داد بیداد۔۔۔۔۔اعلیٰ تعلیم کے تا بوت میں۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

تازہ خبر آئی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے مجا ز ادارے ہائیر ایجو کیش کمیش ے ایک سال میں دو ڈگریوں کے لئے بیک وقت داخلہ کر ے اور بیک وقت دو ڈگریاں لی ے کی اجا زت دیدی ہے یز جواء ٹ ڈگری کا یا پرو گرام بھی متعارف کر ایا ہے جو لوگ گذشتہ صف صدی سے اعلیٰ تعلیم کے مختلف شعبوں سے وابستہ رہے ا کا کہ ا ہے کہ ہائیر ایجو کیش کمیش ے اپ ے سابقہ مت ا زعہ فیصلوں کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کا تابوت تیا کیا تھا مو جو دہ حکم ا مہ اس تا بوت میں آخری کیل ٹھو ک ے کے مترا دف ہے ہائیر ایجو کیش کمیش سے پہلے یو یور سٹی گرا ٹس کمیش ہوتا تھا جو اعلیٰ تعلیم کو عالمی معیار سے ہم آہ گ کر ے کے لئے پا لیسی ب ا تا تھا اور پا لیسی پر عمل در آمد کر واتا تھا اُس کے تحت سرکاری جا معات کو تد ریسی، تحقیقی اور تعمیرا تی م صو بوں کے لئے گرا ٹ ملتے تھے مختلف یو یور سٹیوں میں عالمی معیار کے س ٹر آف ایکسی ل س قائم ہو تے تھے 2000ء میں یو یور سٹی گرا ٹس کو توڑ کر اس کے ملبے پر ہائیر ایجو کیش کمیش کی ب یاد رکھ دی گئی 2002 سے 2008تک ہا ئیر ایجو کیش کمیش ے شاید یک یتی سے یا ہو سکتا ہے بد یتی سے دو بڑے فیصلے کئے ایک فیصلہ یہ تھا کہ یو یور سٹیوں کی فیکلٹی کو ترقی کے لئے اس وقت تک اہل ہیں گردا ا جائے گا جب تک ا کے پا چ سے لیکر پ درہ تک تحقیقی مقالے کسی مست د جریدے میں شائع ہیں ہو گے، اس کا تیجہ یہ کلا کہ فیکلٹی ے ”ا اہلی کی تلوار“ سے بچ ے کے لئے دو مبر تحقیقی کا موں کو دو مبر جریدوں میں شائع کر وا کر شرط پوری کر ا شروع کیا اس کا سب سے آسا شارٹ کٹ یہ تھا کہ پہلے دو مبر جرید ے کو رجسٹر یش کے آب زم زم میں دھو لو، اس کے بعد طلباء اور طالبات کے لکھے ہوئے ٹرم پیپرز پر اپ ا مبارک ا م چسپاں کر کے اس جریدے میں چھپوا لو، بلکہ ایک ٹرم پیپر کے اوپر دو دو اور تی ا موں کو شریک مص ف ب ا کر چسپاں کرو پھر تر قی کی کھلی بو لی میں جا کر اپ ا اُلو سیدھا کرو سی یار ٹی اور تدریسی کار کر دگی کو پس پشت ڈال کر دو مبری کے ذریعے ترقی کے اس فارمولے ے جا معات کی علمی، تعلیمی، تد ریسی اور تحقیقی فضا کو مکدر کر دیا ہائیر ایجو کیش کمیش کا دوسرا مت ا زعہ حکم سمسٹر سسٹم کا یکد م فاذ اور بی ایس پرو گرام کا فوری اجرا تھا ایک طرف دو مبری کے ذریعے سی ئیر فیکلٹی آگئی، دوسری طرف ا کے ہا تھ میں سمسٹر سسٹم کا ہتھیار آگیا دوسالہ گریجو یش کی جگہ چار سالہ گریجو یش پرو گرام آیا، ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے بے شمار دروازے کھل گئے چ ا چہ اعلیٰ تعلیم کا معیار روز بروز گرتا چلا گیا چار سالہ پرو گرام میں ڈگری لی ے والا گریجو یٹ اپ ے مضمو کی اے بی سی سے واقف ہیں ہوتا اگر ا س کے ٹرا سکرپٹ دیکھے جا ئیں تو لگتا ہے کہ گولڈ میڈل کا حقدار ہے ایم فل اور پی ایچ ڈی سکا لر کا سپر وائزر چھ مہی وں میں ایک د بھی اس کو گھ ٹہ بھر وقت ہیں دیتا، کہتا ہے میرے پاس پ درہ سکا لر ہیں کس کس کو وقت دیدوں؟معیار پرمقدار کو فوقیت حا صل ہوئی ہے، چ ا چہ تحقیقی مقالے بازار میں سستے داموں دستیاب ہیں، پیسہ دو، مقا لہ لے لو اُس پر اپ ا ا م چڑھاؤ اور ڈگری لے لو، کلا س روم کا تقدس پا مال ہوا ہے امتحا کا ام برائے ا م رہ گیا ہے، استاد کے ا م سے عزت اور عظمت کا جو تصور وابستہ تھا وہ کہیں ظر ہیں آتا، اب یا حکم ا مہ اس تعلیمی زوال اور افرا تفری کا تتمہ ثا بت ہوگا مو جو دہ حا لات میں سرکاری اور جی یو یور سٹیوں کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ما ہا ہ کلا س لگتی ہے، اگر بیک وقت دو ڈگریوں کی اجا زت دی گئی تو مہی ے میں ایک کلاس بھی ہیں لگے گی جواء ٹ ڈگری پرو گرام ا ہی اداروں میں چلا یا گیا تو ”دو ملا وں میں مر غی حرام“ والا معا ملہ ہو گا اعلیٰ تعلیم کا ہر شعبہ کل وقتی مح ت کا متقاضی ہے متعی وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر ے کا قا و ہی غیر قا و ی ہے ایسا لگتا ہے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی جو بر بادی 2001میں شروع ہوئی تھی 26سالوں میں وہ زوال کی آخری حدود کو چھو ے والی ہے اس لئے ڈبل ڈگری اور جواء ٹ ڈگری کے ا در شاہی فرما کو اعلیٰ تعلیم کے تابوت میں آخری کیل کہا جا تا ہے۔


