تازہ ترین

موجودہ دور میں اکثر مالیاتی فراڈ، جعلی لنکس، فشنگ اور دھوکہ دہی کے واقعات سوشل میڈیا کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں/منیجرنیشنل بینک عدنان زین العابدین

چترال(ڈیلی چترال نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خصوصی انیشی ایٹو کے تحت نیشنل بینک آف پاکستان مین برانچ چترال کے تعاون سے گورنمنٹ ڈگری کالج لوئر چترال کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ و طالبات کے لیے ”نیشنل فنانشل لٹریسی اینڈ بینکنگ آگاہی“ کے عنوان پر ایک روزہ آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد نوجوان نسل میں مالی خواندگی، جدید بینکاری نظام، ڈیجیٹل بینکنگ، سائبر سیکیورٹی اور ذمہ دارانہ مالی رویوں کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔

اس موقع پر سیشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے نیشنل بینک آف پاکستان چترال کے منیجر اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ عدنان زین العابدین نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 20 جنوری 2012 کو ملک کا پہلا ”نیشنل فنانشل لٹریسی پروگرام“ (NFLP) شروع کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد مالیاتی تعلیم کو فروغ دے کر ملک میں جامع معاشی ترقی اور مالی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت مرحلہ وار تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کی جا رہی ہے تاکہ متوسط طبقے کے گھرانوں اور نوجوان نسل کو مالی معاملات کی بہتر سمجھ بوجھ فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالی خواندگی افراد کو باخبر مالی فیصلے کرنے، آمدنی اور اخراجات کو متوازن رکھنے، بچت کی عادت اپنانے اور ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع کو محفوظ انداز میں استعمال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ بینکاری آگاہی نہ صرف جدید مالی خدمات کے محفوظ استعمال کو فروغ دیتی ہے بلکہ نقد رقم کے غیر محفوظ استعمال پر انحصار کو بھی کم کرتی ہے۔ منیجر عدنان زین العابدین نے سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق خصوصی آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں اکثر مالیاتی فراڈ، جعلی لنکس، فشنگ اور دھوکہ دہی کے واقعات سوشل میڈیا کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں، لہٰذا نوجوانوں کو اس حوالے سے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کو مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کریں، غیر مصدقہ معلومات، مشکوک لنکس اور جعلی اکاؤنٹس سے اجتناب کریں تاکہ سائبر جرائم اور مالی نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔

سیمینار کے دوران نیشنل بینک آف پاکستان کے منیجر آپریشن ماجد خان اور اعتماد اسلامی برانچ کے منیجر محمد شریف نے طلبہ کو بینکاری کے مختلف شعبوں، مالیاتی خواندگی، جدید ڈیجیٹل بینکاری، بچت اسکیموں، جمع پونجی اور فنانسنگ مصنوعات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے نیشنل بینک آف پاکستان کی مختلف بینکاری مصنوعات اور خدمات کا تعارف بھی پیش کیا۔ مقررین نے طلبہ کو بینکاری کے شعبے میں کیریئر اور انٹرن شپ کے مواقع سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ نوجوان نسل کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس نوعیت کے آگاہی پروگرام انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

سائبر سیکیورٹی سے متعلق خصوصی سیشن میں طلبہ کو فشنگ ای میلز، جعلی ایس ایم ایس، فراڈ کالز، سوشل میڈیا اسکیمز، جعلی ایپس اور ویب سائٹس کے خطرات سے آگاہ کیا گیا۔ مقررین نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کسی کے ساتھ OTP، PIN یا پاس ورڈ شیئر نہ کریں، مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں، موبائل فون میں اسکرین لاک اور بائیومیٹرک سیکیورٹی فعال رکھیں اور ATM استعمال کرتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اس کے علاوہ آن لائن بینکنگ کے لیے صرف سرکاری اور مستند ایپس استعمال کرنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری طور پر بینک ہیلپ لائن کو اطلاع دینے کی ہدایت بھی کی گئی۔

اس موقع پر گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کے پرنسپل فضل الحق، پروفیسر غنی الرحمن، پروفیسر شفیق الرحمن اور دیگر  نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور نیشنل بینک آف پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کے لیے مالیاتی معاملات، ڈیجیٹل بینکاری اور سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیمی اداروں اور بینکاری شعبے کے درمیان اس طرح کے رابطے نوجوان نسل کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

سیمینار میں طلبہ و طالبات نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا اور سوال و جواب کے سیشن کے دوران بینکاری اور مالیاتی امور سے متعلق مختلف سوالات کیے، جن کے مقررین نے تفصیلی جوابات دیے۔ پروگرام کے اختتام پرنیشنل بینک آف چترال کی جانب سے گورنمنٹ ڈگری کالج کے پرنسپل، شعبہ اکنامکس کے سربراہ اور پبلک لائبریری کے انچارج کو تعریفی شیلڈزسے نوازا گیا۔ مقررین نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی تعلیمی اداروں اور بینکاری شعبے کے مابین اس نوعیت کی مشترکہ سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button