میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں۔۔۔تقدیرہ خان

اے میرے محبوب تو وطن کا رکھو الا ہے، تو عزت والا ہے،تو سب سے الگ اور قسمت والا ہے۔تیسری ہر ادانرالی ہے اور تو سب سے نرالہ ہے۔تو بدر،اُحد، خندق و حنین اور کربلا والوں کے راستے کا راہی ہے،تو میرا ڈھول سپاہی ہے۔
تو ماؤ ں،بہنوں، بیٹیوں کی عزتوں کاہی نہیں وطن کی مٹی اور قوم کی عزت و حرمت کا بھی رکھوالا ہے تو خالد ؒ کی تلوار، حمزہ ؒ کی للکار،قاسم کی یلغار اور شیر کی دھاڑہے۔
توغازی،تو شہید ہے،تو جنت کا مکین ہے،تو قوم کی امید ہے،تو امن کی نوید ہے۔تیرے دم سے یہ کثور حسین ہے،تو میرا عزم و استقلال ہے،تیرے ہاتھ میں میرے وطن کا پرچم و ہلال ہے،یہ تیرا کفن ہے میری قوم کا جلال ہے تیرے پاک خون کا کوئی صلہ نہیں،جو تیری عظمت،تیری ہمت، تیری جرأت سے بے خبر ہیں۔ مجھے اُن سے بھی کوئی گلہ نہیں تو میری جان، میری شان،برہان، میری پہچان اور راز الہیٰ ہے،تو میرا ڈھول سپاہی ہے۔
تو اللہ کا سپاہی حضور ﷺ کا غلام ہے تو عزم عالیشان ہے،تیرے ہاتھ میں تلوار ہے۔تیرے سینے میں قرآن ہے،تو صاحب ایمان ہے تو میرا پاکستان ہے۔تو قائد کا عزم اور اقبال ؒ کا شاہین ہے۔تیرے وجود سے میری عزت ہے سلامت، تیری ہیبت میرے دشمن کی تباہی ہے،تو میرا ڈھول سپاہی ہے۔
میرے وطن کے محافظ، میری قوم کے رکھوالے،جاتجھے کیا اللہ کے حوالے۔ حسد وبغض، کینے و فتنے سے اللہ تجھ کو بچائے، تیرے خوف سے دشمن کا دل دھل جائے۔تیری ہر مشکل آسان ہو،تیرے قدموں تلے مودی کا ہندوستان ہو۔تجھے سینے سے لگائیں سلطان اُلہند، تیر ی عظمت کا ستارہ ہو شعلہ تابند، شاہ نعمت ولی کی پشین گوئی ہو سچ، ہند کے بت خانوں میں گونجے کلمہ حق،تیری صوت سے لرز اٹھیں کفر کے خستہ و ریختہ مینار، مثل قارون دھنس جائیں سب عیارو مکار،چہروں پہ لعنت برسے جو ہیں مودی کے یار ہے،تجارت ہے جن کی سیاست وطن فروشی ہے جنکا کاروبار،وہی ہیں دشمن تیرے اور میرے اے صاحب کردار وگفتار۔
سلام اے وطن کے شہید و،سلام اے جنت کے مکینو،سلام اے جرأت کے نشانو، سلام اے ملت کے پاسبانو، وطن کے صحرا و کوہستان، کھیت کھلیان میری دھرتی کی شان۔کھلتا ہے ہر پھول جو میرے چمن میں،خون شہید کی ہے خوشبو اس کے بطن میں۔یہ شاعری نہیں میرے من کی صدا ہے،ہر ماں، ہر بیٹی اور بہن کی دعا ہے۔ سلامت میرا وطن رہے تا قیامت اس کے پاسبان۔میرے جری جوان رہیں سدا سلامت۔

Print Friendly, PDF & Email