42

مظفر سید ایڈوکیٹ سے نیشنل بینک کی علاقائی سربراہ کی مالاقات،ر چترال میں دو حالیہ مزید دو شاخوں کا اضافہ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال) خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ سے نیشنل بینک آف پاکستان اسلامک بینکنگ ڈویژن کی علاقائی سربراہ صائمہ رحیم نے ریجنل بینکنگ آفیسر طارق محمود خٹک اور دیگر حکام کے ہمراہ ان کے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں مالاقات کی اور خیبر پختونخوا و فاٹا میں ربا فری اسلامک بینکاری کے فروغ سے متعلق اپنے بینک کی کارکردگی سے انہیں اگاہ کیا نیز اس ضمن میں صوبائی حکومت سے باہمی تعاون کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا مظفر سید ایڈوکیٹ نے صوبے کی معاشی ترقی میں نیشنل بنک کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کا مستقبل تابناک ہے جس کا بینکنگ سیکٹر کو بروقت فائدہ اٹھانا چاہئے جبکہ انہیں فخر ہے کہ ہماری جماعت کے امیر سراج الحق نے پاکستان میں بلاسود بینکاری کی داغ بیل ڈالی کے ساتھ ساتھ اسے عالمگیر مقبولیت بخشی اور جرمنی نے یہاں اسلامی بنکاری میں سرمایہ کاری کے علاوہ سراج الحق کے دورہ جرمنی میں اس پر سیر حاصل معلومات حاصل کیں آج پوری دنیا بالخصوص یورپی، افریقی، آسٹریلوی اور امریکی ممالک بلاسود اسلامی بینکاری کی طرف مائل ہیں اور اس مقصد کیلئے ہمارے علماء اور ماہرین معیشت سے بھی رابطے کئے جا رہے ہیں لہٰذا ہمارے بینکاروں کو اس شعبے میں اپنی بصیرت و مہارت کا بھرپور مظاہرہ کرنا چاہئے صائمہ رحیم نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں نیشنل بینک کی پہلے سے قائم رباء فری اٹھارہ اور خیبر ایجنسی میں ایک برانچ کے علاوہ دھمتوڑ اور چترال میں دو حالیہ مزید دو شاخوں کا اضافہ کردیا گیا ہے اسی طرح بٹگرام، بونیر، ہنگو، باجوڑ اور مہمند ایجنسی سمیت کئی شہروں میں آٹھ نئی شاخوں کا قیام بھی آخری مراحل میں ہے اسی طرح ملک بھر میں بینک کی موجودہ 104شاخوں کو آئندہ ایک سال کے دوران 150تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے وزیر خزانہ نے قومی ترقی میں نیشنل بینک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک قومی بینک ہونے کے ناطے نیشنل بینک سے ایسے ہی کردار کی توقع ہے جو عوام کی آواز اور انکی توقعات کا آئینہ دار ہو انہوں نے کہا کہ سودی بینکاری سامراجی قوتوں کی اختراع ہے جس کے ذریعے ہمیشہ عوام کا خون نچوڑا گیا اسلامی بینکاری انسانی استحصال سے پاک نظام پر مبنی ہے اور دنیا یہ حقیقت جان چکی ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور فلاحی دین ہے جس میں استحصال کی بجائے تمام شعبہ ہائے زندگی کی فلاح و بہبود پر توجہ دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اسلامی بینکاری کے فروغ اور اسکے تحت عوام کو مفید خدمات کی فراہمی کیلئے نئے مالی سال میں کئی مزید اقدامات کا جائزہ بھی لے رہی ہے انہوں نے بینک کو خیرپختونخوا میں اسلامی بینکاری کے فروغ کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون کایقین دلایا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں