112

’’و ا ثمھما اکبرمن نفعھما‘‘۔۔۔۔مقصودالرحمن چترال

پچھلے مہینے ضلع چترال میں منشیات فروشوں کے خلاف شدید کاروا ئی دیکھنے میں آئی۔ غالباً عباس مجید خان مروت DPOچترال کی دور کے بعد یہ سب سے بڑا کریک ڈاؤن تھی۔لیکن نتیجہ کے اعتبار سے ان اقدا مات کی کا میابی یا نا کامی کا تعین کرنا ابھی باقی ہے۔ تفصیلات کے مطا بق ڈپٹی کمشنر چترال نے اپنے ایگزیکٹیو پا ور کو استعمال میں لاتے ہو ئے ضلع چترال کے مشہور و مطلوب منشیات فروشوں پر 3MPOجیسے نا قابل ضما نت دفعات لگا کر اک مہینے کیلئے تمام سمگلروں کو پا بند سلا سل کیا۔بلا شبہ اس اک ماہ کے دوران چترال کے با سیوں نے سکھ کا سانس لیا اور ضلعے میں امن و آ شتی اور اطمنا ن و چین کا سما تھا۔مگر جو بات بتانا میرے اس تحریر میں مقصود ہے وہ اس کے مضمرات کا بیاں ہے۔ جی ہاں!! ہما رے مشا ہدے میں یہ بات دیکھنے میں آ ئی ہے کہ ان سماج دشمن عنا صر کے خلاف جو بھی کا روائی کی جا تی ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی زہریلے سانپ کے بل میں یا شہد کی مکھیو ں کے گھو نسلے میں لکڑ ی ڈال کر انھیں مشتعل کرنا۔رد عمل کے طور پر سانپ یا مکھیاں جس طرح غصے کا اظہار کر تی ہیں ایسا ہی جواب ان سمگلروں کی طرف سے دیکھنے کو ملتا ہے۔اور اس طرح اک ما ہ کی سزاء کاٹنے کے بعد وہ زیادہ ٹرین اور با ہمت ہو کر ہمارے معاشرے میں نا زل ہوتے ہیں۔معاشرے میں پہلے سے زیادہ مستعدی اور شدّومدّ کے ساتھ اپنے گھناؤنے کاروبار شرع کرتے ہیں۔ ہمارے کہنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس خوف سے انہیں کھلی چھٹی دی جائی،ان سماج دشمنوں سے دب کر رہا جائے اور ان کے خلاف کوئی کار وائی ہی عمل میں نہ لائی جائے بلکہ میری اس تحریر کا مدّعاتو یہ ہے کہ کاروائی ضرور کی جائے اور ہم موجودہ اقدام کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن ان اقدامات کو منطقی انجام تک پہنچا یا بھی جائے وگرنہ جسطرح بتا چکے ہیں ان کے مضر اثرات معاشرے میں مزید سرایت کر جاتے ہیں اور ہم بے چارے عوام کو ان سر سری کا روائیوں کا خمیا زہ پہلے سے بھی بھیانک صورت میں بھگتنے پڑتے ہیں۔کا روائی اس ارادہ سے کیا جا ئے جس میں شر کی نسبت خیر کا پہلو زیادہ ہو۔ ساتھ ساتھ میں اپنے معاشرے سے بھی استدعا کرتا ہوں کہ وہ ا س کارِ خیر میں عملاًانفرادی و اجتما عی طور پر حکو متِ وقت کے دست و بازو بن جا ئیں کیو نکہ ہماری خا موشی بھی جرم عظیم معلو م ہوتی ہے۔ہمیں بھی اب اس مجرمانہ سکوت کو توڑنا ہے۔اور دو قدم وآ گے بڑھ کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا داعی ہونا چا ہئے۔ میں یہاں ہمارے ارباب حل و عقد(جے آئی، و جے یو آئی)جو موجودہ ضلعی عنانِ حکو مت سنبھال چکیں ہیں انکی توجہ بھی اس طرف مبزول کرانا ضروری خیال کرتا ہوں کہ آپ کی توجہ بھی پراجیکٹز،مواصلات،و تر قیات سے بھی پیش پیش جس مسلے پر ہو وہ یہی ہونا چاہئے کیو نکہ اللہ تبا رک و تعالیٰ قرآن مجید کے سورہ حج میں آپ لوگوں کی بنیا دی ڈیو ٹی یہی امر بالمعروف و نہی عن منکرہی کو بتا یا ہے، دوسرے ترقیاتی کام ثا نوی حیثیت رکھتے ہیں۔ان سماجی جراثیموں کے خلاف مضبوط ،موثر اور نتیجہ خیز کا روائی کروائیں نہ کہ سال میں اک دفعہ کاروائی کرنے کے بعد انھیں بپّھرے ہوئے شیروں کی طرح بنا کے چھوڑ دیں۔کیونکہ اس کیلئے آپ حضرات عن داللہ و عن دالناس مسؤل بھی ہیں اور قابل گرفت و قابل موا خذہ بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں