تازہ ترین

عوام کو خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں سرکاری اداروں کے لیے واضح اہداف اور مانیٹرنگ کا بہترین نظام متعارف کرایا گیا ہے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں گورننس اور پبلک سروس ڈیلیوری سے متعلق بذریعہ ویڈیو لنک ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مؤثر اور جوابدہ بنایا گیا ہے ۔عوام کو بروقت اور معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر عوام کا اعتماد مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کو بروقت اور معیاری سہولیات کی فراہمی حکومت کی پہلی ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیےگڈ گورننس روڈ میپ کے ذریعے سرکاری خدمات کی فراہمی میں شفافیت اور تیزی لائی جا رہی ہے۔ عوام کو خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں سرکاری اداروں کے لیے واضح اہداف اور مانیٹرنگ کا بہترین نظام متعارف کرایا گیا ہے۔  اجلاس میں گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت مختلف شعبوں میں اب تک  حاصل شدہ چیدہ چیدہ اہداف اور نتائج پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں کیش لیس پیمنٹ انیشیٹیو کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ملک کی تاریخ میں پہلے خیبرپختونخوا ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2025 کی کابینہ سے منظوری لی گئی ہے اور جلد اسے صوبائی اسمبلی میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں 100 سے زائد  عوامی خدمات ڈیجیٹائز کر دی گئی ہیں جن میں جائیدادوں کے انتقال اور فرد کا اجراء بھی شامل ہیں۔ اسی طرح ای سمری اور ای آفس کے اجراء سے اب تک 1500 سے زائد سمریز،  600 سے زائد فائلیں وصول اور بھیجی گئی ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ 150 بیسک ہیلتھ یونٹس (بی ایچ یوز )  اور رورل ہیلتھ سنٹرز ( آر ایچ سی ) کو 24/7 چائلڈ برتھ سنٹرز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کے لیے 700 ڈاکٹروں کی کنٹریکٹ پر بھرتی کا عمل جاری ہے۔ اسی طرح  خالی آسامیوں پر 2400 میڈیکل آفیسرز کی بھرتی کے لیے سمری منظور ہو گئی ہے اور بھرتی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔  مزید برآں ، رواں سال اگست تک 72 صحت سہولیات کی آؤٹ سورسنگ بھی مکمل کر لی جائے گی۔  شعبہ سیاحت بارے بتایا گیا کہ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت سالڈ ویسٹ کولیکشن آؤٹ سورس کر دی گئی ہے جبکہ  کالام ، کاغان، کمراٹ اور گلیات کے لیے لینڈ یوز اور ماسٹر پلانز مرتب کرنے کا آغاز  ہو گیا ہے۔ سیاحتی علاقوں میں سیاحوں کی سہولت کے لیے کمیونٹی بیسڈ رہائش کے لیے مقامی لوگوں میں 15 کروڑ روپے کے بلا سود قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔  شعبہ زراعت میں حاصل شدہ اہداف بارے بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں گرافٹنگ کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ جنگلی زیتون کے درختوں کو یورپی اقسام کے زیتون کی پیداوار میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ
میکینائزڈ فارمنگ کے فروغ کے لیے کسانوں کو 200 مشینیں فراہم کی گئی  ہیں۔  اسکے علاؤہ مقامی لوگوں کی شراکت سے 700 واٹر کورسز کو اپگریڈ کیا گیا ہے ۔ شعبہ سماجی بہبود سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ 3177 یتیم اور 3380 بیوہ خواتین کو ماہانہ 5 ہزار فی کس فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ  20 اسپیشل ایجوکیشن انسٹیٹیوٹس کی ری ویمپنگ کی گئی ہے ۔
شعبہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں حاصل شدہ چیدہ چیدہ اہداف بارے بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے بندوبستی اور ضم اضلاع میں 500 سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ مکمل ہو گئی ہے۔ اسکے علاؤہ سرکاری و نجی اداروں میں زیر تعلیم 3500 طلباء کو سکالرشپس فراہم کی گئی ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم ، معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان ، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اجلاس میں شریک ہوئے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button