یادِ رفتگاں: چترال کا بے لوث مسیحا، ڈاکٹر ضیاء اللہ خان مرحوم تحریر: …..بشیر حسین آزاد۔۔

”تیرے جانے کے بعد تیری یاد کے مصداق، وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں بسے ہوئے ہیں۔”
انسان تو دنیا میں بہت آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن تاریخ صرف انھی کے نام کو زندہ رکھتی ہے جو اپنی زندگی انسانیت کی بے لوث خدمت کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ چترال کی زرخیز مٹی نے ایسے ہی ایک مخلص، ہمدرد اور عظیم انسان کو جنم دیا تھا جنہیں دنیا ڈاکٹر ضیاء اللہ خان دیوان بیگی (ڈاکٹر خان) کے نام سے جانتی ہے۔ وہ صحیح معنوں میں ایک "مسیحا” اور خدائی خدمتگار تھے، جنہوں نے ڈاکٹری کے مقدس پیشے کو کبھی کاروبار نہیں بننے دیا، بلکہ اسے عبادت اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا۔ آج 25 مئی کو ان کی تیسری برسی کے موقع پر پورا چترال انہیں سسکتی آنکھوں اور نم آلود دل کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کررہا ہے۔
ڈاکٹر ضیاء اللہ خان مرحوم کا تعلق چترال کے معروف اور معزز دیوان بیگی خاندان سے تھا۔ وہ سابق چیئرمین حاجی محمد اللہ خان مرحوم کے بڑے بیٹے اور شفیق اللہ خان و رفیق اللہ خان کے بھائی تھے۔ ان کے والد محترم بھی اپنی سخاوت، عوامی خدمات اور غریب پروری کی وجہ سے علاقے بھر میں "چیئرمین” کے نام سے بے حد مقبول تھے۔ ڈاکٹر ضیاء اللہ خان کو خدمت کا یہ جذبہ ورثے میں ملا تھا۔ ان کے پاس مال، جائیداد اور خاندانی وجاہت کی کوئی کمی نہ تھی، وہ چاہتے تو گھر بیٹھے انتہائی پرسکون اور آسائشوں سے بھرپور زندگی گزار سکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ انسانیت کے نام کر دیا۔
ڈاکٹر ضیاء اللہ خان نیشنل پروگرام برائے لیڈی ہیلتھ ورکرز (LHW) کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ وہ ایک بہترین اور فرض شناس افسر تھے۔ چترال کی جغرافیائی مشکلات اور موسم کی شدت (شدید برف باری اور سیلابی حالات) کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے فرائض میں کوتاہی نہیں برتی اور دور دراز علاقوں میں جا کر اپنی ڈیوٹی ہمیشہ انتہائی خوش اسلوبی سے نبھائی۔
ان کا اصل اوج ان کی نجی زندگی میں نظر آتا تھا۔ انہوں نے کلینک تو قائم کیا، لیکن اس کا مقصد پیسہ کمانا ہرگز نہیں تھا، وہ کسی بھی مریض سے فیس نہیں لیتے تھے۔ وہ غریب اور نادار مریضوں کا نہ صرف بالکل مفت علاج کرتے، بلکہ مستحق مریضوں کو ادویات بھی اپنی جیب سے خرید کر دیتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی خاموشی سے غریب مریضوں کی مالی امداد بھی فرما دیا کرتے تھے تاکہ وہ بیماری کے ایام میں معاشی طور پر پریشان نہ ہوں۔ ان کی زندگی کا زیادہ حصہ اسی غریب پروری اور سماجی بہبود میں گزرا، وہ ایک بہترین سوشل ورکر تھے۔ انہوں نے کبھی اپنی دولت یا عہدے پر غرور نہیں کیا اور ہمیشہ عاجزی کا پیکر بنے رہے۔
ڈاکٹر ضیاء اللہ خان مرحوم کی شخصیت کثیر الجہت تھی۔ سماجی اور طبی خدمات کے ساتھ ساتھ وہ کھیلوں کے بھی دلدادہ اور ایک اچھے اسپورٹس مین تھے۔ وہ چترال میں نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے خواہاں تھے اور اسی جذبے کے تحت ڈسٹرکٹ کرکٹ کلب چترال کے صدر بھی رہ چکے تھے۔ انہوں نے چترال میں کرکٹ کی ترقی اور نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔
طبیعت میں بلا کی نرمی، ملنسار مزاج اور ہنس مکھ چہرہ ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔ جو کوئی بھی ان سے ایک بار ملتا، ہمیشہ کے لیے ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ امیر ہو یا غریب، نادار ہو یا کوئی جان پہچان والا، ہر شخص ان سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ وہ صرف جسمانی بیماریوں کا علاج ہی نہیں کرتے تھے، بلکہ اپنے حسنِ اخلاق اور دلاسا دینے والے بول سے مریضوں کا آدھا دکھ ویسے ہی دور کر دیتے تھے۔
اجل کے بے رحم ہاتھوں نے چترال کے اس چمکتے ستارے کو ہم سے بہت جلد چھین لیا۔ 25 مئی 2023 کو حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے یہ عظیم انسان اچانک اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال (DHQ) چترال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی ناگہانی موت کی خبر نے ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ضلع اپر و لوئر چترال سمیت پوری وادی کو سوگوار کر دیا۔ ان کی اس جوانمرگی نے نہ صرف ان کے خاندان کو بلکہ ان کے لاکھوں چاہنے والوں، دوستوں اور مداحوں کو گہرے اور مستقل غم سے آشنا کر دیا۔
آج ڈاکٹر ضیاء اللہ خان مرحوم کو ہم سے بچھڑے تین برس بیت چکے ہیں، لیکن چترال کا بچہ بچہ آج بھی انہیں اچھے الفاظ اور دعاؤں کے ساتھ یاد کرتا ہے۔ جب بھی ان کی غریب پروری، فرض شناسی اور بے لوث خدمات کا تذکرہ ہوتا ہے، تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور ان جیسے مخلص انسان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ کاش کہ وہ ہمیں اتنی جلدی نہ چھوڑ کر جاتے، مگر اللہ کے فیصلوں کے سامنے انسان بے بس ہے۔ چترال کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔
دعا ہے کہ اللہ پاک ڈاکٹر ضیاء اللہ خان مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب کرے اور ان کے پسماندگان کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)


