مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کی خصوصی ہدایات پر کوہ پیماؤں پر مشتمل گروپ ہندوکش پہاڑی کی بلند ترین چوٹی تریچ میر سر کرنے وادی چترال سے روانہ ہوگیا۔ ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس خیبرپختونخوا

چترال (نمائندہ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈ اپوراور مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کی خصوصی ہدایات پر کوہ پیماؤں پر مشتمل گروپ ہندوکش پہاڑی کی بلند ترین چوٹی تریچ میر سر کرنے وادی چترال سے روانہ ہوگیا۔ ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس خیبرپختونخوا کلچراینڈ ٹورازم اتھارٹی عمر ارشد خان نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی کاوشوں سے سال 2025-26 تریچ میر سال منانے کیساتھ ساتھ پاکستانی کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم چوٹی سر کرنے کیلئے جا رہی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ صوبائی حکومت نے ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کیلئے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ چھ کوہ پیماؤں کی ٹیم میں پاکستان کے مشہور کوہ پیماء سرباز بھی شامل ہیں جبکہ چترال سے محمد شمس القمر کوہ پیماء بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ہندوکش پہاڑی سلسلہ کی بلند ترین چوٹی تریچ میر 7708 میٹر بلند ہے جسے سب سے پہلے 1950میں ناروے کے کوہ پیماؤں نے سر کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات پر ہیلی کاپٹر ریسکیو سروس فراہم کرنے کیلئے چترال میں موجود ہونگے۔ تریچ میر سمٹ کیلئے کوہ پیمائی کا سامان نیپال اور چائنہ سے خریدا گیا ہے۔اس سمٹ سے چترال میں سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔ تریچ میرکی75ویں سا ل کی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔صوبائی حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ پاکستانی کوہ پیماؤں کو موقع فراہم کیا گیا۔
اس سے قبل دو گروپ تریچ میر بیس کیمپ تک ٹریکنگ کرنے کے بعد کامیاب واپس لوٹے ہیں۔تریچ میر سمٹ میں مقامی پورٹرز کی بڑی تعداد کو شامل کیا گیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ مقامی گاڑیاں، ہوٹلز اور دیگر آبادی کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔تریچ میر سمٹ میں شامل کوہ پیماؤں کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے اس اقدام سے مستقبل میں یہاں ایڈونچر ٹورازم کو فروغ ملے گا اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے کوہ پیماء یہاں چوٹی سر کرنے کیلئے وادی چترال کا رخ کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ مقامی پورٹرز کی تربیت کرنے سے ان کا فائدہ مستقبل میں ہوگااور ان کو نہ صرف یہاں کے راستے معلوم ہیں بلکہ یہاں کا رخ کرنے والے دیگر کوہ پیماء بھی ان کی خدمات حاصل کرینگے۔





