9 اگست — عالمی یومِ مقامی اقوام: خیبر پختونخوا کی زبانیں، ثقافتیں اور ہماری شناخت……. تحریر: بشیر حسین آزاد

دنیا بھر میں ہر سال 9 اگست کو عالمی یومِ مقامی اقوام (International Day of the World’s Indigenous Peoples) منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا کی مقامی اقوام اور برادریوں کی زبانوں، ثقافتوں، روایات، تاریخی شناخت، روایتی علم اور حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
یہ دن صرف دنیا کے دور دراز علاقوں میں آباد مقامی اقوام کے بارے میں سوچنے کا دن نہیں بلکہ ہمارے اپنے معاشرے، اپنی زبانوں، اپنی تہذیب اور اپنے ثقافتی ورثے پر غور کرنے کا بھی موقع ہے۔
پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا لسانی، ثقافتی اور تہذیبی اعتبار سے انتہائی متنوع خطہ ہے۔ یہاں صدیوں سے مختلف زبانیں بولنے والی برادریاں اپنی مخصوص روایات، ادب، موسیقی، لباس، رسم و رواج اور طرزِ زندگی کے ساتھ آباد ہیں۔
یہ تنوع ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہماری طاقت اور خوبصورتی ہے۔
خیبر پختونخوا — زبانوں اور ثقافتوں کا گلدستہ
خیبر پختونخوا کو عام طور پر پشتون ثقافت اور پشتو زبان کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے، اور یقیناً پشتو اس خطے کی سب سے بڑی اور اہم زبانوں میں سے ایک ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا کی شناخت صرف ایک زبان یا ایک ثقافت تک محدود نہیں۔
یہاں پشتو، کھوار، ہندکو، سرائیکی، کوہستانی زبانوں، شینا، گوجری، توروالی، گاؤری، یدغہ، کیلاشہ مون اور دیگر مقامی زبانوں سمیت متعدد لسانی و ثقافتی روایات پائی جاتی ہیں۔
ہر زبان اپنے اندر ایک الگ دنیا رکھتی ہے۔ اس زبان کے اندر اس خطے کے لوگوں کی تاریخ، احساسات، لوک دانش، داستانیں، شاعری، موسیقی اور صدیوں کا تجربہ محفوظ ہوتا ہے۔
اس لیے کسی زبان کا تحفظ دراصل ایک پوری ثقافتی دنیا کو محفوظ کرنا ہے۔
چترال — ثقافتی تنوع کی ایک منفرد مثال
خیبر پختونخوا کے شمال میں واقع چترال اس لسانی اور ثقافتی تنوع کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
چترال میں کھوار ایک بڑی اور اہم زبان ہے، جبکہ کالاشہ مون سمیت دیگر مقامی زبانیں بھی اس خطے کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔
چترال کی شناخت صرف اس کے بلند پہاڑوں، دریاؤں، چراگاہوں اور قدرتی حسن سے نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کی زبان، شاعری، موسیقی، لوک داستانوں، روایتی لباس، دستکاری، مہمان نوازی اور تہواروں سے بھی ہے۔
چترال کے مختلف علاقوں میں رائج روایات اس خطے کی صدیوں پر محیط تاریخ کی عکاس ہیں۔
کھوار زبان — چترال کی آواز
کھوار زبان چترال کی ثقافتی شناخت کا ایک اہم ستون ہے۔
اس زبان میں صدیوں کی داستانیں، لوک روایات، کہاوتیں، شاعری، گیت اور انسانی جذبات محفوظ ہیں۔ کھوار شاعری نے چترال کے معاشرے کے دکھ، خوشی، محبت، جدوجہد اور فطرت سے تعلق کو الفاظ عطا کیے ہیں۔
کھوار زبان کے ساتھ چترال کی روایتی موسیقی اور لوک ادب کا گہرا تعلق ہے۔
یہ زبان صرف گفتگو کا ذریعہ نہیں بلکہ چترال کی اجتماعی یادداشت ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کھوار میں مزید کتابیں لکھی جائیں، پرانے ادبی و ثقافتی مواد کو محفوظ کیا جائے، لوک داستانوں کو دستاویزی شکل دی جائے اور نوجوان نسل کو اپنی مادری زبان پڑھنے اور لکھنے کی طرف راغب کیا جائے۔
کالاش ثقافت — ایک منفرد عالمی ورثہ
چترال کی کالاش وادیاں بھی اپنی منفرد ثقافت اور روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں شناخت رکھتی ہیں۔
کالاش برادری کی اپنی زبان، روایتی لباس، موسیقی، تہوار اور مخصوص ثقافتی روایات ہیں۔ ان کی ثقافت چترال کے مجموعی ثقافتی تنوع میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔
کالاش ثقافت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی خطے کی خوبصورتی صرف اس کے قدرتی مناظر میں نہیں بلکہ وہاں بسنے والی مختلف ثقافتی برادریوں کے منفرد طرزِ زندگی میں بھی ہوتی ہے۔
پشتو — ایک عظیم لسانی و ادبی ورثہ
خیبر پختونخوا کی سب سے نمایاں زبانوں میں پشتو شامل ہے۔ پشتو کی اپنی قدیم ادبی روایت، شاعری، لوک ادب، داستانیں اور موسیقی ہیں۔
خوشحال خان خٹک، رحمان بابا اور دیگر عظیم شعراء نے پشتو زبان کو ایک مضبوط ادبی روایت عطا کی۔
پشتون معاشرے کی روایات، جرگہ، حجرہ، مہمان نوازی، روایتی موسیقی اور اجتماعی اقدار بھی اس خطے کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔
پشتو زبان اور پشتون ثقافت کا یہ ورثہ بھی اسی وسیع ثقافتی تنوع کا حصہ ہے جس پر خیبر پختونخوا کو فخر ہونا چاہیے۔
ہندکو — شہروں اور وادیوں کی تاریخی زبان
خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں خصوصاً پشاور، ہزارہ اور دیگر علاقوں میں ہندکو بولنے والی بڑی برادریاں آباد ہیں۔
ہندکو زبان کی بھی اپنی شاعری، لوک داستانیں، محاورے، موسیقی اور ثقافتی روایات ہیں۔
ہندکو ثقافت خیبر پختونخوا کے مجموعی ثقافتی منظرنامے میں ایک خوبصورت رنگ شامل کرتی ہے۔
کوہستانی، شینا، توروالی اور گاؤری زبانیں
خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں مختلف مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ کوہستانی زبانوں، شینا، توروالی اور گاؤری جیسی زبانیں اپنے مخصوص علاقوں کی تاریخ اور ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں۔
ان زبانوں میں مقامی جغرافیہ، قدرتی ماحول، معاشرتی تعلقات اور روایتی علم کے بے شمار پہلو محفوظ ہیں۔
یہ زبانیں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ پہاڑوں میں آباد معاشروں نے اپنی مخصوص ضروریات اور ماحول کے مطابق ایک منفرد ثقافتی دنیا تشکیل دی۔
گوجری اور دیگر زبانیں
خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں گوجری اور دیگر زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ ان زبانوں سے وابستہ برادریوں کی اپنی لوک روایات، موسیقی، داستانیں اور ثقافتی شناخت ہے۔
ہر زبان اس خطے کے ثقافتی نقشے میں ایک منفرد رنگ کی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر ہم ان تمام رنگوں کو محفوظ رکھتے ہیں تو ہمارا ثقافتی گلدستہ مزید خوبصورت اور مضبوط ہوتا ہے۔
زبان صرف بولنے کا ذریعہ نہیں
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں۔
زبان کے اندر ایک قوم کی تاریخ، سوچ، احساس، مزاج، روایتی علم اور اجتماعی یادداشت محفوظ ہوتی ہے۔
جب کوئی زبان کمزور ہوتی ہے تو اس کے ساتھ بہت سا لوک ادب، روایتی علم، کہاوتیں، داستانیں اور ثقافتی یادیں بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔
اسی لیے مادری زبانوں کا تحفظ محض ادبی مسئلہ نہیں بلکہ ثقافتی بقا کا مسئلہ ہے۔
ثقافتوں کا احترام — معاشرتی ہم آہنگی کی بنیاد
خیبر پختونخوا کی خوبصورتی اس بات میں ہے کہ یہاں مختلف زبانیں اور ثقافتیں ایک وسیع معاشرتی ماحول میں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔
پشتون، چترالی، ہزارہ وال، کوہستانی، کالاش اور دیگر ثقافتی برادریوں کی اپنی اپنی شناخت ہے، لیکن یہ تمام شناختیں ایک بڑے انسانی اور قومی رشتے میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
ایک زبان کو دوسری زبان سے برتر سمجھنے کے بجائے ہمیں ہر زبان اور ثقافت کا احترام کرنا چاہیے۔
زبانوں کا تنوع تقسیم نہیں، حسن ہے۔
ثقافتوں کا اختلاف دشمنی نہیں، انسانی تہذیب کی خوبصورتی ہے۔
جدید دور اور ہماری زبانیں
آج کا دور ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ نوجوان دنیا بھر کی زبانوں اور ثقافتوں سے براہ راست جڑ رہے ہیں۔
یہ تبدیلی ہمارے لیے ایک چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔
ہم سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مقامی زبانوں میں مواد تیار کر سکتے ہیں، کھوار اور پشتو شاعری کو دنیا تک پہنچا سکتے ہیں، ہندکو اور دیگر زبانوں کے لوک ادب کو محفوظ کر سکتے ہیں اور بزرگوں کی زبانی روایات کو ویڈیو اور آڈیو کی شکل میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
اگر آج ہم نے اپنے ثقافتی ورثے کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر لیا تو آنے والی نسلیں اپنے ماضی سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جڑی رہیں گی۔
نوجوان نسل کی ذمہ داری
ثقافت کے تحفظ میں سب سے اہم کردار نوجوان نسل ادا کر سکتی ہے۔
والدین بچوں سے مادری زبان میں بات کریں۔
اساتذہ مقامی تاریخ اور ثقافت کو اہمیت دیں۔
ادیب اپنی زبانوں میں لکھیں۔
شاعر مقامی زبانوں کی شاعری کو فروغ دیں۔
صحافی مقامی زبانوں اور ثقافتوں کے مسائل کو اجاگر کریں۔
اور نوجوان سوشل میڈیا کو اپنی زبان اور ثقافت کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔
ہمیں دوسری زبانیں ضرور سیکھنی چاہئیں، کیونکہ دنیا سے رابطے کے لیے یہ ضروری ہے، لیکن اپنی مادری زبان کو بھول جانا ترقی نہیں۔
دنیا کی زبانیں سیکھیں، مگر اپنی زبان نہ بھولیں۔
حکومت اور اداروں کا کردار
مقامی زبانوں اور ثقافتوں کے تحفظ کے لیے حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔
مقامی زبانوں میں کتابوں کی اشاعت، لغات کی تیاری، لوک ادب کی دستاویز بندی، ثقافتی مراکز کا قیام، روایتی موسیقی اور فنون کی سرپرستی اور مقامی تاریخ پر تحقیق کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
تعلیمی اداروں میں بھی مقامی تاریخ، زبان اور ثقافت کے حوالے سے مطالعات اور سرگرمیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ثقافتی ورثہ ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہے
ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ثقافت صرف بزرگوں کی چیز ہے۔
ثقافت ہماری موجودہ شناخت بھی ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کی امانت بھی۔
اگر آج ہم نے اپنی زبانیں، لوک داستانیں، موسیقی، روایتی فنون اور تاریخی روایات محفوظ نہ کیں تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں انہیں صرف کتابوں میں تلاش کریں۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنی ثقافت کو صرف ماضی کی یاد بنانا چاہتے ہیں یا اسے مستقبل کا حصہ بھی بنانا چاہتے ہیں۔
9 اگست کا عالمی یومِ مقامی اقوام ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیا کی اصل خوبصورتی اس کے ثقافتی اور لسانی تنوع میں ہے۔
خیبر پختونخوا اس تنوع کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔ پشتو، کھوار، ہندکو، کالاشہ مون، شینا، توروالی، گاؤری، گوجری، کوہستانی زبانیں اور دیگر مقامی زبانیں اس خطے کی تہذیبی دولت ہیں۔
چترال کی کھوار شاعری ہو یا پشتو کی کلاسیکی شاعری، کالاش کی منفرد ثقافت ہو یا ہندکو کی لوک روایت، کوہستان کے پہاڑی علاقوں کی زبانیں ہوں یا ہزارہ کی ثقافتی روایات—یہ سب ہمارے وسیع ثقافتی منظرنامے کے قیمتی رنگ ہیں۔
ہمیں کسی ایک رنگ کو مٹانے کے بجائے پورے گلدستے کو محفوظ کرنا ہے۔
کیونکہ:
زبان صرف الفاظ نہیں، ایک قوم کی یادداشت ہے۔
ثقافت صرف رسم و رواج نہیں، ایک معاشرے کی شناخت ہے۔
اور
اپنی شناخت کی حفاظت دراصل اپنی تاریخ کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا نام ہے۔
آئیے 9 اگست کے اس دن عہد کریں کہ ہم خیبر پختونخوا کی تمام مقامی زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا احترام کریں گے، ان کے تحفظ اور فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اپنی نئی نسل کو یہ احساس دلائیں گے کہ—
ہماری زبانیں ہماری طاقت ہیں،
ہماری ثقافت ہماری پہچان ہے،
اور ہمارا تنوع ہماری سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔


