تازہ ترین

رشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔۔

رشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔۔

​معاشرے میں جب اخلاقی اقدار زوال پذیر ہوتی ہیں، تو لوگ گناہوں کو خوبصورت نام دے کر اپنا ضمیر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج ہمارے دفاتر میں "شیرنی”یا "چائے پانی” کے نام پر جو کچھ وصول کیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت وہی رشوت ہے جس کے بارے میں اسلام نے سخت ترین وعیدیں سنائی ہیں۔
​1. قرآن مجید کی روشنی میں
​اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دوسروں کا مال ناحق طریقے سے کھانے کو سختی سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
​”اور تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ اور نہ اسے (بطورِ رشوت) حاکموں تک پہنچاؤ کہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ کے طور پر جان بوجھ کر کھا سکو۔” (سورۃ البقرہ: 188)
​یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اپنا کام نکالنے کے لیے حکام یا اہلکاروں کو مال دینا ظلم اور ناحق عمل ہے۔
​2. احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
​رشوت کے معاملے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان نہایت سخت اور واضح ہے۔ آپ ﷺ نے صرف لینے والے کو نہیں بلکہ اس پورے عمل میں شامل افراد کو ملعون قرار دیا ہے:
​ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔” (ابوداؤد)
​ حدیث کا مفہوم ہے کہ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں آگ (جہنم) میں ہیں۔ جب کسی معاشرے پر اللہ کی لعنت پڑتی ہے، تو وہاں سے برکت، امن اور سکون رخصت ہو جاتا ہے۔
​3. "شیرنی” یا "ہدیہ” کا مغالطہ
​اکثر سرکاری ملازمین یہ دلیل دیتے ہیں کہ "ہم تو کام کرنے کے بعد خوشی سے دی گئی رقم لے رہے ہیں”۔ اسلام نے اس کا سدِ باب صدیوں پہلے کر دیا تھا۔
​بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق، نبی ﷺ نے ایک شخص (ابن اللتبیہ) کو زکوٰۃ جمع کرنے پر مامور کیا۔ جب وہ واپس آیا تو کہنے لگا: "یہ مال زکوٰۃ کا ہے اور یہ مجھے بطورِ ‘تحفہ’ ملا ہے”۔ نبی ﷺ منبر پر تشریف لائے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
​”وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا، پھر دیکھتا کہ اسے تحفہ ملتا ہے یا نہیں؟”
​اصول: اگر آپ اس کرسی یا عہدے پر نہ ہوتے، تو کیا کوئی آپ کو وہ ‘شیرنی’ دیتا؟ اگر جواب "نہیں” ہے، تو وہ رقم ہدیہ نہیں بلکہ رشوت ہے۔
​4. معاشرتی اثرات اور آخرت سے غفلت
​رشوت صرف ایک گناہ نہیں بلکہ پورے نظام کی تباہی کا پیش خیمہ ہے:
​حق تلفی: جب ایک نااہل شخص رشوت دے کر کام کروا لیتا ہے، تو ایک حق دار کی حق تلفی ہوتی ہے۔
​عدم اعتماد: غریب آدمی کا نظام سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔
​رزقِ حرام: رشوت سے پلے ہوئے جسم اور اولاد میں کبھی خیر و برکت نہیں آ سکتی۔

​رشوت خواہ وہ کسی بھی نام سے لی جائے، قطعی حرام ہے۔ تنخواہ لینے والے ملازم کے لیے اپنے فرائض کی ادائیگی کے بدلے کسی بھی قسم کی اضافی رقم وصول کرنا خیانت ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دنیا کے عارضی فائدے کے لیے اپنی آخرت تباہ نہ کریں اور معاشرے کو اس گندگی سے پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
​ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔” (سورۃ الطلاق)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button