ریشن عوامی احتجاج: چار سالہ جدوجہد کے بعد صبر کا پیمانہ لبریز، حکومت کو 18 جون تک آخری مہلت

ریشن اپر چترال رپورٹ شہزاد احمد اپر چترال کے علاقے ریشن میں عوام اپنے جائز مطالبات کے حق میں گزشتہ چار سال سے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ جلسے، احتجاج اور ہر ممکن فورم پر آواز بلند کرنے کے باوجود حکومتی سطح پر مسئلے کے مستقل اور سنجیدہ حل میں ناکامی نے عوام میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔
ریشن کے عوام گزشتہ ایک ہفتے سے رمداس چوک میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں، جہاں مظاہرین کا مؤقف ہے کہ موجودہ حکومت ان کے مطالبات کو جائز تسلیم تو کرتی ہے، مگر عملی اقدامات کے بجائے بار بار یقین دہانیوں، کمیٹیوں اور تاخیری حربوں سے مسئلے کو طول دیا جا رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس طرزِ عمل نے حکومت اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ریشن پاؤر کمیٹی اور مقامی عوام نے ڈپٹی کمشنر اپر چترال عمران خان اور ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے ترجمان حبیب اللہ کی یقین دہانی پر حکومت کو 18 جون تک مطالبات کے حل کے لیے آخری مہلت دی ہے۔
ریشن پاؤر کمیٹی کے صدر اور دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کے لیے آخری موقع ہے۔ اگر اس بار بھی وعدے وفا نہ ہوئے اور مسئلے کو مزید نظر انداز کیا گیا تو عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے سخت لائحۂ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا عوامی ردِعمل کی مکمل ذمہ داری موجودہ حکومت، منتخب نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلسل نظرانداز کیے جانے والے مسائل نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے اور اب ریشن کے عوام محض زبانی وعدوں کے بجائے عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔



