43

چترالی زبان کو ترقی دینے کے لیے ہفتے میں پختونخوا ریڈیو سے ایک کی بجائے دو پروگرام براڈکاسٹ ہونگے۔وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی

خیبرپختونخوا  کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے چترال سے شندور تک سڑک کے لئے صوبائی حکومت نے 15 ارب 75 کروڑ روپے اور چترال میں 15 پولو گراونڈ سمیت ترقیاتی منصوبوں کے لئے اربوں روپے فنڈ کی منظوری دی ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے چترال کی بہت اہمیت ہے سیاحت کے فروغ کے لیے چترال کی ترقی ناگزیر ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرکائیوز اینڈ پبلک لائبریری پشاور میں منعقدہ تقریب ”چترال کلچر اینڈ کھپوڑ ڈے“ سے بطور مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ سمیت انجمن ترقی کھوار کے نمائندوں، دانشوروں اور چترال کمیونٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ دنیا میں جو لوگ اپنی ثقافت سے محبت کرتے ہے ان کی ثقافت کبھی ختم نہیں ہوتی چترالی دنیا میں جہاں بھی رہتے ہیں اپنی ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں، ترچ میر، مارخور، چکور، دریا چترال کے پاس ہیں۔ چترالی کلچر پاکستان کا کلچر ہے۔ چترال سیاحت کے لئے موضوع ترین جگہ ہے دنیا کو یہ خطہ دکھانے کے لیے چترال کے انفراسٹرکچر کو بہتر کر رہے ہیں کیونکہ وزیراعظم عمران خان سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے چترال کے ساتھ انصاف نہیں کیا رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہونے کے باوجود ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز رکھا گیا پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے چترال میں سیاحت کے فروغ کے لیے 3 ارب، چترال کی بیوٹیفیکیش کے لیے 37 کروڑ، کیلاش کے لیے 4 ارب، چترال تا شندور روڈ کے لیے 15 ارب اور پولو کھیل کو مزید ترقی دینے اور دنیا کو دکھانے کے لیے چترال میں 15 پولو گراؤنڈز سمیت اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ چترالی زبان کو ترقی دینے کے لیے ہفتے میں پختونخوا ریڈیو سے ایک کی بجائے دو پروگرام براڈکاسٹ ہونگے جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن پر بھی چترالی کو جگہ دینے کے لیے اپنی کوشش کرینگے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ہمارے ملک میں گیس، تیل، کوئلہ، پانی، لکڑی، معدنیات بے تحاشا ہے لیکن سابقہ حکومتوں نے کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا ملک کے تمام اداروں کو خسارے میں چھوڑا گیا تحریک انصاف کو پاکستان کے تاریخ کا سب سے بڑا مالی خسارہ ملا تھا۔ پی پی پی اور پی ایم ایل این نے 24 ہزار ارب کا قرضہ لیا جس کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت واپس کر رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کی وجہ سے 32 فیصد ایکسپورٹ بڑھی ہے اور روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے پچھلی حکومتوں نے ڈالر کی قیمت مصنوعی طور پر برقرار رکھنے کے لیے قرضے لیے۔ جون سے ابتک حکومت نے سٹیٹ بینک سے ایک روپے قرض نہیں لیا پاکستان کی معیشت مضبوط ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں لوگوں کا اعتماد بڑھا ہے

Print Friendly, PDF & Email