مضامین

ضعیف العمری اور اولاد کی بے حسی۔۔۔۔۔۔۔تحریر: را ااعجاز حسین چوہا

بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی تعلیم وتربیت اور معاشرے کا بہتری فرد ب ے تک ماں باپ اہم تری کردار ادا کرتے ہیں۔ بچے کی قدم قدم پر رہ مائی کرتے ہیں، اسے زما ے کے ہر سردوگرم سے بچاتے ہیں، بول ا، چل ا دوڑ ا اور س بھل ا سکھاتے ہیں۔ بچے کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں اور اس بیماری میں ٹوٹ کر رہ جاتے ہیں۔ بچے کے سائبا ب ے کی خاطر خود سارا سارا د کڑی دھوپ میں جلتے ہیں، مشقتیں اٹھاتے ہیں۔ گویا اس کے لیے اپ ی ز دگیوں کو وقف کردیتے ہیں، لیک صد افسوس کہ جب وہی بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو والدی کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ حالا کہ اس وقت ا کو اولاد کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس وقت وہ خدمت اور سکو کے محتاج ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی بے حسی کا ا دازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایک بار ہمارے ملک کی عظیم ہستی عبدالستارایدھی (مرحوم) سے پوچھا گیا، آپ ے ہزاروں لاوارث لاشیں دف کی ہیں کیا کبھی کسی لاش کی بگڑی حالت یااس پرتشدد دیکھ کررو اآیاتوا ہوں ے آ کھیں ب دکرکے گہری سوچ میں غوطہ ز ہوتے کہا م فرد ا کشاف کیا کہ ”تشدد یالاش کی بگڑی حالت تو ہیں، ہاں البتہ ایک مرتبہ میرے رضاکارایک صاف ستھری لاش لے کرآئے جوتازہ ا تقال کئے بوڑھے شخص مگرکسی پڑھے لکھے اورکھاتے پیتے گھرا ے کی لگ رہی تھی۔ اس کے سفیدچا دی جیسے بالوں میں تیل لگاہواتھااورسلیقے سے ک گھی کی ہوئی تھی دھوبی کے دھلے ہوئے سفیداجلے کلف لگے سوٹ میں اس کی شخصیت بڑی باوقارلگ رہی تھی مگرتھی وہ اب صرف ایک لاش۔ ایدھی صاحب پھرکچھ سوچتے ہوئے گویاہوئے، ہمارے پاس روزا ہ سی کڑوں لاشیں بھی لائی جاتیں، مگرایسی لاش جو اپ ے قش چھوڑجائے کم ہی آتی ہیں اس لاش کومیں غورسے دیکھ رہاتھاکہ میرے رضاکار ے جیسے بم پھوڑدیا، اس ے کراچی کے ایک پوش ایریا کا ام لے کرکہاکہ یہ لاش اس کے ب گلے کے باہرپڑی تھی ہم جو ہی ب گلے کے سام ے پہ چے توایک ٹیکسی میں سوارفیملی جوہماراہی ا تظارکرہی تھی اس میں سے ایک وجوا برآمدہوااورجلدبازی کامظاہرہ کرتے ہوئے ایک لفافہ ہمیں تھماتے ہوئے بولایہ تدفی کے اخراجات ہیں پھروہ خودہی بڑ بڑایا یہ میرے والدہیں ا کاخیال رکھ ااچھی طرح غسل دے کرتدفی کردی ا۔ات ے میں ٹیکسی سے آوازآئی تمہاری تقریرمیں فلائٹ کل جائے گی جا وپلیز۔۔۔! یہ س تے ہی وجواں پلٹااورمزیدکوئی بات کئے، ٹیکسی میں سوارہوگیااورٹیکسی فراٹے بھرتی ہوئی آ کھوں سے اوجھل ہوگئی۔ ایدھی صاحب بولے اس لاش کے متعلق جا کرمجھے بہت دکھ ہوااورمیں ایک بارپھراس بدقسمت شخص کی جا ب دیکھ ے لگاتومجھے ایسے لگاجیسے وہ بازو واکئے مجھ سے درخواست کررہاہوکہ ایدھی صاحب ساری لاوارث لاشوں کے وارث آپ ہوتے ہیں مجھ بدقسمت کے وارث بھی آپ ب جائیں۔ میں ے فوراً فیصلہ کیاکہ اس لاش کوغسل بھی میں خود دو گااورتدفی بھی خود کرو گاپھرجو ہی غسل دی ے لگاتواس اجلے جسم کودیکھ کرمیں سوچ میں پڑگیاجوشخص اپ ی ز دگی میں اس قدرمعتبراورحساس ہوگا کہ اس ے اپ ی اولادکی پرورش میں کیا کیا ازو عم ہ اٹھائے ہو گے مگربیٹے کے پاس تدفی کاوقت بھی ہ تھااسے باپ کوقبرمیں اتار ے سے زیادہ فلائٹ کل جا ے کی فکرتھی۔ اوریوں اس لاش کوغسل دیتے ہوئے میرے آ سوچھلک پڑے پھروہ اپ ے ک دھے پررکھے کپڑے سے آ سوپو چھتے ہوئے بولے اس د ایدھی ا سا یت کی ڈوبتی اقدار پر، اور بڑھتی معاشرتی بے حسی پر روپڑا تھا“۔ آج کے معاشرے میں دیکھا گیا ہے کہ بہت سی جگہوں پر اولاد والدی کے معاملہ میں بڑا سخت رویہ رکھتی ہے، ماں باپ اگر صیحت کریں تو قطعاً ہیں ما ا جاتا۔ ایسے افرما وں کو اپ ی پیدائش کے مراحل کو یاد کر ا چاہیے اور یہ بھی کہ والدی ے کس طرح اسے چل ا سکھایا، بول ا سکھایا، اس کی پرورش کی اور والدی کی عظیم خدمات کی بدولت آج اسے یہ مقام و مرتبہ ملا ہے۔ا سا کے لیے سب زیادہ مخلص اس کے والدی ہوتے ہیں جو کہ خود سارے دکھ اور پریشا یاں جھیلتے ہوئے ہ صرف اولاد کی پرورش کرتے ہیں بلکہ اسے ترقی کی اعلیٰ م ازل پر دیکھ ا چاہتے ہیں، ا کی یاد میں محض ایک د م ا ا کافی ہیں ہوتا۔ آج ہمیں اپ ی ٹھاٹھ کے ساتھ ساتھ اپ ی آخرت اور ا جام کو بھی یاد رکھ ا چاہیے، بلاشبہ آج جو ہم بوئیں گے کل وہی کاٹ ا ہے، وہ فرتیں ہوں یا محبتیں، احساس ہو یا بے حسی ……!
٭……٭……٭

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button