یومِ تکبیر: پاکستان کا ناقابلِ تسخیر دفاع اور عالمِ اسلام کا فخر تحریر:…… بشیر حسین آزاد۔

28 مئی 1998 پاکستان کی تاریخ کا وہ درخشاں اور ناقابلِ فراموش دن ہے جس نے نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا کی تاریخ اور جغرافیائی سیاست کا رخ بدل دیا۔ یہ وہ دن ہے جب چاغی کے پہاڑوں سے اٹھنے والے "اللہ اکبر” کے نعروں نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان اب کوئی تر نوالہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ایٹمی قوت ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت دبا نہیں سکتی۔ یہ دن محض دفاعی صلاحیت کے اظہار کا دن نہیں، بلکہ مسلم امہ کے وقار کی بحالی اور دشمن کی مکاریوں کے خلاف الٰہی مدد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
28 مئی کے دھماکوں نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بنا دیا۔ اس تاریخی کامیابی نے دنیا بھر میں پاکستان کی اہمیت اور قدر و منزلت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ اس سے قبل امتِ مسلمہ کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جو مغربی یا صہیونی جارحیت کے سامنے عسکری اور سائنسی توازن پیدا کر سکے۔ پاکستان کے ایٹم بم کو پوری دنیا کے مسلمانوں نے "اسلامی بم” کے طور پر دیکھا، جس نے عالمِ اسلام کے سر کو فخر سے بلند کر دیا۔ آج اسلامی ممالک کے مابین پاکستان کو جو ممتاز مقام اور اہمیت حاصل ہے، وہ اسی ایٹمی صلاحیت کی بدولت ہے، کیونکہ پاکستان کو مسلم امہ کی عسکری و دفاعی ڈھال تصور کیا جاتا ہے۔
برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارا روایتی حریف ہمیشہ پاکستان کو مٹانے اور اسے نقصان پہنچانے کے درپے رہا ہے۔ رقبے اور آبادی میں بڑا ہونے کے زعم میں دشمن نے ہمیشہ جارحیت کی کوشش کی۔ مئی 1998 میں جب بھارت نے پوکران میں ایٹمی دھماکے کر کے خطے کا توازن بگاڑنے اور پاکستان پر رعب جمانے کی کوشش کی، تو پاکستان کے پاس اپنی بقا کے لیے اس کا منہ توڑ جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ 28 مئی کے 5 کامیاب ایٹمی دھماکوں نے دشمن کے اکھنڈ بھارت کے خواب اور اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ اس ایٹمی ردِعمل نے دشمن کی ہر قسم کی مہم جوئی اور شکست و ریخت کی سازشوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ یہ بم کسی پر حملے کے لیے نہیں، بلکہ دشمن کی مہم جوئی اور جارحانہ عزائم کو روکنے (Deterrence) کا بہترین ذریعہ ثابت ہوا۔
مئی 1998 کا وہ وقت پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا کڑا امتحان تھا جہاں ایک طرف ملک کی بقا کا سوال تھا اور دوسری طرف عالمی طاقتوں کا شدید ترین دباؤ۔ اس نازک ترین موڑ پر پاکستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) برسرِاقتدار تھی اور ملک کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف تھے۔ امریکی صدر سمیت دنیا بھر کے طاقتور ممالک کے سربراہان نے پاکستان کو دھماکے نہ کرنے کے عوض اربوں ڈالرز کی امداد کی پیشکش کی اور ساتھ ہی دھماکے کرنے کی صورت میں بدترین معاشی پابندیوں کی دھمکیاں بھی دیں۔
لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور میاں نواز شریف نے بیرونی دباؤ اور ذاتی و سیاسی مفادات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے، پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان کی امنگوں کے عین مطابق غیرتِ قومی کا سودا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا یہ جرات مندانہ فیصلہ اس بات کی علامت تھا کہ پاکستان ایک خوددار قوم ہے جو اپنی آزادی اور دفاع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ برسرِاقتدار پارٹی کا یہ مخلصانہ اور دلیرانہ فیصلہ تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، جس نے بیرونی امداد کے کشکول کو توڑ کر قوم کو غیرت اور خودداری کا راستہ دکھایا۔
پاکستان کا ایٹمی قوت بننا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں پاکستان پر شدید معاشی اور سیاسی دباؤ ڈال رہی تھیں، اللہ رب العزت کی خصوصی مدد ہمارے شاملِ حال رہی۔ دشمن کی چالبازیوں کے سامنے اللہ پاک کی غیبی نصرت، ہماری غیور پاک فوج کی شبانہ روز چوکسی، اور اس ایٹمی بم کی موجودگی ہمارے ملک کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ پاک فوج نے نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کی بلکہ اس حساس ترین اثاثے کو دشمن کی نظروں سے محفوظ رکھنے کے لیے فولادی سیکیورٹی فراہم کی۔ یہ تکون—اللہ پر ایمان، افواجِ پاکستان کی شجاعت اور ایٹمی صلاحیت—پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بناتی ہے۔
اس عظیم کامیابی کے پیچھے ان گنت راتوں کا جاگنا، خون پسینہ اور بے مثال سائنسی و سیاسی بصیرت شامل تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ان تمام گمنام سائنسدانوں، انجینئرز اور سیکیورٹی اداروں نے اپنی زندگیاں اس مشن کے لیے وقف کر دیں۔
دعا ہے کہ اللہ پاک ان تمام محسنین، سائنسدانوں اور اس وقت کی سیاسی قیادت و رہنماؤں کو جو اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں، جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی قبروں پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ اور جو محسنین اور محبِ وطن رہنما ابھی بقیدِ حیات ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی عمروں، صحت اور رزق میں برکتیں ڈالے اور انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔
یومِ تکبیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قوم یکجا ہو جائے، سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحے پر ہو اور ارادے مضبوط ہوں، تو دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی۔ اللہ پاک ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔ اس ملک کو مٹانے، اس پر میلی نظر ڈالنے اور اس کے خلاف سازشیں کرنے والے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو ہمیشہ شکست و ریخت سے دوچار فرمائے۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو اور ہماری فوج، سائنسدانوں اور عوام کی قربانیوں کو قبول فرماتے ہوئے اس وطنِ عزیز کو امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔ (آمین یا رب العالمین)



