تازہ ترین
خواتین کو باعزت روزگار کے مواقعے فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے,تاکہ خواتین زیادہ سے زیادہ با ہنر بنیں۔ رانی عتیقہ


ہنزہ کے جتنے بھی وکیشنل سنٹرز ہیں اُن کو کا میاب بنایا جائے گا ۔ اُن کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے گا تاکہ خواتین کو زندگی کا پہیہ چلانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئیں ۔ رانی عتیقہ نے چائنا سرمایہ کاروں کی بات کرتے ہو ئے کہاکہ ہم نے گلگت میں چائنا سرمایہ کاروں کی وفد سے مطالبہ کیا ہے کہ انرجی سیکٹر میں سر مایہ کاری کریں ۔بجلی کے بغیر سیاحت ، ہو ٹلنگ اور انڈسٹری ترقی ممکن نہیں ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ سی پیک سے گلگت بلتستان میں معاشی انقلاب آئے گا۔ عطاآباد جھیل پر بننے والی پاور پروجیکٹ جلد سی پیک کا حصہ بننے گا ۔اسی طرح سیاحت کے شعبے سے منسلک افراد کیلئے بھی حکومت کام کررہی ہے ۔اس سال دس لاکھ سیاح آئے ہیں تو انشاء اللہ اگلے سال تیس لاکھ سے زائد ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی آمد متواقع ہیں ۔ جس سے بے روز گاری کی شرح میں کمی آئیگی۔ششکٹ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے نمبردار کریم ا لدین نے کہاکہ ہم میر غضنفر علی خان اور رانی عتیقہ غضنفر کے شکر گزار ہیں کہ اُنہوں نے سب سے پہلے وکیشنل سنٹر ہمیں دیا تھا ۔ لیکن سانحہ عطاآباد کی وجہ سے جھیل بننے کے بعد وکیشنل سنٹر ڈوب گیا ۔ اور ششکٹ کے بہت سے لوگ متاثر ہوئے ۔ جسکی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوگئی ۔ رانی عتیقہ غضنفر کو جب پتہ چلا کہ پہلے والا سلائی سنٹر جھیل کی نذر ہوگیا ہے تو اُنہوں نے دوبارہ سے سلائی سنٹر کو فعال بنایااور ہمارے غریب ماؤں ،بہنوں کی مدد کی۔ اور آج سلائی مشینوں کو لیکر ہمارے پاس آئی ہے ۔ ششکٹ کے عوام ان کے شکر گزار ہیں ۔نمبردار اسلم نے وکیشنل ٹریننگ سنٹر کی سرکاری عمارت کا مطالبہ کیا ۔تو اس کے جواب میں خاتون رکن اسمبلی رانی عتیقہ غضنفر نے کہاکہ بحشیت نمبردار آپ زمین تیار کریں ۔ ہم معاوضہ اور بلڈنگ بنائینگے ۔ جس پر عوام ششکٹ نے شکریہ ادا کیا