مضامین

نیو ایئر نائٹ: جشن یا فکری فریب؟………. تحریر: ابو سلمان

ہر سال 31 دسمبر کی رات جیسے ہی گھڑی بارہ بجنے کے قریب آتی ہے، دنیا بھر میں شور، آتش بازی، موسیقی، قہقہے اور رنگ برنگی روشنیوں کا سیلاب امڈ آتا ہے۔ اس رات کو دنیا “نیو ایئر نائٹ” کہتی ہے اور اسے ایک نئے سال کی آمد کی خوشی میں مناتی ہے۔ مگر ایک سنجیدہ مسلمان کے دل میں یہ سوال ضرور جنم لیتا ہے:
کیا یہ خوشی ہماری ہے؟ کیا یہ جشن ہماری تہذیب اور ایمان کا حصہ ہے؟
اسلام وقت کو ایک نعمت سمجھتا ہے، اور اس نعمت کا حساب بھی مانگتا ہے۔ ہمارے ہاں سال کی بنیاد ہجرتِ نبوی ﷺ پر ہے، اور اسی سے ہجری تقویم شروع ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے لیے اصل نیا سال ماہِ محرم سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ یکم جنوری سے۔ میلادی سال ایک انتظامی تقویم ضرور ہے، مگر اسے تہوار بنا لینا نہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے اور نہ ہماری شریعت کا۔
نبی کریم ﷺ نے ایک بنیادی اصول عطا فرمایا:
“جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔”
یہ حدیث محض لباس یا ظاہری وضع قطع کے بارے میں نہیں، بلکہ تہذیب، رسم و رواج اور تہواروں تک پھیلی ہوئی ہے۔ نیو ایئر نائٹ مغربی اور غیر مسلم تہذیب کا تہوار ہے، جس کی اپنی مخصوص رسومات ہیں: کاؤنٹ ڈاؤن، پارٹی، آتش بازی، ناچ گانا، شراب نوشی اور بے پردگی۔ جب کوئی مسلمان ان علامات کے ساتھ اس رات کو مناتا ہے تو وہ دراصل ایک غیر مسلم تہوار کی تقلید کر رہا ہوتا ہے، جو شرعاً ناپسندیدہ بلکہ کئی صورتوں میں حرام ہے۔
نیاسال منانااوراس کی مبارك باد دينا بے اصل ہے،نئے سال کی آمد پر خوشی منانا، پٹاخے پھوڑنا، تالیاں بجانا، سیٹیاں بجانا، ناچ گانا کرنایانئے سال کی مبارکباد دینے کیلئے موبائل سے ایک دوسرے کو SMSبھیجنا وغیرہ ، یہ سب غیروں کا طریقہ اوران کی نقالی ہے اور شريعت مطہرہ نے غیروں کی اتباع اور ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ممانعت فرمائی ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں الناس نیام اذاماتو انتبھوا
کہ لوگ سوئے ہوئے ہیں جب مرکرقبر میں جائیں گے تو پھر جاگ جائیں گے کہ اوہو میں نے کیا کرکے آ ناتھا اور میں کیا کیا کرکے آ یا
حقیقت یہ ہے کہ نیو ایئر نائٹ محض تاریخ کے بدلنے کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسی رات بن چکی ہے جس میں گناہ کو تہوار بنا دیا جاتا ہے۔ فحاشی، بے حیائی، فضول خرچی، نشہ اور اخلاقی بے راہ روی کو “انجوائے منٹ” کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم ہمیں صاف ہدایت دیتا ہے:
“گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔”
تو پھر ایسی محفلوں میں شریک ہونا یا ان کا حصہ بننا کیسے درست ہو سکتا ہے؟
کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ “ہم تو صرف خوشی مناتے ہیں، کوئی گناہ نہیں کرتے۔” مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی غیر مسلم تہوار کو تہوار بنا کر منانا ہی درست ہے؟ جب کاؤنٹ ڈاؤن ہو، مبارک بادیں ہوں، خصوصی تقریبات ہوں اور پوری فضا ایک تہوار کی شکل اختیار کر لے تو یہ سب محض اتفاق نہیں رہتا، بلکہ باقاعدہ تقلید بن جاتا ہے۔
اسلام ہمیں خوشی سے نہیں روکتا، مگر وہ خوشی جو گناہ، غفلت اور نقالی پر کھڑی ہو، وہ خوشی نہیں بلکہ دھوکہ ہے۔ اسلام ہمیں ہر نئے دن، ہر نئے سال اور ہر نئی صبح پر ایک اور موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، توبہ کریں، شکر ادا کریں اور اپنی زندگی کو بہتر بنائیں۔
ایک سچا مسلمان نئے سال کی آمد پر شور و غل نہیں کرتا، بلکہ خاموشی سے اپنے دل میں جھانکتا ہے:
پچھلا سال کیسا گزرا؟
کتنی نمازیں ضائع ہوئیں؟
کتنے گناہ ہوئے؟
کتنی نیکی کمائی؟
اور پھر وہ اپنے رب سے کہتا ہے:
“اے اللہ! جو غلط ہو گیا، معاف فرما، اور جو آنے والا وقت ہے، اسے میری اصلاح کا ذریعہ بنا دے۔”
یہی ہے اسلام کا نیا سال،
یہی ہے مومن کی نیو ایئر نائٹ
توبہ، دعا اور اصلاح کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور محمدعربی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے دشمنوں اور امت مسلمہ کے دشمنوں بالخصوص فلسطین کے معصوم بچوں ،بچیوں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرنے والے یہودو نصاری کی مشابہت اور تقلید سے مسلمانوں کواپنی حفظ وامان میں رکھے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button