھلکی کوریج کرکے اپنی قومی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوتے رہے“۔ جس ”گجرات کے بُچر“کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے 10 سال تک امریکہ میں داخلے کی اجازت نہ ملی، وہی ”بُچر“ہیوسٹن کے جلسے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بانہوں میں بانہیں ڈالے نام لیے بغیر پاکستان کو دہشت گرد قرار دے رہا تھا۔ اُس نے کہا ”نائن الیون اور ممبئی حملوں کا ماسٹر مائینڈ ایک ہی ہے جس کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کا وقت آگیا ہے“۔ اُسی جلسے میں امریکی صدر نے کہا ”بھارت کے ساتھ امریکہ کا رشتہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ہمیں بے گناہ ہندوستانیوں کو اسلامی انتہاپسندی اور دہشت گردی سے بچانا ہے“۔ جس شخص کے یہ خیالات ہوں، اُس کی ثالثی کو تسلیم کرنا احمقوں کی جنت میں بسنے کے مترادف ہے۔

Print Friendly, PDF & Email