عروسِ مشترک۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرشاکرہ نندنی

علینہ کی جب آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں تنہا تھیں۔ انھوں نے اپنے شوہر کو جاتے نہیں دیکھا۔ ان کی شادی کا دورانیہ کل تین گھنٹے تھا۔

یہ ان کی پہلی شادی نہیں تھی بلکہ دوسری، تیسری یا چوتھی بھی نہیں۔ درحقیقت ان کی اتنی شادیاں ہو چکی ہیں کہ انھیں اس کی صحیح تعداد بھی یاد نہیں۔ علینہ کا یہ خوفناک طرزِ زندگی ان کے دفتر میں پیش آنے والے ایک واقعے سے شروع ہوا۔

وہ وہاں شوخ میک اپ کیے چست کپڑوں میں ملبوس لڑکیوں کو آتا اور انتظار کرتا دیکھتیں۔ پھر ادھیڑ عمر افراد آتے اور انھیں ساتھ لے جاتے۔ وہ کہتی ہیں وہ اتنی نوجوان اور خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ میں سمجھ نہیں سکتی کہ کوئی بھی لڑکی خود کو ایسے کس طرح بیچ سکتی ہے۔

علینہ اس وقت اپنے خاندان سے الگ تھلگ تھیں اور اپنی بہن رولہ کا خرچ بھی اٹھا رہی تھیں۔ لیکن ان مشکل حالات کے باوجود انھوں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی بقا کے لیے کسی مرد پر انحصار نہیں کریں گی۔ جب کبھی مرد اپنا نمبر کاغذ کے پرزوں پر لکھ کر ان کے حوالے کرنے کی کوشش کرتے تو وہ انھیں نظرانداز کر دیتیں۔

ایک دن ایک شخص ان کے دفتر آیا اور علینہ سے بات چیت شروع کر دی۔ ان دونوں نے ان کے ماضی کے بارے میں بات کی اور یہ کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتی ہیں، ملازمت کیوں کر رہی ہیں، تعلیم حاصل کیوں نہیں کر رہیں۔ علینہ کو یہ احساس ہوا کہ کوئی ان کے بارے میں فکرمند ہے۔

علینہ کے لیے زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی تھی۔ بغداد میں اتنی کم تنخواہ پر گزارہ کرنا بہت مشکل تھا۔ خودمختار رہنے کے عہد کے باوجود علینہ اب ایک شوہر کا خواب دیکھنے لگیں۔ ایک ایسا فرد جو ان کا خیال رکھے۔

وہ شخص روزانہ ان کے دفتر آنے لگا اور ان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہا۔ آہستہ آہستہ علینہ اس کی جانب مائل ہوتی گئیں۔ چند ہفتوں بعد اس شخص نے انھیں شادی کی پیشکش کر دی۔ وہ انھیں بغداد کے علاقے کاظمین لے گیا۔ جب وہ شادی دفتر میں داخل ہوئے تو علینہ بہت پرجوش تھیں۔

شادی کی تقریب بہت مختصر تھی۔ مولوی نے چند صیغے پڑھے اور علینہ سے دریافت کیا کہ کیا انھیں 250 ڈالر کے مساوی رقم بطور مہر قبول ہے اور پھر انھیں ایک معاہدہ دیا گیا۔ علینہ اسے پڑھ نہیں پائیں لیکن اگر وہ ایسا کر بھی لیتیں تو شاید اس میں کوئی خامی تلاش نہ کر پاتیں۔

نکاح کے چند منٹ بعد ان کا شوہر انھیں قریب ہی ایک فلیٹ میں لے گیا تاکہ ان سے جنسی تعلق قائم کر سکے۔ علینہ اگرچہ کچھ نروس تھیں لیکن اپنے اور اپنی بہن کے لیے ایک مناسب گھر کا خیال ان کے ذہن میں موجود تھا۔ وہ اپنے شوہر کے پیچھے پیچھے خواب گاہ میں چلی گئیں اور دروازہ بند کرتے ہوئے یہ دعا کی کہ یہ شخص ان کا خیال رکھے اور دونوں ساتھ طویل زندگی گزاریں۔

اس شادی کے ابتدائی چند دن علینہ کے لیے واقعی کسی پریوں کی کہانی جیسے ہی ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا ہے ’مجھے لگتا تھا کہ میرے کندھوں سے ایک بھاری بوجھ سرک گیا ہے۔ آخر وہ وقت آ گیا تھا جب ہر چیز کی فراہمی میری ذمہ داری نہیں تھی۔ لیکن پھر چند ہفتوں بعد ان کا شوہر غائب ہو گیا۔

علینہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کی شادی ختم ہو چکی ہے بلکہ اس کے خاتمے کی تاریخ کا تعین اس کی ابتدا سے قبل ہی ہو گیا تھا۔ علینہ اور اس شخص کے درمیان نکاحِ متعہ ہوا تھا۔

نکاحِ متعہ ایک متنازع مذہبی عمل ہے جسے شیعہ مسلک میں وقتی شادی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں خاتون کو شادی کے لیے رقم دی جاتی ہے۔ سنی اکثریتی ممالک میں نکاحِ المسیار میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صدیوں پہلے اس قسم کا نکاح عموماً تاجر اور مقاماتِ مقدسہ کا دور کرنے والے وہ مرد کرتے تھے جو اپنی بیویوں سے دور ہونے کی وجہ سے کسی ساتھی کے متلاشی ہوتے تھے۔ علینہ نے اپنے شوہر کے غائب ہونے کے بعد اس مولوی سے ملاقات کا فیصلہ کیا جس نے ان کا نکاح پڑھایا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ شخص بظاہر ان کی آمد کا منتظر دکھائی دیا۔

اس مولوی نے علینہ کو مشورہ دیا کہ وہ نکاحِ متعہ کا عمل جاری رکھے اور مزید شادیاں کرے کیونکہ اس کی مشکلات کا خود اس کے پاس اور کوئی حل نہیں۔ اس مولوی نے علینہ کی تصاویر بھی کھینچیں۔

علینہ جانتی تھی کہ وہ اپنی تنخواہ کے بل بوتے پر گزارہ نہیں کر سکتیں اور تعلیم کی کمی کسی بہتر نوکری کی تلاش میں بڑی رکاوٹ ہے۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ یہ حقیقت کہ وہ اب کنواری نہیں رہیں، ان کے لیے کسی مستقل شوہر کی تلاش میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

علینہ کی کہانی کی تمام تفصیلات کی تصدیق ممکن نہیں لیکن ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان کی کہانی کے کئی جزو ایسی دیگر لڑکیوں کی کہانی سے متماثل ہیں جو مولویوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوئیں۔ علینہ آج بھی اس دن کو یاد کر کے پچھتاتی ہیں جب انھوں نے اس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ کوئی بھی لڑکی جب یہ شروع کرتی ہے تو سمجھیں اس کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email