شندور پولو فیسٹیول 2026 اختتام پذیر، گلگت بلتستان نے 15 سال بعد ٹائٹل اپنے نام کر لیا

شندور(رپورٹ:سیدنذیرحسین شاہ ) چترال اور گلگت بلتستان کے سنگم پر واقع دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں تین روزہ شندور پولو فیسٹیول 2026 رنگارنگ تقریبات، ثقافتی سرگرمیوں اور سنسنی خیز مقابلوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ فیسٹیول کے فائنل میں گلگت بلتستان کی ٹیم نے روایتی حریف چترال کو 5 کے مقابلے میں 6 گول سے شکست دے کر 15 سال بعد شندور پولو کپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
ہفتے کے روز کھیلے گئے فائنل میچ کو ملکی و غیر ملکی سیاحوں سمیت چترال اور گلگت بلتستان سے آنے والے پچیس ہزار سے زائد شائقین نے دیکھا۔ میچ ابتدا ہی سے انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز ثابت ہوا۔ پہلے ہی منٹ میں چترال کے اظہار علی خان نے گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی جبکہ چند منٹ بعد نصیر اللہ نے دوسرا گول اسکور کرکے چترال کی پوزیشن مزید مستحکم کی۔ تاہم گلگت بلتستان کی جانب سے ذوالفقار اور نازید نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکور برابر کردیا۔
پہلے ہاف کے اختتام تک چترال کو 5 کے مقابلے میں 4 گول کی برتری حاصل تھی، تاہم دوسرے ہاف میں گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے مزید دو گول اسکور کیے جبکہ چترال صرف ایک گول کرنے میں کامیاب رہی۔ یوں میچ کے اختتام پر گلگت بلتستان نے 5 کے مقابلے میں 6 گول سے کامیابی حاصل کرکے شندور پولو کپ اپنے نام کرلیا۔
چترال کی ٹیم کی قیادت اسرار ولی خان نے کی جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں اظہار علی خان، شہزاد احمد شاہ جی، نصیر اللہ، امیر حمزہ اور باب قلی شامل تھے۔ گلگت بلتستان کی ٹیم میں شاہ اعظم، صدام راجی، ذوالفقار، نازید، ناصر اور اسلم شامل تھے۔ چترال کی جانب سے اظہار علی خان نے تین جبکہ شاہ جی اور نصیر اللہ نے ایک ایک گول اسکور کیا۔ گلگت بلتستان کی جانب سے ذوالفقار نے تین، نازید نے دو اور شاہ اعظم نے ایک گول کیا۔
میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے چند کھلاڑی زخمی بھی ہوئے۔ دوسرے ہاف میں چترال کے نصیر اللہ اور ارباب جبکہ گلگت بلتستان کے اسلم اور ناصر انجری کے باعث میچ سے باہر ہوگئے۔ بعد ازاں 11 کور پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری نے کامیاب اور رنر اپ ٹیموں میں ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کیے۔
فیسٹیول کے اختتامی روز شندور میں ثقافتی رنگ بھی عروج پر رہے۔ کیلاشی ڈانس، مختلف بینڈز کی موسیقی، روایتی ثقافتی پروگراموں اور پیرا گلائیڈنگ کے شاندار مظاہروں نے شائقین کو خوب محظوظ کیا۔ مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ نے ملی نغمے پیش کرکے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔
اس سال شندور پولو فیسٹیول کا انعقاد پاک فوج، خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی، چترال اسکاؤٹس اور ضلعی انتظامیہ کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا۔ فیسٹیول کے دوران شندور کے سرسبز میدانوں میں عارضی خیمہ بستیاں قائم کی گئیں جہاں ہزاروں سیاحوں اور شائقین نے قیام کرکے فیسٹیول کی سرگرمیوں سے لطف اٹھایا۔
دوسری جانب اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) نے پہلی مرتبہ شندور میں کال اور فری وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی، جسے شائقین، سیاحوں اور مقامی افراد نے بے حد سراہا۔ اس جدید مواصلاتی سہولت کے ذریعے لوگ اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے مسلسل رابطے میں رہے جبکہ پولو میچز، ثقافتی پروگراموں اور شندور کے دلکش مناظر کی تصاویر اور ویڈیوز فوری طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر تک پہنچائی گئیں۔
فیسٹیول میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ شندور جیسے دور افتادہ مقام پر معیاری فری وائی فائی انٹرنیٹ سروس کی فراہمی ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملا بلکہ شندور فیسٹیول کی عالمی سطح پر تشہیر میں بھی نمایاں مدد ملی۔
انجینئر سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) شعیب کریم نے کہا ہے کہ شندور پولو فیسٹیول کے دوران میڈیا نمائندوں اور دیگر صارفین کو بلا تعطل کال اور فری وائی فائی انٹرنیٹ سروس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایس سی او نے اپنے تکنیکی عملے کو موقع پر تعینات کیا تھا، تاکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو کسی قسم کی دشواری یا رابطے کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کی ٹیم فیسٹیول کے دوران مسلسل نگرانی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتی رہی، جس کے باعث صارفین کو معیاری اور مستحکم انٹرنیٹ سروس میسر رہی۔
شندور فیسٹیول کے موقع پر مختلف اداروں کی جانب سے آگاہی کیمپس اور معلوماتی اسٹالز قائم کیے گئے تھے۔ آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے آگاہی فراہم کی، جبکہ کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کالاش ثقافت، روایات اور مقامی ورثے کے فروغ کے لیے خصوصی اسٹالز سجائے۔ اسی طرح سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن نے جنگلی حیات کے تحفظ، خصوصاً برفانی چیتے اور دیگر نایاب جانوروں کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی کیمپ قائم کیے، جنہیں فیسٹیول میں آنے والے سیاحوں اور شائقین نے بھرپور دلچسپی سے دیکھا۔
قدرتی حسن سے مالا مال شندور ایک بار پھر پاکستان کی سیاحت، ثقافت اور روایات کا مرکز بن گیا۔ فیسٹیول نے نہ صرف کھیلوں کے فروغ بلکہ قومی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور چترال و گلگت بلتستان کے درمیان تاریخی، سماجی اور ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کا واضح پیغام دیا۔














