تازہ ترین

لوئر چترال میں ای اسٹامپ سسٹم لوگوں کے لئے سہولت کے بجائے زحمت بن گیا، روزانہ درجنون بزرگ، خواتین اور نوجوان گھنٹوں قطاروں میں اسٹامپ پیپرزکے حصول کے لئے کھڑے ہونے پرمجبور

چترال (ڈیلی چترال نیوز ) ای اسٹامپ پیپرزخیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے عوام کی سہولت کے لیے متعارف کرایا گیا ۔ای اسٹامپ سسٹم  لوئر چترال کے عوام کے لیے شدید مشکلات اور ذہنی اذیت کا سبب بن گیا ہے۔  ضلع کے لیے اسٹامپ پیپرز کے اجراء کا اختیار صرف بینک آف خیبر کی چترال ٹاؤن برانچ کو دیے جانے کے باعث نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور شہری ایک اسٹامپ کے حصول کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

​ مقامی ذرائع کے مطابق چترال ٹاؤن برانچ کے باہر روزانہ صبح سویرے سے ہی شہریوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے بزرگ، خواتین اور نوجوان تین سے چار گھنٹے، اور بعض اوقات دو دو دن تک انتظار کرنے کے باوجود خالی ہاتھ لوٹ جاتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جو کام پہلے مینوئل طریقے سے چند منٹوں میں ہو جاتا تھا، اب اس کے لیے پورا پورا دن ضائع کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے صرف ایک ہی بینک کو اتھارٹی دینا سراسر ناانصافی اور وقت کا ضیاع ہے۔

​ اس سنگین صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے برانچ مینجر بینک آف خیبر چترال، شیر زمان نے بتایا کہ بینک حکومتی پالیسی کے مطابق خدمات فراہم کر رہا ہے۔ لیکن  پورے ضلع کا بوجھ ایک ہی برانچ پر ہونے کی وجہ سے رش زیادہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہابینک کا عملہ بغیر کسی وقفے کے ای اسٹامپ سروسز دے رہا ہے، جبکہ ہمیں اپنے 15 ہزار سے زائد مستقل صارفین کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ دیگر شہروں میں بینک عام طور پر بڑے مالیت کے اسٹامپ جاری کرتے ہیں، مگر چترال میں 50 روپے والا اسٹامپ بھی بینک کے سپرد کر دیا گیا ہے جس سے رش میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ  ای اسٹامپنگ سسٹم کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے خیبربینک حکام اپنی بساط کے مطابق بھرپورسروس فراہم کررہے ہیں۔

​ چترال کے عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ای اسٹامپ کی سہولت بینک آف خیبر کی دیگر برانچوں سمیت دیگر بینکوں کو بھی دی جائے تاکہ عوام کی خواری ختم ہو سکے اور وہ آسانی کے ساتھ یہ قانونی دستاویز حاصل کر سکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button