تازہ ترین
بڑھتی ہوئی آبادی اور زمین کی تقسیم در تقسیم نے لوگوں کو خطرناک جگہوں پر تعمیرات پر مجبور کر دیا ہے ۔حاجی مغفرت شاہ


میں 22ہزار مرد اور خواتین ولنٹئیرز کو ضروری تربیت دی گئی ہے۔ جبکہ چترال کے دور دراز علاقوں میں 51مقامات پر سٹاک پائل موجود ہیں جہان ٹینٹ،کمبل اور دیگر ضروری سامان موجود ہیں اچانک قدرتی آفات آنے کی صور ت میں ولنٹئیرز حرکت میں آجاتے ہیں اور سب سے پہلے متاثریں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معروف سکالر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کی وجہ سے ترقیاتی کام بند اور بحالی میں وسائل کا ضیاغ ہو جاتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ولیج کونسل کے نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں سے مل کر پالیسی بناکر بلڈنگ کوڈ اور بلڈنگ کنٹرول پر سختی سے عمل در امد کرائیں۔مہمان خصوصی ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے کہا کہ سول سوسائٹی ارگنائزیشن اور منتخب نمائندے مل کر کام کریں۔ زلزلہ ایک ایسا قدرتی آفت ہے کہ جس کا پیشگی کوئی اطلاع نہیں ہوتا اس لئے ہمیں چاہیے کہ قبل از وقت خود کو تیار رکھنا چاہیے۔تاکہ قدرتی آفات رونما ہونے کے دوران بہتر حکمت عملی کے زریعے نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکتا ہے ۔اس سلسلے میں فوکس پاکستان بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ 2015کے زلزلہ اور سیلاب سے چترال کا انفراسٹرکچر بُری طرح متاثر ہوا ۔اس موقع پر فوکس چترال نے بلدیاتی نمائندوں کے تعاون سے بڑا کام کیا۔ضلع ناظم نے کہا کہ بنظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دوبارہ سروے ولیج ناظمین کے زریعے کیا جائے گا۔ صدارتی خطبہ میں محمد افضل نے کہا کہ محفوظ تعمیرات قدرتی آفات کے دوران فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ہمیں اپنے رہن سہن میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔سرکاری اور پرائیویٹ تعمیرات بلڈنگ کوڈ پر عمل کرتے ہوئے کئے جائیں تو مالی اور جانی نقصانات کے اثرات کم سے کم ہونگے۔ اُنہوں نے فوکس کی کارکردگی کو سراہا۔