تازہ ترین
کالاش شخصیات کا گلگت بلتستان کا دورہ


اُن کے اباو اجداد کی مذہبی باقیات ہیں ۔ جن کو شدید خطرہ درپیش ہے ۔ کیونکہ اس ائریے میں پتھروں پر صدیوں پہلے کندہ شدہ ان شبیہوں کی اہمیت کسی نے سمجھا ہے ۔ اور نہ آج تک کالاش قبیلے کے لوگوں کو اس بارے میں علم تھا ۔ یہ ایک کھلا میدان ہے جس میں قریب کھڑے پہاڑ کے دامن میں کندہ شدہ مختلف شکلوں سے مزئین بڑے بڑے پتھر درجنوں کی تعداد میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اور آس پاس کے دیہات کے لوگ اپنے گھروں کی تعمیر اور سرکاری ٹھیکے دار مختلف عمارات اور سڑکوں کی تعمیر کیلئے یہ پتھر توڑ کر لے جاتے ہیں ۔ اور تاریخی و مذہبی نشانات مٹائے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے خد شہ ظاہر کیا ہے ۔ کہ ان پتھروں کے توڑنے کا سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا ۔ تو نہایت کم عرصے میں ایک قدیم تہذیب کے باقیات سے چترال محروم ہو جائے گا ۔ جس سے سب سے بڑا نقصان کالاش قبیلے کو ہو گا ۔ کالاش قبیلے کے مذہبی پیشوا ٖفضل اعظم کالاش اور شیر عالم کالاش نے کہا ہے ۔ کہ کالاش مذہبی تہوار چلم جوشٹ ( چوموس) میں ایک رات ان انسانی اور جانوروں کی شکلوں کی تیاری کیلئے مخصوص ہے ۔ اور آٹے سے ان شکلوں کو تیار کیا جاتا ہے اور انہیں آگ پر پکایا جاتا ہے ۔ اُس کے بعد اُن کو دیوتا کے پاس بھیج دیاجاتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں یہ شکلیں قدرتی طور پر مختلف مقامات میں پتھروں پر خود بخود کندہ ہوجاتی ہیں ۔ اور کالاش مذہب میں یہ شکلیں بہت اہمیت رکھتی ہیں ۔یہی وجہ ہے ۔ کہ کالاش مذہبی مقام جشٹکان کی دیواروں پر کوئلے سے بنائی ہوئی شکلیں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ کالاش لینگویج اینڈ کلچر کمیٹی کے جملہ ممبران قاضی فضل اعظم کالاش ، شیر عالم کالاش اکرام حسین ، خاتون کونسلر اں ملت گل ، جام شالی،اکبر بھٹو کالاش ، رجمنٹ کالاش نے حکومت سے پُزور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ ان نایاب پتھروں کو بچانے کیلئے ان کو ایک چاردیواری کے اندر محفوظ کیا جائے ،