ہنرمنداں اور ایف ایل آئی کے باہمی تعاون سے مدک لشٹ، چترال کی فارسی زبان، تہذیبی ورثے اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت

مورخہ 8 جون تا 12 جون 2026 مدک لشٹ، چترال میں مدک لشٹی فارسی زبان کے حوالے سے ہنرمندان ایک اہم اور تاریخی ارتھوگرافی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پانچ روزہ ورکشاپ میں زبان، ثقافت اور مقامی شناخت سے متعلق امور پر علمی، تحقیقی اور لسانی بنیادوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ورکشاپ میں ماہرینِ لسانیات، محققین، مقامی قیادت اور کمیونٹی کے نمائندگان نے شرکت کی اور مدک لشٹی فارسی زبان کے رسم الخط (Orthography)، لسانی خصوصیات، تاریخی پس منظر اور ثقافتی اہمیت پر اپنے خیالات اور مشاہدات پیش کیے۔
یہ ورکشاپ کسی حتمی فیصلے کا اختتام نہیں بلکہ ایک طویل اور اجتماعی عمل کا آغاز ہے۔ مدک لشٹی فارسی کی ارتھوگرافی کی تیاری اور اس پر اجتماعی اتفاقِ رائے کے لیے آئندہ دو سے تین سال کے دوران مختلف نشستیں، مشاورتی اجلاس اور تربیتی سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جن میں کمیونٹی کی قیادت، اہلِ علم اور مقامی افراد فعال کردار ادا کریں گے۔
اس عمل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کمیونٹی خود اپنی زبان، ثقافت اور شناخت کے حوالے سے باخبر، تحقیقی اور لسانی اصولوں کی روشنی میں فیصلے کرے۔ ماہرین اور معاون اداروں کا کردار تجاویز، تکنیکی معاونت اور ایک رہنما روڈ میپ فراہم کرنا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ کمیونٹی کی اجتماعی دانش اور قیادت کے ذریعے کیا جائے گا۔
ہم اس تاریخی پیش رفت میں شامل تمام ماہرین، مقامی قیادت، شرکاء اور معاون اداروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے مدک لشٹی فارسی زبان کے تحفظ، فروغ اور آئندہ نسلوں تک منتقلی کے اس اہم سفر میں اپنا کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ یہ ورکشاپ فارم فار لینگویجز اینیشی ایٹو (FLI) اور ہنرمنداں سنٹر فار کلچرل اینڈ کریئیٹو انٹرپرینیورشپ کے باہمی تعاون اور اشتراک سے منعقد کی گئی۔ ایف ایل آئی گزشتہ بائیس برسوں سے خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور دیگر شمالی علاقوں کی مقامی اور غیر مدوّن (Undocumented) زبانوں کی دستاویز بندی، تحقیق، تحفظ اور فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ ادارے کا بنیادی مینڈیٹ مقامی زبانوں کی لسانی دستاویز بندی (Documentation) اور ان کے تحفظ و بقا (Preservation) کو یقینی بنانا ہے۔ جبکہ ہنرمندان بنیادی طور پر ثقافتی مہارتوں، مقامی ورثے اور علاقائی ثقافتی اظہارات کو پائیدار معاشی مواقع میں تبدیل کرنے اور مقامی کمیونٹیز کو بااختیار بنانے کے عزم پر کاربند ہے۔
اس پانچ روزہ ورکشاپ میں اسلام آباد اور چترال سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرینِ لسانیات اور محققین، جن میں محترم نسیم، محترم فرید احمد رضا، پروفیسر ظہور الحق دانش، شاہد ، محترم اعجاز اور محترم شفیق دینار خان شامل تھے، نے کمیونٹی کی قیادت اور شرکاء کے ساتھ اپنے علمی تجربات، مشاہدات اور تحقیقی آرا کا تبادلہ کیا۔
زبان ہماری شناخت کا اہم حصہ ہے، اور اس کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری۔



