124

دادبیداد۔۔۔۔۔نئی منزل نئی راہیں۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اسلامی ملکوں کی سر براہ کانفرنس میں مسلم اُمہّ کے لئے نئی منزل کا تعین کیا گیا اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے نئی را ہیں بھی دکھا ئی گئی ہیں کا نفرنس ملا ئشیا کے دا را لحکومت کوا لا لمپور میں منعقد ہوئی جس میں تر کی، ایران، انڈو نیشیا اور قطر سمیت اہم اسلامی مما لک کے سر براہاں کے ساتھ 450مسلم دا نشوروں اور سکا لروں نے بھی شر کت کی گو یا سر براہ کانفرنس میں مسلم دنیا کی اجتما عی ذہا نت اور سول سائٹی کو بھی مد عو کیا گیا تھا پا کستان کو سر براہ کانفرنس میں خصو صی طور پر دعوت دی گئی تھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلا س کے مو قع پر وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب اردگان اور ملا ئشیا کے وزیر اعظم مہا تیر بن محمد کو یقین دلا یا تھا کہ میں ضرور شر کت کرونگا لیکن کانفرنس سے دو دن پہلے ملا ئشیا کے وزیر اعظم سے معذرت کر کے کانفرنس میں نہیں گیا پا کستان کے نقطہ نظر سے دو با تیں محل نظر تھیں کانفرنس کے ایجنڈے چین کے اویغر مسلمانوں کا مسئلہ زیر بحث آنا تھا دوسری بات یہ تھی کہ سعو دی عرب اور متحدہ عرب امارات کانفرنس میں شریک نہیں تھے کانفرنس کا مشترکہ اعلا میہ کئی حوا لوں سے اہمیت رکھتا ہے اس میں میا نمر کے رو ہنگیا مسلما نوں کا مسئلہ اٹھا یا گیا ہے بھارت اور چین کے مسلما نوں کا مسئلہ پیش کیا گیا ہے فلسطین اور کشمیر پر ووٹوک مو قف اختیار کیا گیا ہے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ڈالر اور پا ونڈ سٹرلنگ یا کسی اور غیر ملکی کرنسی کی جگہ اپنی کرنسی میں کاروبار اور تجا رت کرنے کی تجویز دی گئی ہے دنیا میں ایسی کرنسیوں کی مثا لیں مو جو د ہیں ایرانی صدر حسن رو حا نی اس کو کرپٹو کرنسی (Cryptocurrency)کا نا م دیا ہے ایک اور اہم تجویز یہ ہے کہ دُنیا میں بعض طاقتیں پہلے دہشت گردی پیدا کرتی ہیں پھر ان کو اسلام کے ساتھ نتھی کر کے دنیا میں اسلام اور مسلم اُمّہ کو دہشت، وحشت، بد تہذیبی، نما رتگری اور خوف کی علامت بنا کر پیش کر تی ہیں ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس کا بے تحا شا پروپیگینڈاکیا جا تا ہے جو ہائیڈرو فوبیا کی طرح ”اسلامو فوبیا“ کی نفسیا تی کیفیت کو دنیا میں پھیلا نے کا سبب بنتا ہے اس کیفیت اور پرو پیگینڈے کا مقا بلہ کرنے کے لئے اسلامی مما لک کی تنظیم اپنا الیکٹر ا نک اور سو شل میڈیا میدان میں لائے گی تا کہ اسلام کے خلاف ہونے وا لی سا زشوں کو بے نقاب کیا جا سکے اس پرا جیکٹ میں ملا ئشیا، تر کی اور ایران کا نمایاں کر دار ہو گا اس وقت دنیا میں جو بڑے چینل مو جو د ہیں ان کے مقا بلے کا اسلامی چینل بھی ہو گا جو فنی، تکنیکی اور خبر نگاری کے اعتبار سے بی بی سی اور وائس آف امریکہ کا مقا بلہ کرے گا اعلامیہ میں ایک اہم نکتہ اسلا مک فنا نس بھی ہے اس پر گذشتہ تین دہا ئیوں سے کام ہو رہا ہے قطر کی شیخ حماد بن خلیفہ یو نیورسٹی میں اس کا با قاعدہ شعبہ قائم کیا گیا ہے اگر اسلامی ملکوں کی تنظیم نے اس تصّور کو آگے بڑھا یا تو یہ دنیا میں سر مایہ دارانہ معیشت اور کمیو نزم پر مبنی معیشت کے مقا بلے میں بہتر متبادل ثا بت ہو گا کوا لا لمپور کانفرنس سے پہلے اور کانفرنس کے بعد بعض تجزیہ نگاروں نے اس خد شے کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس اسلامی دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا با عث ہو گی یہ خد شہ اس لئے بیجا اور بے محل ہے کہ مسلم اُمہ گذشتہ 4دہا ئیوں سے دو دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے ایک دھڑا سعو دی عرب کے زیر اثر ہے اور خطے میں امریکی مفا دات کو تحفظ دیتا ہے دوسرا دھڑا غیر منظم ہے اور مغرب کے مقا بلے میں مشرق کی اقوام کو طا قت یا تقویت دینا چاہتا ہے اگر اس دھڑے کو منظم کیا گیا تو علامہ اقبال کا ایک اور خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا اپنے تصّوربین اسلامزم کے فروٖغ کے لئے انہوں نے بڑی جدو جہد کی ؎
اگر تہران ہو مشرق کا جینوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
آج تہران کی جگہ کوالا لمپور یا انقرہ کو لے لیں علامہ اقبال مسلما نوں کے اتحا د اور ایک قابل قبول مر کز کو پوری دنیا کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں سعودی عرب کے پا س اسلامی دنیا کی قیا دت کا زرین مو قع تھا جو سعودی باد شاہت کی پا لیسیوں کی وجہ سے ضا ئع ہو چکا ہے اور گزشتہ 30سالوں میں او آئی سی (OIC) کو مردہ گھوڑا بنا کر رکھ دیا گیا ہے اُمید کی جا نی چا ہئیے کہ کوا لا لمپور کانفرنس امت مسلمہ کی حیات ثا نیہ کے لئے جس نئی منزل کا تعین کیا ہے اس منزل کی طرف جا نے وا لی نئی را ہیں بھی تلا ش کی جائینگی بقول علامہ اقبال ؎
سفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مُور نا تواں کا
ہزار مو جوں کی ہو کشا کش مگر یہ دریا سے پار ہو گا
افسوس اس بات کا ہے کہ پا کستان نے ایک اچھا مو قع ضائع کر دیا ہے

Print Friendly, PDF & Email