تازہ ترین
ضلع کونسل چترال نے29کروڑ 68لاکھ51ہزار روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کردیا جبکہ 3ارب 9کروڑ 74لاکھ روپے اور اخراجات جاریہ کے لئے 14کروڑ روپے کا بجٹ


مختص کئے گئے ہیں۔ تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے اس رقم میں سے 15فیصد مجوزہ کٹوتی ریلیز و اخراجات کی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنے کا امکان ہے ۔ ضلع ناظم نے رواں مالی سال کے لئے ترقیاتی اسکیموں کی بروقت نشاندہی اور متعلقہ فورمز سے ان کی منظوری نہایت ضروری ہے تاکہ مجوزہ ترقیاتی فنڈز ضلع کو صوبائی حکومت سے بغیر کٹوتی کے بروقت استعمال ہوسکے۔ا نہوں نے چترال کی رقبے کی وسعت کے پیش نظر مغزز ارکین کونسل کو ماہانہ 15ہزار روپے اعزازیہ دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ ضلع نائب ناظم اورکونسل کے کنوینر مولانا عبدالشکور کے زیر صدارت منعقدہ بجٹ اجلاس اراکین کونسل مولانا جمشید احمد، رحمت غازی خان،عبداللطیف،کالاش اقلیتی رکن نبیک ایڈوکیٹ، مولانا عبدالرحمن، مولانا محمود الحسن،
محکمہ جات کے سربراہان کی بجٹ اجلاس سے غیر حاضری کی نشاندہی کردی جس پر ضلع ناظم نے کہاکہ سرکاری افسران کو گورنمنٹ سرونٹ ہوکر رہنے میں ہی ان کی بھلائی ہے ۔ا نہوں نے افسران کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ ایک سال سے ہم نے مفاہمت کی راہ اختیار کردی تھی لیکن برداشت اور لچک کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ ہاؤس ضلعے کی چھ لاکھ آبادی کی نمائندہ کرتی ہے اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ رولز آف بزنس ہمارے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور کاروائی پر اتر آئیں تو اس سے ماورا کام بھی علاقے اور اس کے عوام کی خاطر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں وادی لاسپور میں رونما ہونے والی ایک واقعے میں ایک طالبہ کی خودکشی کے واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اراکین کونسل کو یقین دلایا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سز ا دلوایا جائے گا۔ بجٹ پر باقاعدہ بحث شروع کرنے کے لئے کونسل کے کنوینر مولانا عبدالشکور نے منگل کے روز صبح نو بجے تک اجلاس برخاست کردی۔