جہانِ خیال……. چترال کی سڑکیں: تجاوزات، غفلت اور ذمہ داری کا سوال تحریر:….. عتیق الرحمن

ڈپٹی کمشنر لوئر چترال، متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومت کی جانب سے تجاوزات کے خلاف اقدامات قابلِ ستائش اور وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ تاہم چترال میں تجاوزات کا مسئلہ صرف بازاروں اور دکانوں تک محدود نہیں، بلکہ پرانی سڑکوں کی سکڑتی حدود اور تعمیراتی سامان کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں بھی سنجیدہ توجہ چاہتی ہیں۔
لوئر چترال سے اپر چترال تک کئی مقامات پر نئی سڑکیں تعمیر ہونے کے بعد پرانی سڑکیں اپنی اصل وسعت کھو چکی ہیں۔ جن راستوں پر کبھی ٹرک آسانی سے گزر سکتے تھے، وہاں آج چھوٹی گاڑیوں کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ دروش سے بونی تک ان پرانی سڑکوں کی اصل حدود کی بحالی ضروری ہے۔
ایک مستقل مسئلہ سڑکوں کے کناروں پر بجری، پتھر اور ریت کے ڈھیر بھی ہیں۔ لوگ تعمیرات کے لیے سامان سڑکوں پر ڈال دیتے ہیں، لیکن تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد اسے اٹھانا بھول جاتے ہیں۔ نتیجتاً یہ سامان طویل عرصے تک راستوں میں رکاوٹ بنا رہتا ہے، جس سے ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس عمل کی روک تھام کے لیے واضح ضابطے اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔
ماضی میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے پاس سڑکوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے باقاعدہ ملازمین ہوا کرتے تھے۔ اس نظام کے خاتمے کے بعد سڑکوں کی مستقل دیکھ بھال اور تجاوزات کی روک تھام کے حوالے سے سوالات پیدا ہونا فطری ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ سڑکوں کا ریکارڈ پہلے ہی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے پاس موجود ہے۔ اس ریکارڈ کی بنیاد پر پرانی سڑکوں کی حدود واضح کرکے غیرقانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ڈی سی صاحب اور صوبائی حکومت کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ پرانی سڑکوں کی بحالی، تعمیراتی سامان کی رکاوٹوں کے خاتمے اور مستقل نگرانی کو بھی ترجیح دی جائے۔
سوال یہ ہے کہ جب متعلقہ ادارے اور سڑکوں کا ریکارڈ موجود ہے تو چترال کی سڑکوں کو کشادہ، محفوظ اور تجاوزات سے پاک بنانے کے لیے مؤثر اور مستقل اقدامات کیوں نہ کیے جائیں؟



