جہانِ خیال ۔۔۔۔۔علم و کردار کا روشن مینار: پروفیسر عبد السمیع — فکری بیداری اور تدریسی عظمت کی ایک درخشاں داستان۔۔۔۔۔۔ تحریر: عتیق الرحمن

کچھ شخصیات اپنی زندگی کے محدود دائرے میں سمٹ کر نہیں رہتیں بلکہ وقت کے دھارے میں ایسے نقوش ثبت کرتی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے علم، کردار، اخلاص اور فکری گہرائی کے ذریعے معاشروں کی سمت متعین کرتی ہیں۔ ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیات میں پروفیسر عبد السمیع صاحب کا شمار ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم کی ترویج، کردار سازی اور فکری بیداری کے لیے وقف کر دی۔
یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے تعلیم کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک فکری مشن کے طور پر اپنایا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ ایک باکردار استاد صرف نصاب نہیں پڑھاتا بلکہ نسلوں کی سوچ اور کردار بھی تشکیل دیتا ہے۔
ان کی پیدائش 4 اکتوبر 1947ء کو چترال کے تاریخی علاقے جنگ بازار میں ایک علمی و دینی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد مفتی اعظم حافظ عبد الدیان صاحب اپنے دور کی ممتاز دینی شخصیت تھے۔ بچپن ہی سے انہیں ایسا ماحول میسر آیا جہاں علم، تقویٰ، تہذیب اور دینی شعور زندگی کا حصہ تھے۔ یہی ماحول ان کی شخصیت کی بنیاد بنا اور ان میں سنجیدگی، متانت اور علمی جستجو کو مضبوط کرتا گیا۔
میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول چترال سے پاس کیا۔ عربی زبان، صرف و نحو اور دینی علوم کی ابتدائی تربیت والد محترم سے حاصل کی، جبکہ قرأت کی اصلاح چترال کے معروف عالم دین مولانا اجلال الدین سے لی۔ یوں ان کی شخصیت میں دینی روایت اور جدید علمی رجحان ساتھ ساتھ پروان چڑھتے رہے۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے اسلامیہ کالج پشاور کا رخ کیا، جہاں سے گریجویشن مکمل کی۔ بعد ازاں پشاور یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا، جس نے ان کی فکری وسعت اور علمی گہرائی کو مزید جلا بخشی۔
ابتدائی عملی زندگی کا آغاز محکمہ تعمیرات سے ہوا، مگر تدریس کا فطری رجحان انہیں تعلیم کے میدان میں لے آیا۔ لیکچرار شپ کا امتحان کامیابی سے پاس کرنے کے بعد انہوں نے تدریسی سفر شروع کیا۔ ان کی گفتگو، مطالعہ، اندازِ تدریس اور طلبہ سے تعلق نے انہیں ایک ممتاز استاد بنا دیا۔
ان کی تدریسی زندگی محض نصاب تک محدود نہیں رہی بلکہ کردار سازی اور فکری تربیت ان کا اصل میدان رہا۔ وہ کالج میں ہفتہ وار مختلف موضوعات پر ایک گھنٹے کا خصوصی لیکچر دیا کرتے تھے۔ کالج کے مین ہال میں طلبہ کا شوق اور علمی تشنگی کا یہ عالم تھا کہ وہ تدریسی اوقات سے ایک گھنٹہ پہلے آ کر بیٹھ جاتے اور نہایت انہماک سے ان کی گفتگو سنتے تھے۔
خاکسار کو بھی ان کی شاگردی کا شرف حاصل رہا ہے۔ یہ نسبت میرے لیے صرف تعلیمی تعلق نہیں بلکہ فکری تربیت کا ایک قیمتی باب ہے۔ مجھے ان کی شاگردی کے علاوہ عملی زندگی میں بھی ان کے ساتھ اقامتِ دین کی اشاعت اور جدوجہد میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کے قریب رہ کر ہمیشہ علم، کردار، اخلاص اور فکری بصیرت کا خزانہ پایا۔ کافی عرصے بعد دوبارہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو ایک گھنٹے کی نشست میں ان کی علمی گفتگو، فکری وسعتِ مطالعہ اور گہرے تجزیے سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
سبکدوشی کے بعد بھی اسلامی جمعیت طلبہ، تنظیمِ اساتذہ اور جماعت اسلامی کی علمی و فکری تربیت کے میدان میں ان کی خدمات قابلِ قدر اور قابلِ ستائش ہیں۔ وہ معاشرے کی اصلاح کے لیے خطبہ جمعہ بھی دیا کرتے ہیں۔
ان کی فکری زندگی کا ایک اہم موڑ وہ واقعہ ہے جب انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے بعد وہ ایک روایتی مذہبی سوچ رکھتے تھے۔ ایک مختصر علمی مطالعے نے ان کے ذہن میں موجود کئی سوالات کے جوابات فراہم کیے اور یہی ان کی فکری بیداری کا آغاز ثابت ہوا۔ اس کے بعد ان کا سفر اصلاحِ معاشرہ، اقامتِ دین اور فکری شعور کی طرف بڑھتا گیا۔
انہوں نے سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، حسن البناءؒ، سید قطب شہیدؒ اور امین احسن اصلاحیؒ جیسے اہلِ فکر سے استفادہ کیا اور علمی و فکری حلقوں میں تربیت اور اصلاح کا کردار ادا کیا۔
ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کا اخلاق ہے۔ علم کے باوجود عاجزی، منصب کے باوجود سادگی اور شہرت کے باوجود بے نیازی ان کی پہچان ہے۔
ان کی زندگی کا ایک روشن پہلو سماجی خدمت بھی ہے۔ وہ ہمیشہ خدمتِ خلق، ضرورت مندوں کی مدد اور خصوصاً غریب طلبہ و طالبات کی مالی معاونت میں پیش پیش رہے۔ ان کے نزدیک علم صرف معلومات نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ذریعہ ہے۔
تقریباً 38 برس پر محیط ان کا شاندار تدریسی سفر علم و تربیت کی ایک روشن مثال ہے۔ اپنی علمی، تدریسی اور انتظامی صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ پروفیسر کے منصب تک پہنچے اور گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کے پرنسپل کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ گریڈ 20 میں ریٹائر ہوئے، مگر علم کا سفر ان کی زندگی میں کبھی ختم نہیں ہوا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی علمی و فکری توانائی قابلِ رشک ہے۔ 75 برس کی عمر میں بھی ان کی سوچ میں تازگی، مطالعے میں شوق اور گفتگو میں فکری گہرائی موجود ہے۔ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ اصل جوانی عمر نہیں بلکہ مقصد، شعور اور مثبت فکر کا نام ہے۔
ان کے صاحبزادگان اور صاحبزادیاں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے ایک صاحبزادے ماہر ڈاکٹر ہیں اور برطانیہ کے ایک ممتاز ہسپتال میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے صاحبزادے بھی شعبۂ طب سے وابستہ ہیں اور اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ تیسرے صاحبزادے انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کی صاحبزادیاں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اپنے اپنے میدان میں علم و صلاحیت کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ سب ان کی بہترین تربیت، علمی ماحول اور کردار سازی کا عملی ثبوت ہے۔
آج جب تدریس اکثر محض نصاب اور امتحان تک محدود ہو چکی ہے، ایسی شخصیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل استاد وہ ہے جو ذہن نہیں بلکہ کردار تراشتا ہے، جو معلومات نہیں بلکہ شعور دیتا ہے اور جو وقت نہیں بلکہ نسلیں سنوارتا ہے۔
پروفیسر عبد السمیع صاحب چترال ہی نہیں بلکہ پورے علمی حلقے کا ایک روشن مینار ہیں، جن کی زندگی علم، کردار اور خدمت کا ایسا باب ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا چراغ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، برکت اور درازیِ عمر عطا فرمائے اور ان کے علم و فیض کو ہمیشہ جاری و ساری رکھے۔ آمین۔


