104

گریڈ اسٹیشن اپر چترال پر کام جلد شروع ہو جائیگا۔ خاندان کالج میں قائم شدہ قرنطینہ مرکز میں سہولیات بہتربنائی جائیگی۔ ایم۔این۔اے چترالی

بونی(ذاکر ذخمی سے)آج ایم۔این۔اے چترال محترم مولانا عبد الاکبر چترالی امیرِ جماعت اسلامی لوئیر چترال مولانا جمشید اور امیر ِجماعت اسلامی اپر چترال مولانا جا نوید کے ساتھ اپر چترال کا مختصر دورہ کیا۔ دورے کا مقصد موجودہ صورتِ حال میں اپر چترال میں حالات کا جائزہ لینا اور درپیش مسائل سے اگاہی حاصل کرکے بالائی حکام کو اگاہ کرنا تھا۔ اس سلسلے خاندان کالج میں قائم شدہ قرنطینہ مرکز کا دورہ کیا جہاں موجود لوگوں سے مسائل سے اگاہی حاصل کی اور انتظامیہ کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات کا جائزہ لیا اور قرنطینہ مرکز میں سہولیات مزید بہتر بنانے اور کردار ادا کرنے کی یقین کی۔ بعد میں بونی میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا دورہ کیا۔ جہاں پر تحریکِ تحفظِ حقوقِ اپر چترال کے نمائیندہ گان اور ہسپتال سٹاف موجود تھے۔ یہاں ایک مختصر تقریب کا انعقاد ہوا۔ تقریب کا باقاعدہ اغاز مولانا جمشید کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔تحریک تحفظ حقوقِ اپر چترال کے انفارمیشن سکرٹری اور نوجوان سیاسی قیادت پرویز لال ایم۔این۔اے چترال کو خوش امدید کہا اور علاقے کی مسائل کے حل میں دلچسپی لینے پر ایم۔این۔اے کا شکریہ ادا کیا۔ پرویز لال نے کہا کہ جب بھی اپر چترال کی مسائل اجاگر کی جاتی ہے تو مولانا صاحب خندہ پیشانی سے انھیں بالائی حکام تک پہنچاتے ہیں اور انہیں حل کرنے میں ہمیشہ دلچسپی لی ہے۔ اور ہر پریشانی کے وقت اپ ہمارے درمیان ہوتے ہیں اس لیے میں اپنے اور حقوق کے طرف سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پرویز لال اپر چترال میں نہ ختم ہونے ولا بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور موجودہ صورت حال میں ہسپتال کو درپیش مسائل کے بارے ایم۔این۔اے۔کو اگاہ کیا۔ سنئیر صدر تحریک اور بزرگ سیاسی راہ نما رحمت سلام لال نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ اور ایم۔این۔اے کے کاوشوں کو سرہا اور مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی درخواست کی۔ بعد میں ایم۔این اے مولانا عبد الاکبر چترالی نے اپنے خطاب میں تحریکِ حقوق اپر چترال کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ہمیشہ عوامی مفاد کے مسائل اجاگر کرتے رہتے ہیں ان کی اس تحریک سے مسائل بالائی حکام تک پہنچانے اور انہیں حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اور اسانیاں پید ا ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ تحریکِ حقوق مسائل حل کرنے میں ہمارے ساتھ معاونت کر رہی ہے۔ ان کی آواز کو لیکر ہم اطمینان سے مسلے کو اٹھاتے ہیں۔ آپ نے کہا کہ ان کی مطالبے پر اپر چترال کے گریڈ اسٹیشن کا مسلہ میں نے قومی اسمبلی میں اٹھایا۔ وہ منظور ہو کر کام شروع ہونے کے مرحلے پر ہے اور پندرہ کروڑ روپے اکاونٹ پر منتقل بھی ہو چکے ہیں جونہی کرونا وائریس کی پریشانی ختم ہوگی تو گریڈ اسٹیشن پر کام شروع ہوگا۔ اپر چترال کی بجلی کے مسلہ کا واحد حل گریڈ اسٹیشن ہے۔ آپ نے مزید کہا کہ اپر چترال کے بجلی کے مسلے کو حل کرنے کے بارے میری دوسری تجویز منظور ہوا ہے جوکہ کوغذی میں سوئچ یارڈ سے سات میگاوٹ کی ٹرانسفارمر نصب کرکے اپر چترال کو بجلی فراہم کیا جائے گا اور اپر چترال کی بجلی کو جوٹی لشٹ گریڈ ایسٹشن سے مکمل علحیدہ کر لیا جائے گا۔ اس سے اپر چترال کے بجلی کا مسلہ تقریباً حل ہو گا۔ایم،این،اے نے کہا کہ اس وقت گولین گول پاور اسٹیشن میں پانی کا مقدار بڑھ رہا ہے۔اس سے بجلی کی پاور بھی بڑھے گی۔واپڈا اورپیڈو حکام سے رابطہ کرکے اپرچترال کے لوڈ شیڈنگ کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرینگے۔۔ایم۔این۔اے چترال ہسپتال اسٹاف کو مخاطب کرکے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ اس وقت بے سرو سامانی کے باوجود عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ موجودہ صورت حال میں حفاظتی الات اور دوسرے ساز و سامان نہ ہونے کے باوجود آپ صفِ اول میں کھڑے ہیں۔ میں آپ کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں اولین فرصت میں مسائل حل کرنے پر توجہ دونگا۔ اور اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے میں کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کی۔

Print Friendly, PDF & Email