جہانِ خیال۔۔۔۔پاکستان کے موجودہ سماجی حالات اور عیدِ قربان کا پیغام ۔۔۔۔۔۔تحریر: عتیق الرحمن

عید الاضحیٰ ایک عظیم اسلامی تہوار ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال قربانی، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر مکمل یقین کی روشن یاد ہے۔ یہ عید صرف خوشی یا رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک گہرا دینی، اخلاقی اور روحانی پیغام رکھتی ہے جو انسان کو اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے اور اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
پاکستان کے موجودہ حالات میں اس پیغام کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ملک مہنگائی، بے روزگاری، معاشی دباؤ اور سماجی بے چینی جیسے مسائل سے گزر رہا ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے جبکہ معاشرے میں برداشت اور محبت کی کمی بھی واضح نظر آتی ہے۔ ایسے حالات میں عیدِ قربان ہمیں اصلاحِ معاشرہ اور باہمی ہمدردی کا سبق دیتی ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی قربانی یہ درس دیتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کی جا سکتی ہے۔ یہی جذبہ آج کے معاشرے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ ذاتی مفاد کے بجائے قومی اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جن میں ایثار، قربانی اور اخلاص موجود ہو۔
عید ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ خوشیوں میں دوسروں کو شریک کیا جائے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم دراصل اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات بھی خوشیوں میں برابر کے شریک ہوں۔ اسلام ایک ایسے معاشرے کا تصور دیتا ہے جہاں کوئی شخص محرومی اور احساسِ کمتری کا شکار نہ ہو۔
آج کا بڑا مسئلہ عدم برداشت بھی ہے۔ معمولی اختلاف کو دشمنی بنا دیا جاتا ہے۔ عید ہمیں صبر، برداشت اور حسنِ اخلاق کا درس دیتی ہے تاکہ معاشرہ پرامن اور مضبوط بن سکے۔
اسی طرح کرپشن اور بددیانتی بھی بڑے قومی مسائل ہیں۔ عید کا پیغام یہ ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کو امانت سمجھ کر ادا کرے، کیونکہ دیانت اور سچائی ہی ترقی کی بنیاد ہیں۔
نوجوان نسل ملک کا قیمتی سرمایہ ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ علم، محنت، نظم و ضبط اور کردار سازی کو اپنا شعار بنائیں۔ حضرت اسماعیلؑ کی فرمانبرداری ان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
عید ہمیں خدمتِ خلق کا درس بھی دیتی ہے کہ یتیموں، غریبوں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کا خاص خیال رکھا جائے۔ یہی ایک فلاحی اور اسلامی معاشرے کی پہچان ہے۔
عالمی سطح پر بھی عید ہمیں امتِ مسلمہ کے دکھ درد کا احساس دلاتی ہے، خاص طور پر فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حالت ہمیں بے حسی سے نکلنے کا پیغام دیتی ہے۔
آخر میں عید کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی انا، نفرت، خود غرضی اور بددیانتی کو قربان کریں۔ اگر ہمارا کردار بہتر ہو جائے تو ایک مضبوط، بااخلاق اور خوشحال پاکستان تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
(ڈیلی چترال ان لائن)


