134

لوک ورثہ اسلام اباد میوزیم میں چترالی ثقافت کو بھر پور حصہ دیا جائے گا۔ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر لوک ورثہ۔

اسلام آباد۔/پاکستان کی معروف قومی ادارہ لوک ورثہ اسلام آباد میوزیم کو ملک مختلف النوع ثقافتوں کا امین سمجھا جاتا ہے۔اس میوزیم میں مختلف علاقوں کی منفرد ثقافتوں کی نمائندگی اور نمائش کے لیے محصوص گیلیریاں مختص کی گئی ہیں۔نیز ان گیلیریوں میں ان علاقوں کے علاقائی اور روایتی لباس میں ملبوس مورتیں،فن تعمیر،دستکاریاں عرض دیگر روایتی و ثقافتی چیزین نمائش کے طورپر رکھی گئی ہیں۔ اس طرح یہ میوزیم اپنے دیکھنے والوں کو ملک بھر کی علاقائی ثقافتوں کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔لیکن مقام صد افسوس اس عظیم قومی ادارے میں چترالی ثقافت کو نمائندگی نہ دینے کے برابر ہے بلکہ نمائندگی بالکل نہیں ہے۔حالانکہ چترالی ثقافت کو د نیا بھر کی مقبول ترین ثقافت کی حیثیت حاصل ہے۔
گزاشتہ روز کھوار قلم قبیلہ چترال کی اراکین ذاکر محمد زخمی صدر علاوالدین عرفی جائنٹ سکرٹری،صاحب ولی اسرا اور ذاہد حسین خراسانی پر مشتمل وفد نے جب میوزیم کا دورہ کیا تو لوک ورثہ میوزیم میں چترالی کلچر کی نمائندگی کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر لوک ورثہ جناب طلحہ علی کشواھا،ڈپٹی ڈائریکٹر محترمہ ڈاکٹر زوبیہ سلطانہ اور تیکنکی کنسلٹنٹ جناب نعیم صافی سے ملاقاتیں کی اور چترالی تہذیب و ثقافت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے لوک ورثہ کی میوزیم میں چترالی ثقافت کی نمائندگی اور نمائش کے لیے گلیری مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈائریکٹر لوک ورثہ قلم قبیلہ چترال کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اپ نے صحی وقت پر رابطہ کیا اور انشاء اللہ بہت جلد اپ کی مطالبے پر غور کیا جائے گا۔ انھوں نے تیکنکی کنسلٹنٹ نعیم صافی صاحب کو خصوصی ہدایت کی۔کہ اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دیکر ترجیحی بنیاد پر کام کو اگے بڑھایا جائے۔وفد نے لوک ورثہ کی مطبوعات چترال کی لوک کہانیاں اور بابا سیر کی کتابیں مارکیٹ میں دستیاب نہیں جب کہ ان کی مانگ زیادہ ہے۔ادارہ ان کتابوں کی دوبارہ اشاعت کی بھی منظوری دے دی۔قلم قبیلہ چترال اس سلسلے لوک ورثہ کی شکر گزار ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں