91

مگر ان سب سے بہتر ہے کہ تم انسان بن جاؤ…… ممتاز گوہر

کوہستان میں حالیہ دنوں ملک آفریں کے حق میں ہونے والے جلسے سے خطاب کرنے والے صاحبان کی سوشل میڈیا میں موجود ویڈیوز کو دیکھا. ان صاحبان نے اپنے جذبات، احساسات، علم، درکار معلومات اور ملک آفرین سے تعلق کو سامنے رکھتے ہوئے جو کچھ کہا وہ ان کے حساب سے ٹھیک ہے۔ جب حکومت سکول اور اساتذہ نہ دے علم سے دور رکھے آئین کے آرٹیکل 25 اے پر عمل درآمد نہ ہو۔ کلچر اور غیرت کے نام پر قلم کے بجائے کلاشنکوف ہاتھ میں تھمایا جائے۔ نظریہ ضرورت کے تحت پہلے عوام کے جذبات اور غیرت کو ابھارا جائے اور پھر نام نہاد مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔ حکومت خود کی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہو۔ تو ایسے میں وہاں کے بلند خان اور اس جیسے لوگوں سے امن، محبت اور پھول باٹنے کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیئے۔

حیرت اس بات پر نہیں کہ حکومتی رٹ مخصوص علاقوں، مخصوص لوگوں و مخصوص فرقوں تک محدود کیوں ہے۔ بلکہ حیرت تو کوہستان کے اہل دانش سے، علماء سے، امن پسندوں سے اور پڑھے لکھے لوگوں سے ہے جو کوہستان کے ان چند صاحبان کی مسلکی اور نفرت انگیز تقاریر پر بھی مکمل خاموش رہے۔ ہاں ایسے میں کوہستان کے ہی کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا میں ببانگ دہل غلط کو غلط کہہ دیا جو کہ خوش آئند امر ہے۔

علاقائی معاملات ہوں، مذہبی و مسلکی ہوں یا سیاسی یہاں کے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی ہر کسی نے کوشش کی ہے۔ اس بار ہندراپ کے واقعے پر بھی ایسا ھی ہوا ہے۔ ہندراپ کے لوگوں اور ملک آفریں کے قبیلے کے درمیان چراگاہ کا تنازعہ ہے۔ کچھ ماہ قبل ملک آفریں پر ہندراپ کے چار نوجوانوں کے اغواء کا مقدمہ پولیس نے درج کر لیا۔ کیس عدالت میں چل رہی پولیس نے تفتیش کے لئے ملک آفریں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد ملک آفریں اور ان کے ہمدردوں نے قانون کے بجائے مسلکی اور علاقائی کارڈ کو خوب کھیلا۔ شائد انھیں حکومت اور حکومتی رٹ سے آگاہی برسوں سے رہی ہے۔

آپ حکومتی رٹ کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اگر جلسے میں جس طرح کی دھمکیاں اور زبان کا استعمال کیا گیا اگر یہ سب کچھ غذر یا گلگت بلتستان کے کسی حصے میں ہوتا تو آج وہاں سب پر اے ٹی اے اور شیڈول فور لگا ہوتا۔ سب پابند سلاسل ہوتے۔ بے شک وہ دس دس بار ہی کیوں نہ معافی مانگ چکے ہوتے۔

جس مسئلے پر شاہراہ قراقرم سے کسی گزرنے نہ دینے سمیت دیگر جو دھمکیاں دی جا ری ھیں یہ مسئلہ گلگت بلتستان اور کوہستان کا نہیں ہے بلکہ  ہندراپ گاؤں اور ملک آفریں کے قبیلے کے درمیان چراگاہ کا تنازعہ ہے. یہ کیس عدالت میں ہے. عدالتی فیصلے سے قبل ہی مسلکی و علاقائی الزامات اور نفرت پر مبنی الزامات گلگت بلتستان کے مفاد میں ہیں نہ ہی کوہستان کے مفاد میں ہیں. صبر سے کام لیں عدالت اور پولیس کو اپنا کام کرنے دینے میں ہی سنجیدگی ہے۔

ہتھیار لہرا کر زبردستی زمینوں پر قبضے، دھمکیوں سے ڈرانا، مسافروں کی لاشیں گرانا کوئی کمال نہیں. کمال تو تب ہے جب قانون کا سہارا لے کر مقدمہ جیت لیا جائے. ملکی اداروں کا احترام اور انھیں مضبوط بنایا جائے. نفرتوں کے بجائے محبتوں کو عام کیا جائے اور اسلام کے تعلیمات کی صرف تبلیغ کے بجائے ان پر حقیقی معنوں میں عمل بھی کیا جائے۔

ہمیں یہ معلوم ہے کہ کوہستان کے لوگ شاہراہ قراقرم میں کسی بھی حادثے کی صورت میں زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کے  لئے سب سے پہلے پہنچ جاتے ہیں ہسپتالوں میں زخمیوں کو خون دیتے اور جانیں بچاتے وقت کبھی ان کے مسلک کے بارے میں نہیں پوچھتے. دریا برد ہونے والی لاشوں کو نکالنے کے دوران بھی یہ سوال نہیں کیا کہ یہ لاش کس مسلک سے تعلق رکھنے والے بندے کی ہے. اس وقت ان کے دلوں میں صرف انسانیت ہوتی ہے کوئی مسلکیت اور نفرت نہیں ہوتی۔

یہاں کے مجموعی لوگ شاہراہ قراقرم کے محافظ ہیں یہ سی پیک کو کامیاب اور پاکستان کو مضبوط و خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں. یہ لوگ بلند خان اور ان کے چند ساتھیوں کی طرح شاہراہ قراقرم میں نہتے مسافروں کی لاشیں گرانے کی دھمکیاں نہیں دیتے. کوہستان کے مجموعی لوگ سی پیک کے روٹ میں لاشیں گرانے کے نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کو بچانے کے حامی ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا ہے. امید یہی ہے کہ کوہستان کے سمجھدار لوگ سی پیک کو سبو تاژ کرنے کے لئے اپنے سرزمین کو استعمال کرنے نہیں دیں گے. ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنے والوں کو وہ خود بے نقاب کریں گے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہی شاہراہ ان کی روزگار اور ترقی کا سب سے بڑا سبب بھی ہے.

کچھ سال قبل شندور کے معاملے میں چترال کے ایک نامی گرامی شخص کو استعمال کیا گیا. اس کے ذریعے ایک نفرت انگیز کتابچہ بھی چھپوایا گیا. جس میں گلگت بلتستان کے لوگوں کو "را” کے ایجنٹ ڈکلئیر کرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور چترال کے عوام میں نفرتیں بڑھانے کی ہر ممکن کوششیں کی گئیں. بھاشا ڈیم اور حدود بندی پر کوہستان اور گلگت بلتستان میں نفرتیں بڑھائی گئیں اور اب ہندراپ کے واقعے کے بعد ان نفرتوں کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گلگت بلتستان کے ہمسائیوں کے ساتھ تنازعات کو حل کرنے کے بجائے انھیں طول دے کر دوریاں بڑھائی جا رہی ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔

ایسے مذہبی و مسلکی کارڈ ہمیشہ الیکشن کے دنوں میں خوب استعمال کیے جاتے ہیں. گلگت بلتستان کے الیکشن بھی قریب قریب ہیں تو اس طرف بھی توجہ دینا ہوگا کہیں خون کسی کا بہے اور اس کے بدلے کرسی کسی اور کونصیب نہ ہو. مزے کی بات یہ ہے کہ اس حوالے سے گلگت بتستان کی حکومت نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے. حفیظ الرحمن صاحب اور ان کے مخصوص وزراء ہوائی جہاز پر سفر کر رہیں ہیں تو شاید انھیں مسلک کے بنیاد پر لوگوں کو سفر سے روکنے کی دھمکی سے کوئی سروکار نہ ہو۔

بات وہی آ جاتی ہے کہ گلگت بلتستان اور کوہستان آپس میں ثقافتی، لسانی و مذہبی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں. نفرتوں اور دوریوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے. سوشل میڈیا کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا جائے. اگر بلند خان روڈ پر نکل کر بلند بلند دھمکیاں دیں تو اس کا جواب سوشل میڈیا میں اس سے بھی بڑی بڑی دھمکیوں سے دینا کوئی عقلمندی نہیں ہے. یہ ہندارپ اور اس پار کے لوگوں کا مسئلہ ہے عدالت کو اپنا کام کرنے دیا جائے. اور وہاں سے جو بھی فیصلہ آئے سب کو قابل قبول ہونا چاہیے۔ نفرت، شدت، عداوت جس طرف سے بھی ہو اس کی مذمت ہونی چاہیئے۔

گلگت بلتستان ہو کوہستان ہو یا چترال ان تینوں علاقوں کی حالت ایک جیسی ہے۔ یہاں مجموعی طور پر اب بھی ترقی کی رفتار فرقہ واریت کے مقابلے میں انتہائی سست ہے۔ جب تک یہاں کے عوام اس دلدل سے باہر نہیں نکلیں گے 2020 تو کیا 3030 بھی آئے حالت یہی رہے گی۔ اگر ہم عصر دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو اس فرقہ وارانہ سوچ سے خود کو باہر نکالنا ہوگا۔ یہ وقت آپس کے راستے روکنے اور لاشیں گرانے کا نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کا ہے۔ کیا کوہستان کے باسیوں نے اس بات پر کبھی غور کیا ہے کہ پاکستان کے قومی دھارے میں شامل ہوتے ہوئے بھی یہ علاقہ گلگت بلتستان سے پیچھے کیونکر ہے۔ تعصب، فرقہ واریت کو ختم کرکے مثبت سوچ کے ساتھ اب بھی آگے نہیں بڑھے تو یہ ہماری اجتماعی بد قسمتی ہوگی۔

بشر چاہے جہاں کا ھو مِلو یک جان بن جاؤ
تعصُب بھی کرو ایسا کہ تم زیشان بن جاؤ

شعیہ ھے ڈاکٹر تو پھر سُنی کپتان بن جاؤ
ہے گُل اِسماعیلی چاھو تو اک گُلدان بن جاؤ

کوئی کرنل حَسن بابر کوئی شیر خان بن جاؤ
اگر جانباز بننا ھے تو لالک جان بن جاؤ

مگر ان سب سے بہتر ہے کہ تم انسان بن جاؤ

Print Friendly, PDF & Email