اسلام آباد سے لاپتہ نوجوان نورالدین بازیاب، اغواء نہیں ہوا بلکہ خودساختہ ڈرامہ تھا، ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان کی پریس کانفرنس

رحیم یار خان(م،ڈ) اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے چترال سے تعلق رکھنے والے نوجوان نورالدین کو رحیم یار خان پولیس نے بازیاب کرکے میڈیا کے سامنے پیش کردیا، جبکہ پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اغواء نہیں بلکہ خودساختہ گمشدگی کا واقعہ تھا۔ نورالدین کے ساتھ اس کے تین دیگر دوستوں کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
اتوار کے روز ڈی پی او رحیم یار خان اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان نے ڈی پی او آفس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یکم مئی کو اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ کی حدود سے نورالدین کی گمشدگی رپورٹ ہوئی تھی۔ بعد ازاں ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں اسے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے قبضے میں دکھایا گیا اور رہائی کے بدلے 5 کروڑ روپے تاوان طلب کیا گیا تھا۔
ڈی پی او نے بریفنگ میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق نورالدین خود کراچی گیا تھا اور تین چار دنوں تک "فقیرہ گوٹھ” میں رہ رہا تھا، وہاں اس کے بعض دوست موجود تھے جن کا تعلق کچے کے علاقے سے تھا۔
ان کے بقول نورالدین انہی دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کی غرض سے کچے کے علاقے گیا اور وہاں اپنے اغواء کی جعلی ویڈیو بنا کر اپنے ہی نمبر سے مختلف افراد کو ارسال کی۔ یہ ویڈیو 13 مئی کو سامنے آئی اور اسی روز کے دیگر فوٹیجز میں نورالدین کچے کے علاقے میں اپنے دوستوں کے ساتھ گھوم رہا ہوتا ہے۔ ڈی پی او نے اسی روز کچے کے علاقے میں نورالدین اور اسکے دوستوں کی کشتی میں گھومنے کی ویڈیو بھی صحافیوں کو دکھا دیا۔
انہوں نے واضح انداز میں بتا دیا کہ یہ کوئی اغواء کا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک ڈرامہ تھا اور اسکا کچے کے علاقے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ویڈیو میں ڈاکوؤں کے روپ میں نظر آنے والے دو افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ جو دوست انہیں کچے لے گیا تھا وہ بھی گرفتار ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران پولیس نے اسلام آباد سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج، کچے کے علاقے میں کشتیوں کے ذریعے گھومنے پھرنے کی ویڈیوز، اور نورالدین پر مبینہ تشدد کی ریکارڈنگ بھی صحافیوں کو دکھائی۔
ڈی پی او رحیم یار خان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ رحیم یار خان اور راجن پور کے کچے کے علاقوں میں امن بحال ہوچکا ہے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی گئی ہیں اور متعدد خطرناک ملزمان سرنڈر کرچکے ہیں۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان نے کہا کہ پنجاب حکومت کچے کے علاقوں کی ترقی، امن و امان کے قیام اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ تاثر پیدا ہونے لگا تھا کہ کچے کا علاقہ جرائم کی آماجگاہ ہے، تاہم تحقیقات سے واضح ہوگیا ہے کہ یہ اغواء کا نہیں بلکہ خود کو دانستہ طور پر اغواء شدہ ظاہر کرنے کا معاملہ تھا۔



