51

چترال بھر میں گذشتہ رات سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ سب سے زیادہ برفباری لواری ٹنل ایریا میں ہوئی، جہاں تقریبا دو فٹ برف پڑی

چترال (محکم الدین ) چترال بھر میں گذشتہ رات سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ سب سے زیادہ برفباری لواری ٹنل ایریا میں ہوئی، جہاں تقریبا دو فٹ برف پڑی۔ جس کی صفائی کا کام جاری ہے۔ برف کی زیادتی کی وجہ سے گاڑیوں کو لواری ٹنل تک پہنچنے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اور سینکڑوں گاڑیاں اب بھی لواری ٹنل کے دونوں طرف پھنس گئی ہیں۔ جبکہ ڈرائیوروں کو ٹائروں پر سنو چین کے بغیر سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ گذشتہ رات سے برفباری کے نتیجے میں لواری ٹنل ایریے میں گاڑیوں کو کراس کرتے ہوئے پھسلن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ روڈ پر سے جو برف ہٹایا گیا ہے۔ وہ دو گاڑیوں کے کراس کرنے کیلئے ناکافی ہے۔ اس لئے ایک دوسرے کو راستہ دینے کیلئے گاڑیوں کو اکثر مقامات پر برف میں سے گذرنا پڑتاہے۔ اور پھسلن کی وجہ سے وہ برف میں پھنس کر رہ جاتی ہیں۔ اس لئے اس روٹ پر چلنے والے مسافر گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے مطالبہ کیا ہے۔ کہ روڈ پر سیبرف صحیح معنوں میں ہٹایا جائے۔ تاکہ دو گاڑیاں ایک دوسرے کو کراس کر سکیں۔ حالیہ برفباری میں شیشی کوہ میں ایک فٹ مڈکلشٹ میں 14 انچ برف پڑی ہے۔ بگوشٹ اور گبور میں ایک فٹ، بمبوریت شیخاندہ میں 8انچ، گولین 5انچ،تورکہو،موڑکہو خاص گرم چشمہ اور بونی میں 4انچ بتائی جاتی ہے۔ تاہم چترال لوئر اور چترال اپر انتظامیہ کے مطابق کہیں سے بھی روڈ بلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ برفباری کے باعث چترال بھر میں ٹریفک محدود رہی۔ جس کے باعث ملازمین کو دفاتر تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف برفباری سے سرد اور یخ بستہ ہواوں نے سردی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ برفباری سے جلانے کی لکڑی کو بھی پر لگ گئے۔ جبکہ گیس کی قیمت میں حکومتی اضافے اور ناقابل برداشت بجلی بلوں کی وجہ سے غریب لوگ بغیر ایندھن کے کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اور ان کا کہنا ہے۔ کہ حکومت نے اشیا خوردونوش مہنگی کرکے صرف نوالہ نہیں چھینا۔ بلکہ ایندھن مہنگی کرکے لوگوں کواس آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ کہ کب تک یہ لوگ بغیر لکڑی، گیس، بجلی یخ بستہ ہواوں اور موت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ جبکہ بجلی کی دستیابی کے باوجود ناقابل برداشت بلوں کی وجہ سے لوگ سردی سے بچنے کیلئے ہیٹر استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email