مضامین

دادِ بیداد۔۔سکول آؤٹ سورسنگ۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ایک غیر ملکی دوست نے انگریزی اخبار کی دو خبروں کے تراشے بھیج کر میری رائے لینے کی استدعا کی ہے۔ ایک اخبار میں چار کالمی خبر لگی ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضم اضلاع میں سے ایک اہم ضلع خیبر کے اپر باڑہ میں سکول کی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے بچے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی اخبار کے اُسی تاریخ کے دوسرے صفحے کا تراشہ ہے جس میں دو کالمی خبر آگئی ہے کہ موجودہ حکومت سرکاری سکولوں کو معیاری تعلیم اور سکول سے محروم بچوں کو سہولیات دینے کے لیے نجی شعبے کے حوالے کرنے کے ایک مرحلہ وار پروگرام پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ اس خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت چاہتی ہے کہ کوئی بچہ یا بچی سکول سے باہر نہ رہے اور سکول انرولمنٹ زیادہ سے زیادہ ہو۔

غیر ملکی دوست نے یہ تراشے بھیج کر مجھے شرمندہ ضرور کیا مگر میرا جواب بھی اینٹ کے مقابلے میں پتھر والا تھا۔ میں نے جواب میں لکھا کہ یہ سب ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے۔ ناصر کاظمی نے کیا خوب کہا تھا:

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے

سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے

ہمارے ترقیاتی اہداف غیر ملکی طے کرتے ہیں، ہماری سماجی ترجیحات کا فیصلہ غیر ملکیوں کے اشاروں پر ہوتا ہے، اس لیے زندگی کے ہر شعبے میں ملک اور قوم کا برا حال ہے۔ ہماری حکومت کہتی ہے کہ سرکاری سکولوں میں بچوں اور بچیوں کی تعداد روز بروز کم ہو رہی ہے، اس لیے جن سکولوں میں طلبہ کی تعداد مطلوبہ معیار سے کم ہے ایسے سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے اور یہ کام تدریجی طور پر اگلے چند سالوں تک (اگر ہم رہے) تو جاری رہے گا۔

اس پالیسی کا سرکاری اور دفتری نام نجکاری یا پرائیویٹائزیشن نہیں، اس کا پیارا سا نام رکھا گیا ہے: نکال باہر کرنا، ٹھیکے پر دینا یا باہر والوں کے ساتھ بیع نامہ لکھنا۔ اس کا انگریزی ترجمہ ہے “آؤٹ سورسنگ” (Outsourcing)۔ فیض احمد فیض نے کیا بات کہی ہے:

ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبانِ چمن

تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام

میرے ارد گرد بھی ایسے سکول ہیں جن کو نکال باہر (Outsourcing) کیا گیا۔ سکول کے اساتذہ دوسرے سکولوں میں تبدیل ہوئے، ایک آدھ استاد باہر سے آنے والے انجان اور ان پڑھ ٹھیکہ دار کے ساتھ بطور معاون یا منشی کام کرتا ہے۔ ٹھیکہ دار نے گاؤں میں مڈل اور میٹرک فیل یا پاس بے روزگاروں کو چار پانچ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا ہوا ہے۔ ان کی ڈیوٹی پڑھائی نہیں، گاؤں کے بچوں اور بچیوں کو گھیر کر یا لالچ دے کر سکول میں داخل کرانا ہے۔

ٹھیکہ دار کے پاس معیار دور کی بات، غیر معیاری تعلیم کا بھی کوئی منصوبہ یا پلان وغیرہ نہیں ہے۔ میں نے تین سکولوں کا سرسری جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ انرولمنٹ میں کمی کی بنیادی وجہ بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے۔ قریبی گاؤں کے نجی سکول میں دوسری جماعت سے آڈیو ویژول تدریس کے آلات فراہم کیے گئے ہیں، پروجیکٹر لگے ہوئے ہیں، ملٹی میڈیا دستیاب ہے، اس لیے بچے ضد کرکے وہاں جانا چاہتے ہیں کیونکہ سرکاری سکول میں سفید بورڈ اور مارکر بھی استاد کے پاس نہیں، ٹوٹا پھوٹا فرنیچر اور فرش ہے۔ اپر باڑہ، ضلع خیبر کا میدانی سکول بھی اس سے بہتر ہوگا۔

بات یہ ہے کہ پالیسی بنانے والوں نے بیس لائن سروے نہیں کیا، انرولمنٹ کم ہونے کی بنیادی وجہ کو طشت از بام نہیں کیا۔ دس سال بعد پتہ لگے گا کہ ٹھیکہ دار کے پاس بچوں کو پنجرے کے اندر لانے کے بعد طوطے کا سبق ان کو پڑھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا، اس لیے پالیسی ایک بار پھر ناکام ہوئی۔

اے وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button