99

صوبائی حکومت مسائل کے حل کے بجائے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے مسائل میں روز بروز اضافہ کررہے ہیں۔پی پی پی چترال کاپریس کانفرنس

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) پاکستان پیپلز پارٹی چترال کے رہنماسلطان وزیر نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ چترال کو سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں، کسٹم ایکٹ کے نفاذ، لوکل گورنمنٹ فنڈ کی عدم فراہمی، تورکھو روڈ اور دوسرے ترقیاتی کاموں میں سست روی، ریشن بجلی گھر کی بحالی پر کام شروع نہ ہونے جیسے مسائل درپیش ہیں لیکن صوبائی حکومت مسائل کے حل کے بجائے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے مسائل میں روز بروز اضافہ کررہے ہیں۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں عا لمزیب ایڈوکیٹ، قاضی سجاد ، سید برہان شاہ، قاضی فیصل،حمید الجلال، قاضی وقار، عبدالحسین اور دوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سیلا ب اور زلزلہ سمیت دوسرے قدرتی آفات میں نقصانات کا معاوضہ ہر شہر ی کا بنیادی اور آئینی حق ہے لیکن ضلعی انتظامیہ کی نااہلی سے اب تک چترال کے غریب عوام اس سے محروم چلے آرہے ہیں اور نہ تو سیلاب برد انفراسٹرکچرز کی بحالی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قومی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اپنے دورہ چترال کے موقع پر 50میلین روپے کی گرانٹ کا سند ھ حکومت کی طرف سے اعلان کیا تھا لیکن اب تک ڈی۔سی چترال نے اس خطیر رقم کو بھی خرچ نہیں کیا جس سے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے زرعی قرضوں کی معافی کے اعلان کے چھ مہینے بعد بھی اس کا نوٹیفیکیشن جاری نہ ہونا بھی قابل افسوس بات ہے کیونکہ گزشتہ سال سیلاب کی وجہ سے ہزاروں کاشت کار متاثر ہوچکے ہیں ۔ سلطان وزیر نے چترال سمیت ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کو بھی اس غریب خطے میں غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کا مترادف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہوئے اس ظالما نہ فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ پی پی پی کے رہنمانے تورکھو روڈ کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر کو وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی نااہلی سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ فنڈ کی موجودگی کے باوجود اس روڈ پراجیکٹ کوکئی سالوں تک التوا میں ڈالنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ انہوں نے لوکل گورنمنٹ کے نظام کو مذاق قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایک طرف پی ٹی آئی حکومت گراس روٹ لیول تک اختیارات کی منتقلی کا ڈھنڈوراپیٹ رہی ہے تو دوسری طرف منتخب کونسلر کو کوئی فنڈ دینے کو تیار نہیں۔ انہوں نے ریشن کے مقام پر پیڈو کے بجلی گھر پر کام شروع نہ کرنے پر بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مستوج سب ڈویژن گزشتہ نو مہینوں سے تاریکی میں ڈوباہوا ہے اور لوگ روشنی کے لئے سولر سسٹم خریدنے لئے اپنے مال مویشی فروخت کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں۔ پی پی پی کے رہنما نے دریا کے کناروں سے تعمیراتی مقصد کے لئےبجری اور پتھر لانے پر پابندی اور ٹیکس لگانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ چترال کے عوام کو یہ فیصلہ کبھی بھی قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے موڑکھو کے مقام پر سہت گول میں سیلا ب اور مقامی آبادی کو درپیش خطرے کی طرف بھی حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔

DSC00131

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں