72

تورکھو استارو پل کی بحالی کے سلسلے ہفتہ 5دستمبر سے احتجاجی مظاہرے،دھرنے اور لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ۔

اپرچترال(ذکرمحمدزخمی)عرصہ دراز سے تورکھو روڈ استارو کے مقام پر پُل ٹوٹنے کے باعث عوام تورکھو اور عوامِ یو۔سی تریچ کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ہزاروں جتن کے باوجود مسلہ پر نہ تو سیاسی نمائیندے توجہ دی نہ تنظامیہ اور نہ متعلقہ ادارہ سی۔اینڈ۔ڈبلیو کوئی خاطر خواہ کارکردگی انجام دی۔ علاقے کے عوام اپنے مسلے کو دائرے کے اندر رہتے ہوئے ہر فورم تک پہنچائی۔پرنٹ میڈیا سوشل میڈیااور الیکٹرامک میڈیا بھر پور طریقے سے مسلے کو اجاگر کیا لیکن نا عاقبت اندیش سیاسی نمائیندے اور دوسروں نے اس مسلے کو سنجیدہ لینے کے بجائے خاموشی پر اکتفا کیا انجام کار تورکھو اور یو۔سی تریچ کے کم و بیش 80ہزار آبادی محصور ہونے کے قریب پہنچ گئے موسم سرما کی برف باری شروع ہوئی۔علاقے میں دوسرے مسائل کے علاوہ اشیائے خورد و نوش کی قلت پیدا ہونے کا اندیشہ پیدا ہوا۔ تو علاقے کے عوام مجبوراً اپنے حق کے حصول کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سلسلے آج ایک میٹینگ تحصیل ہیڈ کوارٹر شاگرام میں منعقد ہوئی۔جس میں تورکھو کے ہر گاوں سے نمائیند ہ گی اور تریچ یو۔سی کی بھی بھر پور نمائیدہ گی شامل رہی۔ صدارت علاقے کے معزز شخصیت سابق یو۔سی ناظم عبد القیوم بیک نے کی۔ مسلے کی حساسیت کااس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کہ میٹینگ لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت کی وجہ سے جلسے کی شکل اختیار کی۔ اور ہر طبقہ ہائے فکر کے لوگ اس میں شریک ہوئے۔ نظامت کے فرائض احمد اللہ نے انجام دی۔تلاوت کلام پاک سے میٹینگ کا آغاز ہوا۔قاری امتیاز نے تلاوتِ کلام پاک پیش کی۔ میٹینگ میں ذیل افراد اپنے اپنے علاقے کی نمائیدہ گی کرتے ہوئے اظہار خیال کیے۔سابق کمشنر سلطان وزیر اجنو،قاضی جمیل کھوت، سابق ضلعی ممبر سیف اللہ شاگرام،سابق تحصیل ممبر علاو الدین عرفیؔ تریچ،مولانا امتیاز شاگرام، شاہد عالم لال سور وہت،سفیر اللہ واشیچ،اشرف نظار شوتخار،مغل واشیج،احمد زرین رائین،سابق ممبر امان اللہ اجنو،حاجی غفران مڑپ،حاجی حمید شاگرام،ظفر لال ریچ،عصمت اللہ سابق چیر مین واشیچ،سابق وی۔سی ناظم میر نظام الدین کھوت،مولانا ریاض شاگرام،امیر اللہ واشیچ اور ڈرائیور برادری کے نمائیندے بھی حالات کے پیش نظر اپنے خیالات پیش کیے۔ مقررین انتظامیہ کی بے حسی،سی۔اینڈ ڈبلیو کی غفلت اور سیاسی نمائیندوں کی خاموشی پر برہمی کا اظہار کیا۔جو کہ عرصے سے عوامی مشکلات کو نظر انداز کر کے مجرمانہ غفلت کے مرتکیب ہوئے ہیں۔ اس طرح متفقہ طور پر5دستمبر بروز ہفتہ بھر احتجاج کرنے، دھرنے اور لانگ مارچ کرنے کے فیصلے کے ساتھ متفقہ قرارداد پاس کی۔ جس میں متعلقہ تمام اداروں اور سیاسی نمائیندوں کو متنبہ کیا گیا کہ اگر فوری مسلہ حل نہ ہوا توبونی کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔اور اس سے امن و امان کا خطرہ پید ا ہوگا جس کی تمام تر زمہ داری انتظامیہ،سی،اینڈ ڈبلو اور سیاسی نمائیندوں پر عائد ہوگی۔ اپ نے بذاریعہ قرار داد یہ بھی واضح کردی کہ اگر اس روڈ میں خدانخواستہ کوئی واقعہ رونما ہوئی تو اس کی تمام تر زمہ داری انتظامیہ،سی،اینڈ ڈبلیو اور سیاسی نمائیندوں پر عائد ہوگی۔ اس سلسلے تمام مساجید اور جماعت خانوں کو خطوط بھی لکھے گئے کہ لوگوں کو ہفتہ کے دن جلسہ میں شرکت کرنے کی ترعیب دی جائے تاکہ عوام بوڑھے،بچے،جوان سب اپنے مسلے کے خاطر باہر نکلے اور حکومت کو مجبور کریں کہ ان کا یہ بنیادی مسلہ حل ہو۔

Print Friendly, PDF & Email