داد بیداد۔۔۔۔کھوار کی قدیم شاعری۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ہر زبان کی ترقی کا آغاز شاعری سے ہوا ہے دنیا کی تمام زبانوں میں شاعری پہلے آئی کہا نی بعدمیں پیدا ہوئی ان سب کو ضر ب ا لا مثال اور پہیلیوں کے ساتھ یک جا کر کے لو ک روایت، لو ک ادب یا لوک ورثہ کا نا م دیا جا تا ہے تما م زبانوں کے لو ک ورثہ کی مشترک بات یہ ہے کہ ادب کا یہ صنف پہلے تحریری صورت میں منظر عام پر نہیں آیا، زبانی مشہور ہوا پھر زبانی ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوا کسی زبان کا لو ک ورثہ 6ہزار سالوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا آیا کسی زبان کا لو ک ادب 3ہزار سالوں سے اسی طرح غیر تحریری صورت میں ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوا شاعری گیتوں کی صورت میں مقا می فنکا روں کے ذریعے محفوظ ہوتی رہی، نثری ادب کو ہر زبان کے روا یتی داستان گویا قصہ خواں ملے داستان گوئی یا قصہ خوانی کے ذریعے ایسے ادب پا رے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے یہاں تک کہ لکھنے کا زمانہ آیا یہ زما نہ دنیا کے دوسرے حصوں میں دو ہزار سال پہلے آیا گلگت، کوہستان، سوات، چترال اور وزیر ستان جیسی پہا ڑی وادیوں میں 200سال پہلے آیا، اس سے پہلے ان وادیوں کا لو ک ادب تحریر میں نہیں آیا تھا خا ص طور پر بیسویں صدی میں یعنی 1903سے 1915تک یو رپی محققین نے بر صغیر کے کونے کو نے سے لوک ورثہ کے نمو نے اکھٹے کئے پا کستانی زبانوں کی تر قی کے سلسلے میں تحقیق کرنے والوں کو سب سے پہلے کسی جرمن، بر طانوی یا فرانسیسی لکھا ری کا نا م ملتا ہے ہماری قومی زبان اردو کی تاریخ سے اگر فورٹ ولیم کا لج اور ڈاکٹر جان گلکرسٹ کا نا م نکال دیا جا ئے تو کچھ بھی نہیں بچتا پنجا بی، بلو چی، سندھی، پشتواور دیگر زبانوں پر جار ج ابراہام گریرسن کام نہ کر تا تو کسی زبان کی تاریخ ہاتھ نہ آتی اس طرح شینا، بلتی، بروشسکی اور کھوار زبانوں پر لوریمراور ابریان نے بنیا دی مواد فراہم کیا یہ بیسویں صدی کے محقیقین تھے اکیسویں صدی میں آڈیو، ویڈیو ریکارڈ نگ اور کتا بی صورت میں لو ک ادب کی اشاعت کے وسائل و ذرائع عام ہو چکے ہیں خیبر پختونخوا کی 27ماردی زبانوں کا لو ک ادب کتابی صورت میں منظر عام پر آرہا ہے معروف کمپیر، براڈ کا سٹر، شاعر، محقق اور ادیب قاضی عنا یت جلیل عنبر کی کتاب”وادی چترال کے سدا بہار کھوار گیت“ اسی سلسلے کی خوب صورت اور گراں قدر کڑی ہے جسے فورم فار لینگویج انی شے ٹیو (FLI) نے مہا رت اور آب و تاب کے ساتھ شائع کیا ہے، نا م کی منا سبت سے یہ گیتوں کی کتاب ہے مگر اس کے اندر جو متن ہمیں ملتا ہے وہ تاریخ، ثقافت اور تہذیب و تمدن کی بدلتی حالت کا احا طہ کر تا ہے یوں اس کی جا معیت محض گیتوں تک محدود نہیں علمی اور تاریخی اہمیت بھی اپنی جگہ قابل ذکر ہے کتاب میں نا ن دوشی، لو ک ژور، ڈوک یخدیز، لواہ، یو رمس بی بی، بروازی، اشور جان، ہوپ گئیے شب دراز، پھستوک، نو ہتک اور نا نو بیگال جیسے کئی دیگر مشہور قدیم گیتوں کو جگہ دی گئی ہے وہاں ما ضی قریب کے مقبول گیت بھی شامل کئیے گئے ہیں، پرانے گیتوں کے شعراء گمنا م گذرے جبکہ ما ضی قریب کے گیتوں میں ہر گیت کا شاعر معلوم اور مشہور ہے لیکن مصنف نے یکسا نیت کو بر قرار رکھنے کے لئے عنوانات میں قدیم گیتوں کے نا م اور نئے گیتوں کے مصر عے یا ٹکڑے لا کر گیتوں کو امر کر دیا ہے مثال کے طور پر مہ شہرمصرو جانان، ہائے مہ نا میرو رویان، بوسونی کوہتو کی ہائے، تو یو نا نون طبیب، دوستوسار جداگی، اور ہیہ اسکوٹو قاعدہ وغیرہ مصنف نے کمال عرق ریزی سے کا م لیکر تحقیق کیا ہے کتاب کی وقعت میں اور اضا فہ کرنے کے لئے گیتوں کا اردو اور انگریزی ترجمہ بھی دیدیا ہے اس کے علا وہ چترال کی تاریخ، کھوار کی تاریخ اور قدیم گیتوں کا پس منظر بھی بیان کیا ہے کتاب کی ایک اور خصو صیت یہ ہے کہ اس میں شاعر ات یعنی خواتین نغمہ نگاروں کے لئے الگ گو شہ بھی رکھا گیا ہے قاضی عنا یت جلیل عنبر نے کتاب کا جا مع اور کامل نا م رکھا ہے ”وادی چترال کے سدا بہار کھوار گیت“


