تازہ ترین

محکمہ پبلک ہیلتھ آیون کیلئے رمبور سے پانی لانے کی بجائے قابل عمل منصوبے پر فنڈ خرچ کرے ، نیا منصوبہ فنڈ کےضیاع کے سوا کچھ نہیں ۔ آیون عوامی حلقے

چترال (محکم الدین ) وی سی آیون ون کے عوامی حلقوں نے محکمہ پبلک ہیلتھ کی طرف سے رمبور سے پائپ لائن کے ذریعے آیون کیلئے واٹر سپلائی سکیم کی تعمیر کو حکومتی خزانے کے ضیاع اور کرپشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس فنڈ کو قابل عمل منصوبے پر خرچ کرکے عوام کو صاف پانی مہیا کیا جائے جس سے اب تک وی سی آیون ون کے دیہات خصوصا گاؤں درخناندہ مکمل طور پر محروم ہے ۔ جس کا ثبوت یہ ہے۔کہ یہاں کے لوگ اب بھی پینے کے صاف پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور صاف پانی کے حصول کیلئے گاؤں میں موجود چند ہینڈ پمپ پر دن بھر لوگوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے علاقے کے مختلف لوگوں نے کہا کہ نئے پراجیکٹ کی تعمیر سے پہلے کروڑوں روپوں کی لاگت سے تعمیر شدہ ناکام منصوبوں کے بارے میں متعلقہ ادارے کے خلاف نہ صرف انکوائری ہونی چاہئیے ۔ بلکہ ادارے کے ذمہ داروں کو سنگین سزا ہونی چاہئیے کہ کیونکر ناکام منصوبوں پر کروڑوں روپے ضائع کئے گئے ۔ جس سے ایک طرف عوام کے ٹیکس سے جمع شدہ ملکی خزانے کو ٹیکا لگایا گیا ۔ اور دوسری طرف عوام صاف پانی سے تا ایندم محروم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے ۔ کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے آیون نالے کے پانی کو فلٹر کرکے صاف پانی مہیا کرنے کا شوشا چھوڑا گیا ، لیکن اپنی تعمیر سے آج تک یہ فلٹرٹینک صرف نمائش کیلئے موجود ہے ۔ عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکا، اور فنڈ فلٹریشن کے نام پر ہڑپ کئے گئے ۔
عوامی حلقوں نے کہا کہ رمبور کے چشمے سے صاف پانی آیون کو سپلائی کرنے کی بات تو بہت خوش کن ہے ، لیکن یہ حقیقت سے بہت دور پراجیکٹ ہے ۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی آیون کو صاف پانی فراہم کرنے کیلئے بمبوریت اور رمبور سے پائپ لائن بچھائے گئے اب صرف ان کے باقیات آیون کالاش ویلیز روڈ پر نظر آتے ہیں ، جو کہ خشک واٹر سپلائی منصوبوں کی یادگار ہیں، ان پائپ لائنوں کو بچھا کر پہلے فنڈ ہڑپ کئے گئے ۔ بعد میں جب ان کے ہیڈ سیلاب میں بہہ گئے ، تو وہی جستی اور پلاسٹک پائپ اکھاڑ کر متعلقہ ادارے کے ٹاؤٹ فروخت کر گئے ۔ اور دوہرے فوائد حاصل کئے ۔ جبکہ عوام تا ایندم آیون گول کا پانی بغیر فلٹریشن کے پینے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش ویلیز ہر سال سیلاب سے بری طرح متاثر ہو تےہیں ، اور موجودہ متوقع منصوبے کا منبع بالکل نالہ رمبور کی سطح پر ہے ۔ اور فاصلہ بھی بہت طویل ہے ۔ اسلئے اس پراجیکٹ کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں ۔ اس لئے کروڑوں روپے کے فنڈ سابقہ کی طرح اس منصوبے پر خرچ کرنا حکومتی خزانے کا ضیاع اور عوام کو خوش فہمی میں رکھنے کی ناکام کوشش ہے ۔عوامی حلقوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ نے اس سے قبل آیون درخناندہ میں سولر سسٹم کے ذریعے پانی بڑاوشٹ میں سٹور کرکے گاؤں کو سپلائی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کیلئے جگہ کی وزٹ بھی کی گئی تھی ۔ لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر قابل عمل منصوبہ ترک کرکے اب اس ناقابل عمل منصوبے کی تعمیر کی کوششیں جاری ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ پبلک ہیلتھ اس منصوبے پر نظر ثانی کرے ۔ اور ایسے قابل عمل پراجیکٹ پر کام کرے ۔ جس سے عوام کو صاف پانی مہیا ہو ۔ اور ادارے کی بھی نیک نامی ہو ۔ بصورت دیگر عوام آیون متعلقہ ادارہ کے خلاف میدان میں آنے پر مجبور ہوں گے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button