*کھٹن دور اور دشوار گزار روڈ…… از (عوام غورو پرکوسب)

حالیہ سیلاب اور بارشوں کی وجہ غورو پرکوسب سائیڈ کا واحد سڑک جو یارخون کا واحد آلٹرنیٹ روٹ بھی ہے، سیلاب اور دریا کی کٹائی کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔
گزشتہ ایک ڈیڑھ مہینے سے علاقے کے عوام خصوصاً بیمار ، سکول کے بچے اور بچیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور بچے بچیاں ڈیڑھ مہینے سے مستوج میں مختلف گھروں میں ٹھہرنے پر مجبور ہیں ، کیونکہ دریا کے اس پار نہ کوئی سرکاری سکول ہیں اور نہ ہسپتال ، ان تمام سہولیات کیلئے علاقے کے عوام کومستوج جانا پڑتا ہے ،
علاقے کے ان مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے، ضلعی انتظامیہ اور دوسرے این جی اوز سے مایوس ہوکر علاقے کے اوورسیز بھائیوں نےاپنی مدد آپ کے تحت اس روڈ کو کھولنے کا فیصلہ کیا اور اس کیلئے آپس میں چندہ جمع کرنا شروع کیا ہے گاؤں میں موجود کسی ایکسکیویٹر کو لاکے زیر نگرانی سید صلاح الدین کام کا آغاز بھی کردیا تھا اسی اثنا میں ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے آفیشل پیج میں ایک خبر شائع ہوا کہ غورو پرکوسب لنک روڈ میں ڈی سی اپر چترال کے مالی معاونت سے بحالی کے کام کا آغاز ہوچکا ہے، جب پتا چلا کہ کام ڈپٹی کمشنر صاحب کے فنڈ سے ہو رہا ہے تو اورسیز بھائیوں نے اپنا فنڈ علاقے کے کسی اور کام میں لگانے کا فیصلہ کیا ، اب پتہ چلا کہ کل سے کام پھر بندہوا ہے، جب اس حوالے سے معلومات لی تو ڈی سی صاحب نے جو فنڈ کا وعدہ کیا تھا وہ ختم ہوگئے ، اب عوام غورو تا پرکوسب اور خاص کر وہ طلبہ و طالبات جو مسافر ہوئے ہیں ضلعی انتظامیہ اور دیگر این جی اوز سے امیدیں لگائی ہوئی ہیں کہ اس مد میں مذید فنڈ دے کر اس روڈ کو ٹریفک کیلئے ایک ہفتے کے اندرکھولا جائے بصورت دیگر اگر ضلعی انتظامیہ اور دوسرے اداروں کے پاس فنڈ کی کمی ہیں تو عوام غورو تا پرکوسب کی نظرین ان اورسیز بھائیوں کی طرف ہیں کہ وہ اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈال کر اپنے علاقے کی خدمت میں آگے آئیے…..شکریہ




