چترال (محکم الدین ایونی)زلزلہ سے متاثر ہونے والے 450خاندانوں نے منگل کے روز ضلعی انتظامیہ کے رویے کے خلاف احتجاجکرتے ہوئے افغانستان ہجرت کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے ۔ متاثرین کی نمایندگی کرتے ہوئے سابق ناظم عبدالباری ،حاجی محترم شاہ ،قاری نظام الدین ،حسن محمد ، صلاح الدین طوفان نے بھوک ہڑتالی کیمپ سے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ بدھ کے روز 9بجے 450خاندانوں کے افراد دروش سے ارندو کی طرف مارچ کریں گے ۔ جس کا اُنہوں نے مصمم ارادہ کرلیا ہے، انہوں نے کہا ، کہ اُن کے احتجاج کا یہ چوتھا مہینہ ہے جوکہ 20 جنوری سے شروع کیا گیا ہے ۔ مگر ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ کی اس یقین دھانی پر احتجاج ختم کیا گیا تھا ۔ کہ وہ زلزلے سے نقصان شدہ مکانات کی دوبارہ سروے کروائیں گے ۔ اور آخری متاثر کو امدادی چیک دینے تک فائل بند نہیں کریں گے ۔ لیکن ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دروش بشارت احمد کے ذریعے دو مہینے سروے کرنے کے باوجود ابھی تک متاثرین امدادی چیکوں سے محروم ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔کہ ا نتظامیہ کے اس رویے کے خلاف اُنہیں دوبارہ میدان میں آنا پڑا ، اور پھر سے احتجاج اور بھوک ہڑتال کا چوتھا روز ہے ۔ لیکن اس کے باوجودضلعی انتظامیہ کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی ۔ اس لئے حکومتی رویے سے تنگ آکر مجبورا بروز بدھ ہجرت کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ انتظامیہ ہٹ دھرمی پر اُتر آئی ہے ۔ اور متاثرین کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دیتی ۔