80

سیلاب وزلزلہ زدگان چترال کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اُٹھائے گئے اقدامات ناکافی ہیں،مولاناعبدالاکبرچترالی

پشاور (نامہ نگاگر) سیلاب وزلزلہ زدگان چترال کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اُٹھائے گئے اقدامات ناکافی ہیں ۔ زلزلہ زدگان کو کچھ ریلیف تو مل چُکا ہے لیکن سیلاب زدگان کیلئے کئے گئے اعلانات صد ابصحرا ثابت ہوئے ۔ لوگوں سے حلفیہ بیان لینے کے بعد متاثرین کو امدادی چیک دینے کے بجائے اس مد میں موجود رقم کو منجمد کرنا متاثریں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے جس سے حالات مزید خراب ہونگے ۔ سیلاب سے تباہ شُدہ مواصلاتی نظام ، آبیاشی و آبنوشی کیلئے مطلوبہ دس ارب روپے دینے کے بجائے ایک سال کے دوران مختلف مدات میں صرف ایک ارب روپے ریلیز کرنا چترالی عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی اور ظلم ہے جس کی ہم شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ ان خیا لات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستا ن کے مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقعے پر جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کے ناظم مالیات عبدالحق سابق یوسی ناظم چترال ، شمشیر خان اور قاری کوثر نیازی بھی موجود تھے ۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا تمام اضلاع کو ان کے مساوی حقوق دینے سمیت صوبے کے سیلاب زلزلہ زدہ اور پسماندہ اضلاع کو بھی ان کے جائز حقوق دینے میں بری طرح ناکام ہوچُکے ہیں ۔ وزیراعلیٰ صوبے کے چیف ایگزیکٹیو بننے کے بجائے صر ف اور صرف ضلع نوشہرہ کے وزیر اعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ چترال کے ساتھ مسلسل ظالمانہ سلوک اور متاثریں سیلاب و زلزلہ زدگان کے ساتھ غیر وں جیسا رویہ رکھنے کے باوجود چترالی باشندے محب اسلام اورمحب وطن ہیں ہم ہر مشکل اور سختی برداشت کریں گے لیکن اپنے پیارے وطن پاکستان کو چھوڑکر کہیں بھی ہجرت نہیں کریں گے ۔ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستانی رہیں گے ۔ ہم صوبائی ومرکزی حکومتوں کو تنبیہ کرتے ہیں اگر فوری طور پر تمام متاثریں سیلاب و زلزلہ زدگان کو بھر پور امداد نہ دی گئی تو ہم آیئن پاکستان کے اندر رہتے ہوئے کوئی بھی قدم اُٹھانے سے دریغ نہیں کریں گے ۔ واضح رہے کہ اگر فوری طور پر انفراسٹکچرکی بحالی کیلئے مطوبہ رقم م مہیانہ کی گئی تو چترال کے تقریباً80 فیصد علاقوں میں آمد ورفت کا مثلہ مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہوجائیگا ۔اور اکثر دیہات کے بچے اور بچیان تعلیم کے حصول سے محروم رہ جائینگے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں