63

اپر چترال بجلی کے بارے طے شدہ معاہدے پر عمل درامد کو یقینی بنایا جائے۔تحریک تحفظِ حقوق اپر چترال

اپرچترال(ذاکر محمد زخمی)اپر چترال میں بجلی کے بدترین لوڈ شیڈنگ سے صارفینِ بجلی عرصے سے مشکلات و مصائب کا شکار ہیں۔ مسلے کے حل کے عرض کارنر میٹنگز احتجاجی جلسہ وغیرہ کے نتیجے میں یکم فروری 2021؁ء ایم۔پی۔اے چترال، انتظامیہ لوئیر و اپر کے نمائیندے،پیڈو واپڈاہے اہلکاروں اور تحریک حقوق کے نمائیندوں کی موجودگی میں طویل گفتگو کے بعد ایک متفقہ معاہدہ طے پا چکا تھا۔ جس کے تحت مالاکنڈ۔۔ کے 132 Kv ترانسمیشن لائن کے فوری بحالی کے لیے موثر اقدامات،غیر ضروری اڈوں کے خاتمے، گرین لشٹ میں اڈہ کی تنصیب، کمرشل لائینوں کو ہٹانے اور ساتھ بونی میں کمپلینٹ افس جلد ازجلد قائم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔۔لوڈ شیڈنگ کے شیڈول پر سختی سے عمل درامد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔معاہدے کے بعد تا اندام محکمہ پیڈو معاہدے پر عمل درامد کرنے میں ناکام اور بعض امور پر ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ جس سے عوامی میں بے چینی کا عنصر تا حال برقرار ہے۔طے شدہ معاہدے پر عمل درامد یقینی بنانے کے عرض سے آج تحریکِ حقوق اپر چترال کی بلاوے پر ایک میٹنگ بونی میں صدر تحریک تحفظِ حقوق اپر چترال مختار احمد کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں تحریک کے ہر گاوں سے نمائیندے شریک تھے۔ا ور متفقہ قرارداد کے ذریعے انتظامیہ اور محکمہ پیڈو کو متنبہ کیا گیا کہ اگر طے شدہ معاہدہ میں سے کسی ایک پوائنٹ پر بھی عمل درامد کرنے میں کوتاہی کی گئی تو عوام اپنے جائز اور ائینی حق کے لیے بھر پور احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔انتظامیہ اپر چترال کو چاہیے کہ ان کی موجودگی میں جو معاہدہ طے پا چکاہے۔ ان پر عمل درامد کو یقینی بنانے کے لیے پیڈو پر دباو ڈالا جائے۔ تاکہ غیر ضروری انتظامیہ اور عوام میں تناو کا صورت حال پیدا ہو کر امن و مان کا مسئلہ نہ ہو۔

Print Friendly, PDF & Email